• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رواں دواں زندگی کو دُھواں دُھواں بننے سے روکنے کیلئےکچھ عملی اقدامات

Updated: December 14, 2025, 12:59 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

گزشتہ ہفتے ہم نے ہمارے معاشرے، خصوصاً تعلیمی اِداروں میں منشیات کے داخلے اور پروان چڑھنے کے سنگین معاملات پرگفتگو کی تھی۔ آج ہم اسی سلسلے کو آگےبڑھاتے ہوئے کچھ اہم باتیں کریں گے کیونکہ یہ معاملہ اب خطرناک شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ آئیے اس سے جُڑے سارے عناصراور اس کے حل پر سرجوڑیں۔

Simply enrolling children in a good school does not solve the problem of their education, but they must also be trained, and for this, it is necessary to pay attention to them. Photo: INN
بچوں کو اچھے اسکول میں داخل کرا د ینے ہی سے ان کی تعلیم کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتابلکہ ان کی تربیت بھی ہونی چاہئے اور اس کیلئے ان پر توجہ دینا ضروری ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ ہفتے ہم نے ہمارے معاشرے، خصوصاً تعلیمی اِداروں میں منشیات کے داخلے اور پروان چڑھنے کے سنگین معاملات پرگفتگو کی تھی۔ آج ہم اسی سلسلے کو آگےبڑھاتے ہوئے کچھ اہم باتیں کریں گے کیونکہ یہ معاملہ اب خطرناک شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ آئیے اس سے جُڑے سارے عناصراور اس کے حل پر سرجوڑیں۔ 
سگریٹ سے آغاز:
(۱) منشیات کی عادت اور پھر اُس کی لت کا آغاز کسی لڑکے کے سگریٹ پینے سے نہیں ہوتا بلکہ جب کسی کم سِن لڑکے کو اُس کے بڑے بوڑھے دکان سے سگریٹ لانے بھیجتے ہیں تب وہ ایک آدھ سگریٹ اپنی جیب میں رکھ لیتا ہے یا پھر جب اُسے سگریٹ جلا کر لانے کیلئے کہا جاتا ہے تب وہ کچن سے باہر آتے آتے ایک دو کش لے لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گھر کے بڑے بزرگ کی سگریٹ یا تمباکو نوشی کی عادت سے وہ نقل کرتا ہے۔ 
(۲) ہم خود بچپن سے سگریٹ کے تعلق سے بعض بڑوں سے یہ سنتے آئے ہیں کہ انہیں سگریٹ کی عادت ہوگئی ہے، یہ جانتے ہوئے بھی سگریٹ ایک مکروہ شے ہے۔ جب ہم نے زندگی کو اپنے طورپرپرکھنا شروع کیا تب ہم پر یہ عقدہ بھی کھلا کہ سگریٹ کافی نقصاندہ شئے ہے۔ جدید سائنس نے ثابت کردیا ہے کہ سگریٹ میں اس درجہ نقصان دہ اور ہولناک اشیاء موجود رہتی ہیں کہ ایک سگریٹ پینے سے انسان کی زندگی ۱۶؍ منٹ تک گھٹ جاتی ہے۔ با الفاظ دیگروہ ایک سگریٹ سے موت کے ۱۶؍منٹ قریب ہوجاتا ہے یعنی اسی طرح وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیتاہے اور رفتہ رفتہ موت کے قریب ہوجاتا ہے۔ 
 عالمی اِدارہ صحت کی۲۰۲۴ء کی رپورٹ کے مطابق ہر سال ۵۵؍ لاکھ سے زائد افراد سگریٹ یا تمباکو نوشی سے ہلاک ہوجاتےہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ 
(۳) آگے چل کر ہمارے نوجوان اپنے دوستوں کو دیکھ کر سگریٹ کو اپنا لیتے ہیں۔ اُس مرحلے میں سگریٹ نوشی اُن کیلئے ایک فیشن بن جاتی ہے۔ دو چار دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر وہ بھی سگریٹ نہیں پیتے تو انھیں ڈر لگا رہتا ہے کہ وہ ’غیر موزوں ‘ کہلایا جائے گا اور اور پھر اُس کے دوستوں کی صحبت میں اٹھنے بیٹھنے کا موقع نہ ملنے کا خدشہ لگا رہتا ہے کیوں کہ وہ تب تک عادی بن چکا ہے: ’’سگریٹ، لائٹر، ماچس‘‘ سننے کا عادی ہو چکا ہے اور صرف سگریٹ، لائٹر، ماچس کیلئے برتاجانے والا تعاون سارے دوستوں کے دِلوں کوبھاتا ہے۔ 
(۴) سگریٹ کے دھوئیں کے کش لینا اور بڑی اسٹائل میں اُنھیں چھوڑنا بڑا ’فن‘ سمجھا جاتا ہے اور سارے تماشائی اُس فن کی بڑی پزیرائی کرتے ہیں حالانکہ اس وقت وہ سارے تماشائی بھول جاتے ہیں کہ سگریٹ نوشی کرنے والا آس پاس بیٹھے ان سارے افراد کو بھی اُتنا ہی نقصان پہنچارہا ہے جتنا اُس سگریٹ پینے والے کوہورہا ہے۔ سگریٹ کا مرحلہ طے کرلینے کے بعد وہ آگے کی جانب بڑھتا ہے۔ 
(۵) سگریٹ یا تمباکو نوشی کے تمام تر نقصانات سے بخوبی واقف ذہین و فطین افراد بھی اس کے عادی بن جاتے ہیں اور اُن میں سے اکثر یہ بھی سمجھنے لگتے ہیں کہ تخلیقی واختراعی ذہن رکھنے والے افراد کو سگریٹ، شراب یا کسی نشے کا سہارا لینا ہی پڑتا ہے اور جب تک ان چیزوں کا سہارا نہیں لیا جا تا تب تک نِت نئے، بہترین اور اختراعی خیالات سگریٹ یا دوسرا کوئی نشہ کرنے کے بعد ہی ذہن سے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں۔ یعنی یہ ذہین، دانشور، اصحاب فہم و بصیرت یہ اعلان کرتے ہیں اور اعتراف بھی کہ کسی غیر معمولی تخلیق یا اختراع کیلئے کسی نہ کسی نشے کا محتاج ہونا پڑتا ہے؟ کوئی دھواں، کوئی مشروب، کوئی سفوف.... آخر کیوں ؟
تحریک کہاں سے شروع کریں ؟
سگریٹ تو صرف ایک مثال ہے، اُس سے زیادہ خطرناک نشہ آور چیزیں آج ہر جگہ حتّیٰ کہ ہمارے محلّوں میں دستیاب ہیں۔ اس کی روک تھام کیلئے ہمارے اقدامات کیا ہوں ؟
(۱) ہمارے اسکولوں کے باہر لازمی طور پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کیلئے تنظیم والدین انتظامیہ کو مجبو ر کریں تاکہ وہا ں پر ڈرگس بیچنے والے سماج دشمن عناصر کی نشاندہی ہو (۲) مشتبہ و مشکوک افراد تعلیمی اِداروں کے اِردگرد نظر آئیں تو والدین بھی اُن پر بھر پورنظر رکھیں۔ 
 (۳)ہر نشہ آور شہ (جیسے کہ یہاں سگریٹ کا دیا گیا ہے) میں شامل انتہا ئی نقصان دہ عناصر کو تصاویر سے طلبہ و والدین کو سمجھایا جائے۔ 
(۴) ہمارے دینی مدارس میں نشہ آور اشیاء کے تعلق سے انسان کے دل، دماغ، صحت اور اس کی پوری شخصیت پر ہونے والے مضر اثرات پر روشنی ڈالیں، مثلاً قرآن کریم اور احادیث نبویؐ کی مدد سے بچّوں کو سمجھایا جائے: (الف)’’ یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں بنایا‘‘ (بچّوں کو بتائیں کہ اللہ کی دی ہوئی وہ بہترین ساخت نشہ آور چیزوں سے کیسے بگڑتی ہے) (ب) ’’شراب وجوا شیطانی کام ہیں، اِن سے بچو‘‘ (ج) ’’ہر نشہ آور شہ حرام ہے‘‘ (د) ’’شرابی، شراب کی حالت میں مومن نہیں رہتا‘‘ (و) ’’ شراب سے بچو، کیوں کہ وہ خباشتوں کی جڑ ہے۔ ‘‘ 
(۵) اساتذہ اور طلبہ محلّوں میں ان جیسے نعروں کو چوراہوں پر آویزاں کریں اور اِس ضمن میں مزید بیداری پیدا کرنے کیلئے ریلیاں وغیرہ نکالیں : (الف)نشہ= موت(ب) نشے سے محبت یعنی زندگی سے نفرت (ج) زندگی اِک بار ہے ملتی، نشہ ہے سب سے بڑی غلطی (د) جب سگریٹ جلتا ہے، کینسر پلتا ہے (و) نشہ زہر ہے، قدرت کا قہر ہے (ہ) دل، جگر، گردے اور دماغ + نشے کی لت سے اُجڑ جاتے یہ سارے باغ (ل) سگریٹ منہ میں جل رہا ہے + سارے اعصاب کُچل رہا ہے۔ 
(۶) نشہ سے بچانے کیلئے اب ہماری بستیوں میں کائونسلنگ سینٹرس کا قیام ضروری ہوگیا ہے۔ محض مقابلہ آرائی کیلئے کہیں اِدارے قائم کرنے کے بجائے ہمیں کائونسلنگ کے مراکز قائم کرنا ہے۔ اپنے علاقے کے ممبر اسمبلی /پارلیمنٹ کے فنڈ سے ان کائونسلنگ مراکز کا قیام کریں اوراُس کے کائونسلرس نیز دیگر عملے کی تنخواہ کیلئے ایک کا رپس فند حاصل کریں۔ سوشل میڈیا پر مریضوں کی تصویر دکھائے بغیر اُن کے جاری علاج کی ویڈیو شیئر کریں۔ 
(۷) ڈپریشن کے شکار نوجوانوں کو والدین فوراً اِن کا ونسلنگ سینٹرس پر لے جائیں تاکہ اُن سے بات چیت کرکے اور کاونسلنگ سے اُنھیں زندگی کی دھارا سے دوبارہ جوڑیں۔ کسی نیم حکیم کے مشورے سے اُنھیں فوراً نیند کی گولیاں دینا شروع نہ کریں۔ 
(۸) ماہر کاؤنسلر نشہ کاشکار ہونے سے پہلے نوجوانوں کو یہ بتائیں کہ وہ یہ مثالوں کے ساتھ سمجھائیں کہ کسی نشہ باز کی ڈکشنری میں یہ الفاظ کبھی نہیں رہتے: عِفّت، عزّت، ناموس، وفا، حیا، خودی، خودداری، شائستگی، اعلیٰ ظرفی، عزتِ نفس، متانت، تحمّل، بُردباری، انکساری، تواضع، خاکساری اور دُوراندیشی وغیرہ، یعنی نشہ باز کے پاس بچا کیا؟کچھ بھی نہیں۔ جی ہاں نشہ انسان کے ہر اچھے وصف کو چھین لیتا ہے۔ 
(۹) جمعہ کیلئے اس موضوع پر خصوصی خطبات تیار کئے جائیں، اُنھیں کتابی شکل دے کر مساجد میں مفت تقسیم کئے جائیں۔ والدین و محلّے کے ذمہ داران یہ ذہن بنائیں کہ جمعہ کی نماز کیلئے ہمارے لڑکے لازمی طور پر ۳۰؍منٹ پہلے پہنچیں تاکہ اُن خطبات سے استفادہ کرسکیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK