• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک کی عدلیہ سے عوام مایوس ہیں، آزادی کو خطرہ ہو تو جج آنکھیں پھیر لیتے ہیں

Updated: January 25, 2026, 12:49 PM IST | Vir Sanghvi | Mumbai

ہندوستان میں لوگ حکومت کے خوف میں کیوں رہتے ہیں؟ ہم اس بات سے کیوں خوفزدہ ہیں کہ انتقامی یا بدعنوان اہلکار ہمارے ساتھ کیا کر سکتے ہیں؟اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ خوف کیوں برقرار ہے یہاں تک کہ جب ہم جانتے ہیں کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔

Umar Khalid has been in jail for over 5 years. Photo: INN
عمر خالد گزشتہ ۵؍ سال سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان میں لوگ حکومت کے خوف میں کیوں رہتے ہیں؟ ہم اس بات سے کیوں خوفزدہ ہیں کہ انتقامی یا بدعنوان اہلکار ہمارے ساتھ کیا کر سکتے ہیں؟اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ خوف کیوں برقرار ہے یہاں تک کہ جب ہم جانتے ہیں کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔ جب ہم جانتے ہیں کہ ہمارے خلاف ثبوت کا ایک ٹکڑا تک نہیں ہے؟

مختصر جواب یہ ہے کہ ہندوستان میں یہ قانونی عمل خود ہی سزا بن جاتا ہے۔ عدالتی نظام اتنا بوجھل ہے کہ مقدمے تک پہنچنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ اور جب ٹرائل بالآخر شروع ہوتا ہے، تو ہم جانتے ہیں کہ استغاثہ کا مقدمہ ثبوت کی کمی کی وجہ سے خارج کر دیا جائے گا، لیکن تب تک ہماری زندگیاں تباہ ہو چکی ہوتی ہیں۔ لاتعداد گھنٹے پولیس اور دیگر حکام کے گرد بھاگتے ہوئے گزرتے ہیں۔ وکلا پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ہماری ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی ملازمتوں یا اپنی آمدنی کا کافی حصہ کھو دیتے ہیں۔یہ نظام شہریوں کے خلاف اور بدعنوان پولیس اہلکاروں کے حق میں اتنا بھاری ہے کہ بے گناہ لوگوں کوکوئی موقع نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھئے: سامراجیت کے لوٹ مار کے اس دور میں کوئی ملک محفوظ نہیں ہے

اقتدار کی جابرانہ طاقت کا ایک بڑا حصہ لوگوں کو عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے سے بہت پہلے قید کرنے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔ اور بہت سے معاملات میں، وہ کبھی مجرم نہیں پائے جاتے ہیں اور نہ ہی ٹرائل تک پہنچتے ہیں۔یہ وہ صورتحال نہیں تھی جس کا تصور ہمارے آئین کے بانیوں نے کیا تھا۔ بے گناہی کا قیاس ان کے نافذ کردہ تقریباً ہر قانون میں مضمر تھا۔ آخری چیز جو یہ استعماری مظلوم عوام چاہتے تھے وہ یہ نہیں تھی کہ ایک جابر سامراجی ریاست کی جگہ ایک گھریلو آمرانہ حکومت ہو۔پھر بھی، کچھ طریقوں سے، ہم بالکل ایسے بن گئے ہیں۔

جو لوگ درحقیقت چھاپے اور گرفتاریاں کرتے ہیں ان کے علاوہ دو اور گروہ بھی ہیں جو ہمیں اس حال تک لے آئے ہیں۔پہلی قسم ان لیڈروں کی ہے جو خوشی سے ایسے قوانین پاس کرتے ہیں جو بے گناہی کے تصور کو اس قدر بری طرح مجروح کرتے ہیں کہ یہ بے معنی ہو جاتا ہے۔یقیناً موجودہ حکمران جماعت کے لیڈران اس کے ذمہ دار ہیں، لیکن کانگریس اور دیگر پارٹیاں بھی اقتدار میں رہتے ہوئے بے گناہی کے قیاس کو ترک کرنے پر آمادہ رہی ہیں۔ اس کے بعد دی گئی وجوہات بلند و بالا نظریات سے بھری ہوئی لگیں۔ کہا گیا کہ یہ جابرانہ قوانین قومی سلامتی کیلئے ضروری ہیں۔ ملک کو منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت تھی۔ ایسے کئی دلائل سامنے رکھے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: جس کی لاٹھی اس کی بھینس !کیا آج ہی کیلئے یہ کہاوت بنائی گئی تھی؟

آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو ان قوانین کی اُس وقت زیادہ سختی سے مخالفت کرنی چاہئے تھی جب ان کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ ایک نیک نیت لیڈر بھی ایک مہربان آمر کی طرح ہوتا ہے۔ کوئی آمر زیادہ دیر تک مہربان نہیں رہتا اور تمام لیڈران اپنے اپنے مفادات کو قوم کے سامنے رکھتے ہیں۔ اسلئے شروع ہی سے  واضح ہونا چاہئے تھا کہ ان قوانین کا غلط استعمال کیا جائے گا۔لیکن ایک وجہ یہ تھی جس کی وجہ سے ہم زیادہ فکر مند نہیں تھے  جتنی کہ ہونی چاہئے تھی کیونکہ  ہمیں عدلیہ پر بھروسہ تھا۔ ہم سمجھتے تھے کہ جج ہماری آزادی کا تحفظ کریں گے اور شہریوں کو ترجیح دیں گے۔لیکن اب، یہ تصور اتنا پرانا اور بھولا لگتا ہے کہ یہ بچوں کی پریوں کی کہانی کی طرح مضحکہ خیز لگنے لگا ہے۔

اکثر، عدلیہ عام شہریوں کو مایوس کرتی ہے اور ظالموں کا ساتھ دیتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ پر کسی ایسے جرم کا الزام ہے جس کیلئے کوئی ثبوت نہیں ہے، تب بھی جج آپ کو جیل بھیج دیتے ہیں۔ اگر استغاثہ کا مقدمہ مکمل طور پر من گھڑت ہو تب بھی جج اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں اور آپ کو قید کر دیتے ہیں۔ اصولی طور پر، ججوں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ عدالت میں کیس آنے تک انہیں ضمانت دینی چاہئے۔ ضمانت سے انکار کرنے کیلئے کچھ حالات ہوسکتے ہیں: یہ خوف کہ آپ جیل سے باہر رہتے ہوئے کوئی اور جرم کر سکتے ہیں، یہ خوف کہ آپ فرار ہو سکتے ہیں، یا یہ خطرہ کہ آپ ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتے ہیں یا گواہوں کو دھمکا سکتے ہیں، لیکن جب تک کہ ایسے حالات ثابت نہیں ہوتے، ضمانت آپ کی آزادی کا حق ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چند چراغِ رہ گزر نوجوانوں کیلئے!

کچھ دن پہلے، جے پور لٹریچر فیسٹیول میں، میں نے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندر چڈ سے پوچھا کہ حالات اتنے سنگین کیسے ہو گئے؟ انہوں نے کسی حد تک درست نکتہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سپریم کورٹ نے عام طور پر قبول کئے جانے والے مقدمات سے کہیں زیادہ مقدمات میں ضمانت دی ہے۔ انہوں نے پون کھیڑا اور ٹیسٹا سیتلواڈ کے مقدمات کا حوالہ دیا، جہاں سپریم کورٹ نے مداخلت کی تھی۔لیکن میں نے ان سے پوچھا کہ عمر خالد کا کیا ہوگا؟کیا یہ غلط نہیں ہے کہ ایک شخص پانچ سال سے جیل میں ہے جس کی کوئی تاریخ نہیں ہے اور سپریم کورٹ نے اسے ضمانت دینے سے انکار کر تا ہے اور یہ کہہ دیتا ہے کہ ُاس غریب آدمی کو ضمانت پر دوبارہ غور کرنے سے پہلے مزید ایک سال تک جیل میں رہنا  ہوگا۔

چندرچڈ نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلوں پر تنقید کرنے سے بچنا چاہتے ہیں جن کی وہ دو سال قبل تک قیادت کر رہے تھے لیکن انہوں نے واضح کیا کہ وہ عمر خالد کی ضمانت مسترد کرنے کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔

ان کے بیان نے پورے ہندوستان میں سرخیاں بنائیں کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ اگر کیس ان کے سامنے آتا تو وہ خالد کو ضمانت دے دیتے۔ اس نے تنازع بھی کھڑا کیا کہ اگر ایسا تھا تو، چیف جسٹس کی حیثیت سے، انہوں نےاس کیس کو ایک ایسے جج کو کیوں سونپا جس کے تعلق سے تقریباً  طے تھا کہ ضمانت سے انکار کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: اقلیتوں کیخلاف نفرت اور تشدد کو معمولی قرار دینے کی سازش

لیکن حقائق پر غور کریں۔ ایک شخص کو بغیر مقدمہ چلائے پانچ سال سے قید میں رکھا گیا ہے۔ میرے پاس ان ججوں کی طرح عدالتی سمجھ نہیں ہے جنہوں نے خالد کو جیل میں رکھا ہے لیکن پورے احترام کے ساتھ، مجھے یہ کہنے دیجئے کہ خالد کے خلاف ثبوت نہ صرف ناقابل اعتبار ہیں بلکہ انتہائی کمزور اور قابل رحم بھی ہیں۔ ایسا ہوسکتا  ہے کہ میں غلط ہوں، لیکن اگر ایسا ہے تو ابھی تک مقدمے کی سماعت شروع کیوں نہیں ہوئی؟ ہمیں ثبوت دکھائیں۔ اسے اپنے دفاع کا موقع دیں۔ جیسا کہ چندرچڈ نے کہا کہ اس طرح کی تاخیر نہ صرف آزادی کے حق کی خلاف ورزی کرتی ہے بلکہ جلد از جلد ٹرائل کے حق کی بھی خلاف ورزی کرتی ہے۔

یہ تاخیر نہ صرف قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ شہریوں کو دی گئی آئینی ضمانتوں کو بھی بدنام کرتی ہے اور سپریم کورٹ کی غیر جانبداری کی شبیہ کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ بات صرف سپریم کورٹ تک محدود نہیں ہے۔ نچلی عدالتوں کا کیا، جو حکومت اور عہدیداروں کی طرف سے  پیش کئے جانے والے کسی کو بھی بلا جھجک جیل بھیج دیتی  ہیں؟عمر خالد کے کیس کو دیکھتے ہوئے عوام کہہ رہے ہیں کہ بس بہت ہو چکا ہے۔ معصوم شہری حکومت سے اتنا خوفزدہ ہیں جتناکسی جمہوری ملک میں نہیں ہونا چاہئے۔ سیاستداں خوفزدہ شہریوں کو دیکھ کر خوش ہو سکتے ہیں، لیکن عدلیہ کا کیا ہوگا؟ کیا ہمارے جج اس بات سے پریشان نہیں ہیں کہ جب تاریخ لکھی جائے گی تو یہ لکھا جائے گا کہ جب انصاف اور آزادی داؤ پر لگی ہوئی تھی تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK