آزادی کے بعد ہمارے مجاہدین آزادی نے ملک کو جمہوری طرز پر چلانے کا جو فیصلہ کیا تھا، اس کی اہمیت آج کی تاریخ میں بڑھ گئی ہے۔ یہ دراصل محض ایک طرزِ حکومت ہی نہیں ہے بلکہ عوام کے بنیادی حقوق اور اجتماعی ذمہ داری کی ضمانت بھی ہے۔ یہ نظام شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی، حکمرانوں کے انتخاب کا حق اور اقتدار کے احتساب کا مؤثر ذریعہ فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے قانون کی بالادستی قائم ہوتی ہے، لیکن افسوس کہ آج جمہوریت کی بنیاد کمزور ہوتی جارہی ہے،اسی حوالے سے ہم نے مذکورہ سوال کا جواب جاننے کی کوشش کی ہے۔
صاف وشفاف الیکشن کسی بھی جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ تصویر: آئی این این
جمہوری حکومت کا محور عوام ہی ہیں

جمہوریت کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے ،عوام کی حکومت ،عوام کے ذریعے ،اور عوام کیلئے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو جمہوری حکومت کا محور عوام ہی ہیں۔اس نظام حکومت میں عوام مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔یہ عوام کی حکومت ہوتی ہے ،اسے عوام کے ذریعے منتخب نمائندے چلاتے ہیں،اور یہ نظام حکومت عوامی مفاد کے لئے کام کرتی ہے۔جمہور ی نظام میں عوام اپنے منتخب نمائندوں سے باز پرس کر سکتے ہیں۔ اپنے حلقے کی فلاح وبہبود اور ترقی کے لئے اپنے نمائندوں کو مہمیز کر سکتے ہیں ۔ان کی غفلتوں اور لاپر واہیوں سے انھیں آ گاہ کر سکتے ہیں۔اس نظام حکومت میں عوام کو با اختیار بنایا جاتا ہے۔جمہوریت انصاف، اتحاد و اتفاق اور عصبیت سے پاک نظام حکومت تشکیل دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔
جہاں تک جمہوریت کے تحفظ کا سوال ہے تو سب سے پہلے ہمیں جمہوریت کی تعریف پر کھرا اُترنا ہوگا ۔ہر وہ فعل جو جمہوری نظام کے منافی ہے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے ۔فرقہ پرستی،ذات پات اور مذہب سے بالا تر ہو کر جمہوریت کو مضبوط کرنے،اس کے تحفظ اور بقا کے لئے میدان عمل میں آ نے کی اشد ضرورت ہے ۔ آ مریت کا خاتمہ کرنا ہوگا، آ ئین ،سیکولرازم اور قومی یک جہتی کی حفاظت کی سمت پھر قدم بڑھانے کی ضرورت ہے نیز سامراجیت سے وطن عزیز کو پاک کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: نیشنل یوتھ ڈے، نوجوانوں کی تربیت، بڑے کیا کریں کہ وہ مؤثر ثابت ہو؟
مقصود انصاری(سبکدوش معلم، رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، بھیونڈی)
جمہوریت کے استحکام کی ذمہ داری اقلیتوں پر زیادہ ہے

جمہوریت کسی ملک کے آئین کی بنیاد ہوتی ہے۔ جس ملک کی جمہوریت جتنی مضبوط ہوتی ہے، اس ملک میں امن و امان اور یکجہتی کی فضا پروان چڑھتی ہے، جس سے معاشی ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ ہمارے ملک کی آزادی کے بعد سیاسی رہنماؤں نے ملک کو جمہوری طرز پر گامزن کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا، اس کی اہمیت و افادیت موجودہ دور میں مزید بڑھ گئی ہے۔ دراصل یہ ایک نظام حکومت ہی نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق اور اجتماعی ذمے داری کی اساس بھی ہے۔ آج ہمارا ملک جن حالات سے گزر رہا ہے، اس میں جمہوریت کی بقاء اور استحکام کی ذمے داری اقلیتوں پر زیادہ ہے۔
جنوبی ایشیا کے بیشتر ممالک پر گہرائی سے نظر ڈالیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہاں کے حکمرانوں نے مذہبی جنون پیدا کرکے عوام کو تشدد پر اکسایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان ممالک میں جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی ہوتی چلی گئیں۔ وہاں امن وامان کی فضا قائم نہ رہ سکی، جس سے ان پڑوسی ممالک میں معاشی ترقی پٹری سے اترتی چلی گئی۔
جمہوریت کے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ پولرائیزیش کی سیاست سے اجتناب کیا جائے اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔ ملک کی سب سے بڑی اقلیت کی حیثیت سے تعلیمی میدان میں ایسی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے، جس سے جمہوریت کے چاروں ستونوں پر ملت کے افراد وافر تعداد میں نظر آ سکیں۔
شفاء افتخار انصاری(الامین طبیہ کالج، مالیگاؤں)
شہریوں کو جمہوری حقوق و فرائض سے واقف کرانا ضروری

ہندوستان ایک کثیر المذاہب اور کثیر اللسان ملک ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے ملک کے دستور کو ترتیب دیا ہے۔ ہمارا ملک جمہوری ملک ہے۔ جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مذہب اور رسم و رواج کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہے۔ موجودہ حالات میں جمہوریت کے تحفظ اور بقاء کیلئے ملک کے ہر شہری کو اپنے جمہوری حقوق اور فرائض سے متعلق واقف کرانا انتہائی ضروری ہے۔ شہریوں کے مابین اتحاد اور اتفاق اور مذہبی رواداری کو پروان چڑھانا نہایت ضروری ہے۔ عوام پر ہونے والے بے جا مظالم کے خلاف بلا امتیاز مذہب و ملت ہر شہری کو مل کر آواز اٹھانی ہوگی۔ انتخابی عمل کے ذریعے سچے اور بے لوث قائد کا انتخاب کرنا ہوگا اور انتخابات کے طریقہ عمل میں تبدیلی لانے کیلئے جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے پرزور احتجاج کرنا لازمی ہے۔
عوام کو اندھی تقلید سے پرہیز کرنا ہوگا اور معصوم اور سادہ لوح عوام کو حقائق سے واقف کرانا بھی انتہائی ضروری ہے۔ ملک کے حالات کو بگاڑنے اور سنوارنے میں صحافت کا اہم کردار ہوتا ہے اسلئے عوام کو چاہئے کہ وہ صحافت کے ذریعے معاشرے میں پھیلنے والے زہر کو روکنے کی تدابیر کریں ۔ بھائی چارے کی فضا کو آلودہ کرنے والے اور نفرت پھیلانے والے ٹی وی چینلوں کا بائیکاٹ کریں اور ان کی ویب سائٹ پر اپنے تبصروں اور ریٹنگز کے ذریعے احتجاج کو درج کرائیں۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: ’’بی ایم سی اوربلدیاتی انتخابات میں عوامی بیزاری: اسباب اور حل‘‘
اظہرالدین ریاض الدین ملاجی(معلم نیشنل جونیئر کالج، ناسک)
اقلیتوں کیلئے جمہوریت ایک حفاظتی ڈھال ہے

آج کی تاریخ میں جمہوریت محض ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک زندہ سماجی قدر بن چکی ہے جو شہریوں کے وقار، مساوات اور انصاف کی ضمانت دیتی ہے۔ جمہوریت عوام کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اپنی رائے آزادانہ طور پر ظاہر کریں، اپنے نمائندے خود منتخب کریں اور اقتدار میں بیٹھے افراد کا احتساب کریں۔ یہی خصوصیات جمہوریت کو آمرانہ اور غیر شفاف نظاموں سے ممتاز کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں، جب دنیا بھر میں عدم برداشت، نفرت اور طاقت کے ارتکاز کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، جمہوریت کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہی نظام اختلافِ رائے کو طاقت سمجھتا ہے، کمزوری نہیں۔ جمہوریت قانون کی بالادستی کو یقینی بناتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ کوئی بھی شخص، ادارہ یا گروہ قانون سے بالاتر نہیں۔ اس کے ذریعے سماج کے کمزور اور حاشیے پر موجود طبقات کو آواز ملتی ہے اور انہیں قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع حاصل ہوتا ہے۔ خاص طور پر اقلیتوں کیلئے جمہوریت ایک حفاظتی ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ یہی نظام ان کے بنیادی حقوق، مذہبی آزادی اور سماجی تحفظ کو آئینی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
جمہوریت کے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ ہم بطور شہری اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ادا کریں۔ ووٹ کا حق استعمال کرنا، آئین و قانون کا احترام کرنا، غلط معلومات اور نفرت انگیز بیانئے سے بچنا اور پرامن طریقے سے اپنی بات رکھنا جمہوری عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
انصاری اخلاق احمد محمد اسماعیل (معلم کھیر نگر میونسپل اسکول ،باندرہ)
جمہوریت کا ایک اہم پہلو احتساب ہے

جمہوریت ایک طرز حکومت کے ساتھ ساتھ اس اصول پر کاربند ہے کہ اقتدار کا اصل سرچشمہ عوام ہیں۔ اس کی سب سے بڑی اہمیت آزادی اظہار رائے اور برابری میں پنہاں ہے۔ جہاں آمریت میں فیصلے چندبند کمروں میں ہوتے ہیں وہیں جمہوریت میں پارلیمنٹ اور عدالت عظمیٰ کے ذریعے عوام کی آواز اقتدار جماعت تک پہنچتی ہے۔ اس نظام کا حسن یہ ہے کہ اقتدار کی منتقلی پر امن طریقے سے ممکن ہوپاتی ہے جس سے معاشرے میں سیاسی استحکام پیدا ہوتا ہے ۔ دنیا کے طاقتور ممالک جیسے روس، چین ، سعودی عرب اور ایران میں حکومت چند طاقتور لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے، ایسے میں ہندوستان میں انتخابات ہونا ، نمائندے کا انتخاب یہ جمہوریت کی روح کو تازہ کرتی ہے۔ جمہوریت کا ایک اہم پہلو احتساب ہے۔ منتخب نمائندے اس بات سے باخبر ہوتے ہیں کہ اگر وہ عوام کی فلاح وبہبود میں ناکام رہے تو آئندہ انتخابات میں عوام انہیں اقتدار سے بے دخل کردیں گے۔ یہی خوف حکمرانوں کو ذمہ دار بناتا ہے۔ آج کی عالمی معیشت میں استحکام کیلئے ضروری ہے کہ پالیسیاں کسی ایک شخص کی پسند پر نہیں بلکہ عوامی مفاد پر مبنی ہو۔
سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے دور میں حکومتیں معلومات کو چھپا نہیں سکتیں اسلئے جمہوریت ہی وہ راستہ ہے جو حکومتوں کو شفافیت پر مجبور کرتی ہے، مگر ہندوستان میں جمہوریت صرف نام کی حد تک رہ گئی ہے حالیہ برسوں میں جو واقعات رونما ہوئے اس سے جمہوری معیار پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ مین اسٹریم میڈیا کا حکومت کے اشاروں پر چلنا حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر بھی حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش جاری ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے بعض مقامات پر دینی مدارس اور اقلیتی تعلیمی اداروںکے خلاف یک طرفہ اور عجلت میں کی گئی کارروائیاں ، ’یواے پی اے‘ اور ’قومی سلامتی قانون‘ جیسے سخت قوانین کا اطلاق طلبہ، سماجی کارکنوں اور دانشوروں پر کرنا آئینی قدروں اور جمہوریت کے جوہر کو مجروح کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جمہوریت کا تحفظ ضروری ہے جو کہ ہماری ذمہ داری ہے۔ اس کیلئے لائحہ عمل یہ ہے کہ شہریوں کو اپنے حقوق ، آئین کی بنیادی دفعات اور ووٹ کی طاقت کا علم ہونا چاہئے۔ آپ کا ووٹ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ملک کی تقدیر بدلنے کی آواز ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: اقلیتوں کے حقوق کا دن:آج کے حالات میں حصولِ حقوق کیلئے کیاکرناچاہئے؟
انصاری قنوت وکیل احمد ( معاون معلمہ ، رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج ، بھیونڈی)
جمہوری قدروں کی اہمیت سے عوام کو روشناس کرانا وقت کا تقاضا ہے

وطن عزیز میں اس وقت جو حالات ہیں،انہوں نے جمہوری قدروں کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ اب یہ احساس بھی شدت سے ہونے لگا ہے کہ ۲۰۱۴ء سے پہلے ہمیں جو کچھ میسر تھا اس کی ہم نے قدر نہیں کی۔ سیاسی اور سماجی محاذ پر جو کچھ ہورہاہے وہ کبھی کبھی اس اندیشے میں بھی مبتلا کرتا ہے کہ کیا ملک میں جمہوریت باقی بھی ہے یا صرف اس کا تاثر ہی رہ گیا ہے۔ یہ افسوسناک پہلو ہے کہ شہریوںکے ایک بڑے طبقہ سے جمہوری قدروں کی پامالی کا احساس ختم ہورہاہے۔ ہم ہر ۲۶؍ جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پرترنگا لہرا کر ملک کے جمہوریہ بننے کی سالگرہ پر خوشی کا اظہار تو کرتے ہیں مگر یہ جائزہ کم کم ہی لیتے کہ کیا واقعی ہم جمہوریہ ہیں؟
موجودہ حالات میں ہندوستان میں جمہوریت کے تحفظکی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے اور یہ کسی ایک جماعت یا طبقے کی نہیں بلکہ ہر باشعور شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اس کیلئے عوام کو جمہوری قدروں کی اہمیت سے روشناس کرانا اورانہیں یہ باور کرانا کہ ایک آزاد ملک میں یہ کیوں ناگزیر ہیں، ضروری ہے۔ اس کیلئےعوام کو آئین سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ایک دور تھا جب عوام اپنےبنیادی حقوق پر نازاں رہتے تھے اور حکومتیں ان کے تحفظ کیلئے پابند عہد ہونے کا اظہار کرتی رہتی تھیں مگر اب دھارا اُلٹا بہہ رہا ہے، عوام کو ان کے حقوق سے زیادہ ایک شہری کے طو رپر فرائض یاد دلائے جارہے ہیں۔ جمہوری ملک کی ریڑھ کی ہڈی ان کے انتخابات اور قانون کی حکمرانی ہے۔افسوس کہ ہمارے ہاں انتخابات تو شک کے دائرہ میں ہیں ہی، قانون نافذ کرنےوالے اداروں پر ذات اور مذہب دیکھ کر قانون کے اطلاق کے الزامات کے بیچ جن عدالتوں سےانصاف کی امید ہوا کرتی تھی، ان عدالتوں کے تعلق سے بھی شکوک وشبہات میں اضافہ ہونے لگاہے۔ اس لئے جمہوری قدروں کے تحفظ کیلئے کسی ایک محاذ پر کام کرنے کے بجائے کئی محاذوں پر بیک وقت کام کرنا ہوگا جن میں سب سے اہم انتخابات کا شفاف ہونا اور عوام کو اُن کے ووٹ کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔
محمد عادل جلال احمد خان(چیتاکیمپ، ٹرامبے)