Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیجسوی نے چیلنجز پار کرلئے ہیں،بہار انتخابات میں اب انہیں خودکو صرف ثابت کرنا ہے

Updated: November 02, 2025, 12:38 PM IST | Prashant Srivastava | Mumbai

۲۰۱۵ء تا۲۰۲۵ء ان کے سیاسی سفر میں کئی اتار چڑھاؤ آئے، وہ نائب وزیراعلیٰ بنے اور اپوزیشن لیڈر بھی لیکن اس بار ان کے پاس خود کو ثابت کرنے کا ایک سنہرا موقع ہے کیونکہ انہیں بہار میں عظیم اتحاد کا وزیر اعلیٰ چہرہ قرار دیا گیا ہے۔

Politics was never Tejashwi Yadav`s first career choice, but now it has become his bed and breakfast. Photo: INN
سیاست کبھی بھی تیجسوی یادو کے کریئر کا پہلا انتخاب نہیں تھا لیکن اب یہی ان کا اوڑھنا بچھونا بن گیا ہے۔ تصویر: آئی این این

’’وراٹ کوہلی میری کپتانی میں کھیل چکے ہیں۔ میں نے کرکٹ کو آگے بڑھانے کیلئے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی۔ ‘‘ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) لیڈر تیجسوی یادو کا یہ بیان چند ماہ قبل وائرل ہوا تھا۔ ان کی تعلیم پر سوال اٹھانے والے ناقدین کو جواب دیتے ہوئےتیجسوی نے نہ صرف اپنا دفاع کیا بلکہ اپنے کرکٹ کے تجربے کو بھی اجاگر کیا۔ اس بیان میں انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کوہلی دہلی انڈر۱۷؍ ٹیم میں ان کی قیادت میں کھیل چکے ہیں۔ اب، بہار میں عظیم اتحاد کے وزیر اعلیٰ کے چہرے کے طور پر، تیجسوی یادو نے تقریباً ایک دہائی کے سیاسی تجربے کے بعد سیاست کے چیلنجوں کو سمجھداری سے نمٹنا سیکھ لیا ہے۔ 
۲۰۱۳ء میں تیجسوی نے چوٹ کی وجہ سے کرکٹ چھوڑ دی تھی اور سیاست کے مشکل میدان میں قدم رکھا تھا۔ انہوں نے۲۰۱۵ء کے بہار اسمبلی انتخابات میں باضابطہ طور پر سیاست میں قدم رکھا اور۲۶؍سال کی عمر میں نائب وزیر اعلیٰ بن گئے۔ تاہم، ان کا سفر آسان نہیں تھا۔ جب حکومت بیچ ہی میں گر گئی تو تیجسوی نے بہار اسمبلی میں اپوزیشن کے سب سے کم عمر لیڈر (ایل اوپی) کے طور پر ایک نئی ذمہ داری سنبھالی۔ 
اگست۲۰۲۲ء میں، آر جے ڈی، کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ عظیم اتحاد کی تشکیل کے بعد، وہ دوبارہ نائب وزیر اعلیٰ بن گئے، اس بار نتیش کمار کے ساتھ تاہم۲۰۲۴ء میں، نتیش کمار کے پلٹی مارنے اور بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرلینے کے بعد ایک بار پھرحکومت گر گئی۔ اس طرح ایک بار پھر تیجسوی اپنی مدت پوری نہیں کرسکے۔ 
۲۰۱۵ء سے۲۰۲۵ء تک ان کے سیاسی سفر میں کئی اتار چڑھاؤ آئے لیکن اس بار ان کے پاس خود کو ثابت کرنے کا ایک اہم موقع ہے کیونکہ انہیں بہار میں عظیم اتحاد کا وزیر اعلیٰ چہرہ قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیجسوی یادو اس ہفتے میڈیا کیلئے نیوز میکر آف دی ویک ہیں۔ 
سیاست کبھی بھی تیجسوی یادو کے کریئر کا پہلا انتخاب نہیں تھا۔ انہوں نے دہلی کے پبلک اسکول آر کے پورم میں پڑھائی کرتے ہوئے کرکٹ کھیلا اور دسویں جماعت سے ڈراپ آؤٹ ہوگئے۔ ایک باصلاحیت مڈل آرڈر بلے باز، جو اپنی شاندار کور ڈرائیوز کیلئے جانے جاتے ہیں، تیجسوی نے وراٹ کوہلی کے دور میں دہلی انڈر۱۹؍ ٹیم کی نمائندگی کی۔ انہوں نے رنجی ٹرافی میں جھارکھنڈ کیلئے ایک سیزن بھی کھیلا اور پھر آئی پی ایل میں دہلی ڈیئر ڈیولز کی طرف سے منتخب ہونے کے بعد ۲۰۰۸ء سے۲۰۱۲ء تک ریزرو بینچ پر چار سیزن گزارے۔ ۲۰۱۳ء تک، چوٹ اور مواقع کی کمی کی وجہ سے، انہوں نے کرکٹ چھوڑ دی اور پوری توجہ سیاست پر مرکوز کر دی۔ 
اگرچہ انہوں نے۲۰۱۰ء سے انتخابی مہم شروع کر دی تھی لیکن انہوں نے اپنا پہلا الیکشن۲۰۱۵ء میں ۲۵؍ سال کی عمر میں لڑا اور جے ڈی یو اور آر جے ڈی نے مل کر مخلوط حکومت بنائی۔ اتحاد ٹوٹنے سے چند ماہ قبل ہوٹل کیلئےزمین گھوٹالہ کے معاملے میں ریاستی حکومت کی رضامندی سے تیجسوی کے خلاف سی بی آئی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تیجسوی نے بی جے پی پر انتقامی سیاست میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ جولائی۲۰۱۷ء میں نتیش کمار کے پلٹی مارنے کے بعد عظیم اتھاد ٹوٹ گیا تھا۔ 
۲۰۲۰ء کے بہار اسمبلی انتخابات میں، تیجسوی نے اپنے حق میں ایک مضبوط بیانیہ تیار کیا جب لالو پرساد یادو جیل میں تھے۔ تاہم، آر جے ڈی، کانگریس اوربائیں بازو کا اتحاد اکثریت سے محض چند ووٹوں کی کمی سے اقتدار تک نہیں پہنچ سکا اور اس طرح تیجسوی یادو نے بہار کا سب سے کم عمر وزیر اعلیٰ بننے کا موقع گنوا دیا۔ ان کا سیاسی آغاز حوصلہ افزا تھا، لیکن اس کے بعد کا سفر اتار چڑھاؤ سے بھرا تھا۔ اس کے باوجود اپنے کریئر کے آخری حصے میں وہ بہار کی سیاست کے مرکز میں رہے۔ 
حالیہ برسوں میں، تیجسوی یادو نے کرمی، کشواہا اور کوئری جیسی غیر یادو برادریوں کو زیادہ ٹکٹ اور تنظیمی عہدے دے کر اپنی سماجی بنیاد کو بڑھایا ہے۔ انہوں نے عظیم اتحاد میں چھوٹی پارٹیوں کو بھی شامل کیا، جیسے وکاس شیل انسان پارٹی (ملّاح اور نشادوں کی پارٹی) اور انڈین انکلوسیو پارٹی (ای بی سی کی پارٹی)۔ اکھلیش یادو کے برعکس، انہوں نے پی ڈی اے (پسماندہ، دلت، اقلیت) کانعرہ نہیں لگایا لیکن۲۰۲۰ء کے انتخابی شکست کے بعد، ان کی سیاست اسی سمت چلتی نظر آتی ہے۔ 
ان انتخابات میں، نتیش کمار کی خواتین کے ووٹ حاصل کرنے کی حکمت عملی کے جواب میں، تیجسوی نے ریاست کے ایک کروڑ ۲۵؍ لاکھ جیویکا کارکنوں (عالمی بینک کی بنیاد پر بہار دیہی روزی رورل پروجیکٹ سے وابستہ خواتین) سے کئی وعدے کئے ہیں۔ انہوں نے ان سے مستقل ملازمتیں (ماہانہ۳۰؍ ہزار تنخواہ)، دو سال کیلئے قرض کے سود کی معافی، اور فی کارکن۵؍ لاکھ روپے کی انشورنس کا وعدہ کیا ہے۔ اسی طرح دیگر بڑے اعلانات میں ایم اے اے ’ما‘ (مکان، انّ اور آمدنی) اور بی ای ٹی آئی ’بیٹی‘ (بینیفٹ، ایجوکیشن، ٹریننگ، انکم) اسکیمیں شامل ہیں، جو کہ عظیم اتحاد کی’ماں بہن یوجنا‘ کی توسیع ہے، جس میں خواتین کو ماہانہ ۲۵۰۰؍ روپے کی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا۔ 
نوجوانوں کے ووٹ بینک کو راغب کرنے کیلئے تیجسوی نے ہر گھر کو روزگار دینے کا وعدہ کیا ہے اور اس تعلق سے اقتدار میں آنے کے۲۰؍ دنوں کے اندر ہی بل پیش کرنے بھی کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’این ڈی اے حکومت۲۰؍ برسوں میں نوجوانوں کو نوکریاں نہیں دے سکی، لیکن ہم اقتدار میں آنے کے۲۰؍ دنوں کے اندر ایکٹ متعارف کرائیں گے اور۲۰؍ ماہ کے اندر اندر اسے نافذ بھی کریں گے۔ ‘‘ پچھلے عظیم اتحاد کے دور میں اپنے دور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے صرف۱۷؍ مہینوں کی مختصر سی مدت میں ۵؍ لاکھ سے زیادہ ملازمتیں فراہم کیں۔ تصور کریں کہ اگر ہمیں پورے پانچ سال کام کرنے کا موقع ملا ہوتا تو کیا کچھ حاصل ہو سکتا تھا۔ ‘‘
تیجسوی نے کامیابی کے ساتھ قابو پانے کا ایک اور چیلنج کانگریس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا اور عظیم اتحاد کا چیف منسٹر چہرہ بننے کا حق حاصل کرنا تھا۔ دیوالی سے پہلے آر جے ڈی اور کانگریس کے درمیان تال میل غیر یقینی دکھائی دے رہا تھا۔ پھر بھی تیجسوی پیچھے نہیں ہٹے اور کانگریس کو اپنے وزیر اعلیٰ کے امیدوار کا باضابطہ اعلان کرنے پر مجبور کیا۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق، انہوں نے اس اعلان کو یقینی بنایا تاکہ اتحاد کے اندر الجھن پیدا نہ ہو اور این ڈی اے پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اپنے وزیر اعلیٰ کے چہرے کا اعلان کرے۔ بہار الیکشن جو کہ گرینڈ الائنس کیلئے چیلنجنگ لگ رہا تھا، وزیر اعلیٰ کے چہرے کے اعلان کے بعد مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔ تیجسوی یادو کے ساتھ، گرینڈ الائنس اب این ڈی اے پر واضح لیڈر نہ ہونے پر حملہ کر سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK