یہ جو محبت ہے

Updated: September 13, 2020, 5:06 AM IST | Prof Syed Iqbal

ایک خاتون نےاپنے شوہر کی بے انتہا محبت کی شکایت درج کرائی ہے۔ دونوں کی شادی کو۱۸؍ ماہ ہوئے، اس عرصے میں شوہر نے بیگم پر اتنی محبت لٹائی کہ وہ اس بارِالفت سے پریشان ہوگئیں اور تنگ آکر شرعی عدالت میں حاضر ہوگئیں۔خاتون کو شکایت ہے کہ ان کے میاں مسلسل ان کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں، کبھی غزلیں گاتے ہیں اورکبھی رومانی نغمے سناکر بور کرتے ہیں۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں تو یہ اچھا لگا تھا مگر اب عجیب لگتا ہے، بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے؟

Marriage - Pic :  INN
شادی ۔ تصویر : آئی این این

 ہم نے انگریزی اخبار’ ڈیلی میل ‘ میں پچھلے سال متحدہ عرب امارات سے متعلق ایک خبر پڑھی تھی اوریہ سوچ کر رہ گئے تھے کہ ہائے اس دنیا میں ایسے محبت کرنے والے شوہر بھی ہیں جو اپنی بیوی کے ماتھے پر ہلکی سی شکن تک نہیںدیکھنا چاہتے۔ان کی صرف ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ بیگم سدا خوش رہیں۔ جی چاہا اُڑ کر امارات پہنچ جائیں اورا یسے شوہروں کے ہاتھوں کو بوسہ دے آئیں۔تفصیل کچھ یوں تھی کہ ایک خاتون نے فجیرہ کی شرعی عدالت میں اپنے شوہر کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ وجہ ؟ محترمہ شوہر کی والہانہ محبت سے بیزار تھیں۔ بھلا ایسے بندے کا کیا کیاجائے جو ہر دم بیوی کی تعریف کرے اور ہر سانس میں اس کے گن گائے۔ بیوی گھر کی صفائی کرنا چاہے تو خود بڑھ کر صفائی  کرنے لگے، کھانا بنانا چاہے تو خود کچن میں گھس جائے۔ غرض گھر میں بیٹھے بیٹھے وہ پریشان ہوگئیں کہ د ن بھر کیا کریں؟ ایک دن یوں ہی کہہ دیا کہ تمہارا وزن بڑھ گیا ہے تو شوہر نے بھاگم بھاگ جم جوائن کرلیا اور اتنی محنت سے ورزش کی کہ اپنی ایک ٹانگ تک توڑ ڈالی۔ بتایئے ایسے شخص کا کیا علاج ، جو نہ ڈانٹتا ہے، نہ جھگڑتا ہے نہ ناراض ہوتا ہے۔ عرب خاتون نے روروکر فریاد کی کہ خدارا ایسے فرشتہ صفت شوہر سے انہیں نجات دلائی جائے۔ وہ مزیدایسی جنت میں نہیں رہنا چاہتی جہاں صرف محبت کی نہر بہتی ہوں۔ خیر! فجیرہ کی عدالت نے ساری شکایتیں سنیں مگر فور ی طور پر کوئی فیصلہ سنانے کے بجائے فریقین سے کہا کہ  عدالت آپ دونوں کو مہلت دیتی ہے کہ آپسی بات چیت سے اس مسئلہ کو شریفانہ انداز میں سلجھالیں۔
  یہ کہانی ہمیں اس لئے یاد آگئی کہ پچھلے ہفتے کولکاتا کے ’ٹیلی گراف‘ میں ایسی ہی ایک خبر ہماری نظر سے گزری.... اور ہم سوچنے لگے کہ محبت کرنے والے صرف ملک عرب ہی میں نہیں ہوتے۔ ایسے عاشق مزاج شوہر ہمارے ہاں بھی  ہیںجو  اپنی بیویوں کو ہتھیلی کا پھپھولہ بنا کر رکھتے ہیں اوران پر ا س قدر جان چھڑکتے ہیں کہ بیگم اپنی جان سے عاجز آجاتی ہیں۔ یہ کہانی سنبھل (یوپی) کی ہے جہاں ایک مسلم گھرانے کی خاتون نے اپنے شوہر کی بے انتہا محبت کی شکایت درج کرائی ہے۔ دونوں کی شادی کو۱۸؍ ماہ ہوئے تھے کہ اس عرصے میں شوہر نے بیگم پر اتنی محبت لٹائی کہ وہ اس بارِالفت سے پریشان ہوگئیں اور تنگ آکر مقامی شرعی عدالت میں حاضر ہوگئیںاور من وعن وہی باتیں دُہرائیں جو ایک سال قبل اس  عرب خاتون نے کہی تھیں۔ اس خاتون کو بھی شکایت تھی کہ ان کے میاں مسلسل ان کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔ کبھی غزلیں گاتے ہیں اورکبھی رومانی نغمے سناکر بور کرتے ہیں۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں تو اچھا لگا تھا مگر جب یہ معمول  بن گیا تو عجیب لگنے لگا۔ میں نے انہیں بارہا چڑانے کی کوشش کی مگر یہ شخص کبھی ناراض نہیں ہوا۔ بات بے بات پر جھگڑنے کی کوکشش کی مگر خوشی خوشی اپنی ہار  مان لیتا اور مجھ سے جیت جاتا۔ گھر کی صفائی کی بھی کرتارہتا، برتن بھی مانجھتا، کپڑوں کی دھلائی بھی کرتا۔ میں کھانا  پکانا چاہتی تو مجھے ہٹا کر خود پکانے لگتا۔ مقصد یہی ہوتا کہ میں دلہن بنی بیٹھی رہوں اور کوئی کام نہ کروں۔ مجھے لگا یہ بھی کوئی زندگی ہے، جہاں صرف سکون کی شہنائیاں بجتی رہیں۔ ایسی خشک اور بے رنگ زندگی سے تو  بہتر ہے کہ ایسے شوہر سے علاحدگی ہوجائے اور میں نارمل زندگی گزار سکوں ۔
  شرعی  عدالت  کے ذمہ داروں نے ساری شکایتیں سکون سے سنیں اور دونوں کو حیرت  سے دیکھا ۔ ایسا مقدمہ انہوںنے آج تک نہیں سنا تھا۔ کسی نے کہا کہ یہاں تو لوگ اسلئے آتے ہیں کہ میاں بیوی میں جھگڑا ہوگیا اور نوبت طلاق تک پہنچ گئی ، کبھی کوئی خاتون شوہر کی مارپیٹ کی شکایت لے کرآتی تو کوئی اس کے شکی مزاج  سے عاجز ہوتی ہے، کسی کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ شوہر اس کی ضرورتیں نہیں پوری کرتا اورکوئی شوہر کی کنجوسی سے پریشان ہوتی ہے ۔ اور ایک آپ ہیں کہ اپنے محبت کرنے والے شوہرکی بے پایاں محبت سے شاکی ہیں۔ ذمہ داروں نے ٹھنڈی سانس لی اور ایک آبرومندانہ حل کیلئے اس خاتون کو سمجھایا کہ دیکھئے آپ نہایت خوش نصیب ہیں کہ آپ کو ایسا شوہر ملا ہے جو آپ کے ناز اٹھاتا ہے اور چاہتا ہے کہ آپ ہمیشہ شاد کام رہیں۔ اس کے برخلاف آپ چاہتی ہیںکہ ہم اس محبت بھرے رشتے کو ختم کرکے آپ کو آزاد کر دیں؟ شاید آپ کو ہندوستانی بیویوں کی پریشانیوں کا  اندازہ نہیں۔ روایت پسند سماج نے ان کی زبان بند رکھی ہے ورنہ ان سے پوچھیں گی تو پتہ چلے گا کہ وہ روزانہ کس  عذاب سے گزرتی ہیں؟ آخر آپ خانگی زندگی کی جنت کو ٹھکرا کر ایک غیر محفوظ اور پریشان کن زندگی کیوں اپنانا چاہتی ہیں؟ ہم تو دعا کریں  گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دے ۔ اتنا کہہ کر انہوں نے بھی امارات کی شرعی عدالت کی طرح ان میاں بیوی کو مہلت دی کہ وہ گھر جاکر سکون سے اس قضیے کو سلجھائیں اور اپنی پرسکون زندگی کو بربادنہ کریں۔
 لیکن  ہندوستانی عورت کی بھی جواب نہیں۔ اسے اچانک اپنی آزادی اتنی عزیز ہوگئی ہے کہ شرعی عدالت سے خاطر خواہ فیصلہ نہیں ملا تو گاؤں کی پنچایت جاپہنچی  ۔پنچایت کے لوگوں نے بھی ساری کہانی سن کر یہی کہا جو سنجیدہ اور ذمہ دار افراد کو کہنا چاہئے تھا۔ ان کا موقف بھی یہی تھا کہ پنچایت کسی کا گھر برباد کرنے کیلئے نہیں بنی، و ہ تو گھر بنائے رکھنے کیلئے قائم ہے۔ انہوںنے ایک دلچسپ  بات یہ بھی کہی کہ بیٹی تمہارا شوہر تمہارے آنے سے پہلے ہم سے درخواست کرچکا ہے۔ وہ تمہیں جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہے اورکسی صورت اپنے سے دور نہیں کرنا چاہتا۔ اب تم ہی بتاؤ کیا ہم تمہیں اس جنگل میں چھوڑدیں جہاں انسان نما درندے بات بے بات اپنی بیویوں کو گھونسوں اور لاتوں  سے نوازتے ہیں؟ جہاں پڑھے لکھے شوہر بھی اپنی بیویوں کی عزت نہیں کرتے اوران پر طعنوں اور تشنیع کی تیربرساتے رہتے ہیں؟ کیا تم ایسی گھر جانا چاہتی ہو جہاں مردوں کی بالادستی عورتوں کو آزادی کی سانس تک لینے نہیں دیتی؟ کیا تم ایسے گھرجانا چاہتی ہوجہاں شوہر نامدار نشے میں دھت اپنی بیویوں کو روزانہ ذلیل کرتے ہیں اور جو دوسروں کے گھروں میں چھوٹے موٹے کام کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں؟ یہ غریب عورتیں  دن بھر کولھو کا بیل رہنے کے باوجود اپنے شوہر کی ایک مسکراہٹ کیلئے ترستی رہتی ہیں اور وہ سارے خواب بھول چکی ہوتی ہیں جو انہوںنے  شادی سے قبل دیکھے تھے؟
 جس طرح  ہمیں  پتہ نہیں کہ امارات کی مذکورہ عرب خاتون کس حال میں ہیں، اسی طرح ہم یہ بھی نہیں جان سکے کہ یوپی کی خاتون کا کیا حال ہے۔ خدا کرے دونوں خیریت سے ہوں۔ ویسے ہم اُس  ہندوستانی شوہر سے ضرور ملنا چاہیں گے جنہوں نے مسلسل ۱۸؍ مہینوںتک اپنی بیوی کو چاہنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس پر ہمیں وہ سارے دوست یادآگئے جو اپنی بیگم کو چاہتے تو بہت ہیں مگر گھر کے کاموں میں ان کا ہاتھ نہیں بٹاتے۔ بہت ہوا تو کھانے کی میز سے برتن اٹھاکر کچن میں رکھ دیئے۔ یا اپنے کپڑوںکے ساتھ بیگم کے کپڑے پریس کردیئے ۔ نہ کبھی بچوں کو ناشتہ بناکردیا ، نہ ان کے کپڑے  تبدیل کرنے کی زحمت اٹھائی۔ انہیں تو اپنے لئے ایک کپ چائے بنانا بھی گراں گزرتا ہے اور دعویٰ یہ ہے کہ جب تک بیگم کے  ہاتھوں کی بنی چائے نہ پی لیں، طبیعت سیر نہیں ہوتی۔ بہتیرے ایسے ہیں کہ اپنی تنخواہ میں سے ایک لگی بندھی رقم بیگم کو سونپ کر بقیہ ساری رقم اپنے استعمال کیلئے رکھ لیں گے۔ شامت اعمال سے بیگم کچھ پوچھ بیٹھے تو ناراض ہوجائیں گے۔ اس پر ستم یہ کہ دوستوں کے درمیان بیٹھ کر صنفی مساوات پر لیکچر دیں گے۔  اس وقت جی چاہتا ہے کہ ان کی بیویوں سے پوچھیں کہ یہ احمق ! جو کھلے عام اپنی  بیوی کی محبت کا دم بھرتا ہے اور مردوزن کے تعلقات میں مساوات کی باتیں بگھارتا ہے ، کیا عملاً ایسا ہی ہے؟ پھر سوچتے ہیں، ہر شوہر نے اپنے طور پر محبت کی شرح لکھ  رکھی ہے اور زندگی بھر اسی پر عمل پیرا رہتا ہے۔ بہتر ہے کہ اسے نہ چھیڑا جائے۔ اسے چھوا بھی تو یہ خاتون خانہ کے خلاف محاذ کھول دے گا اور پھر.... بات نکلی تو بہت دور تلک جائے گی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK