Inquilab Logo Happiest Places to Work

اپنے عمل کی روح کو مجروح نہ کریں

Updated: December 26, 2025, 4:47 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

عمل کا وزن نیت سے ہے ،جب نیت میں خود نمائی شامل ہو جائے تو وہ نیکی رفتہ رفتہ برائی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
انسان اپنی زندگی میں بے شمار کام انجام دیتا ہےمگر ان میں سے ہر عمل یکساں اہمیت کا حامل نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی کام دیرپا وقعت اور حقیقی قدر پاتے ہیں جو کسی واضح مقصد کے تحت اور خالص رضائے الٰہی کیلئے کئے جائیں۔ بے مقصد مصروفیات وقتی تسکین تو دے سکتی ہیں، لیکن نہ تو وہ دل کو اطمینان بخشتی ہیں اور نہ ہی زندگی کو معنویت عطا کرتی ہیں۔ جب انسان اپنے افعال کو شعور، نیت کی پاکیزگی اور اعلیٰ نصب العین کے ساتھ انجام دیتا ہے تو اس کی زندگی محض اعمال کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ ایک بامعنی سفر بن جاتی ہے، جس میں ہر قدم اسے اخلاقی بلندی اور روحانی تکمیل کی طرف لے جاتا ہے۔
اس تمہید کے تناظر میں یہ حقیقت سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ انسان بسا اوقات بہت سے کام خالص نیت، اچھے جذبے اور رضائے الٰہی کے حصول کیلئے انجام دیتا ہے، اور بظاہر وہ کام نہ صرف درست انداز میں مکمل ہو جاتا ہے بلکہ لوگوں کی نظر میں بھی کامیابی کی علامت بھی بن جاتا ہے، لیکن اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ جب شیطانی وسوسے دل میں راہ پاتے ہیں تو انسان آہستہ آہستہ اپنے عمل کی روح کو مجروح کرنے لگتا ہے، وہ اس کامیابی کو اللہ کی توفیق سمجھنے کے بجائے اپنی قابلیت، محنت اور تدبیر کا نتیجہ سمجھ کر اس کا چرچا کرنے لگتا ہے، اور یوں شکر کے بجائے فخر اور عاجزی کے بجائے ریا کاری کے جذبات پروان چڑھنے لگتے ہیں۔ یہی وہ نازک مرحلہ ہے جہاں ایک نیکی اپنی اصل قدر کھو دیتی ہے، کیونکہ عمل کا وزن نیت سے ہے اور جب نیت میں خود نمائی اور بڑائی شامل ہو جائے تو وہ نیکی رفتہ رفتہ برائی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس طرح انسان بظاہر اچھا کام کرنے کے باوجود باطن میں خسارے کا شکار ہو جاتا ہے، کیونکہ اس نے رضائے الٰہی کو پس ِ پشت ڈال کر لوگوں کی تحسین اور اپنی بڑائی کو مقصد بنا لیا ہوتا ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جو اعمال کی قبولیت اور عدمِ قبولیت کے درمیان حد فاصل قائم کرتا ہے۔
اسی وجہ سے شریعت اسلامیہ انسان کو یہ شعور عطا کرتی ہے کہ نیک عمل محض شروع کر دینا کافی نہیں، بلکہ اس کی بقا اور قبولیت کیلئے ابتداء، دوران عمل اور اختتام—ہر مرحلے پر نیت کی درستگی نہایت ضروری ہے۔ انسان اکثر کسی اچھے کام کو خالص نیت سے شروع کرتا ہے، مگر جب وہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچتا ہے تو نفس اور شیطان اسے اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے فخر، خود پسندی اور ریاکاری جیسی باطنی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اسی لئے اسلام بار بار انسان کو عاجزی، انکسار اور خود احتسابی کی طرف متوجہ کرتا ہے تاکہ نیکی ضائع نہ ہو جائے۔ اسی روحانی مرض کے علاج کے طور پر اکابر امت سے یہ جامع دعا منقول ہے:’’اے اللہ! مجھے میری اپنی نظر میں چھوٹا بنا دے۔‘‘ اس دعا کا مفہوم یہی ہے کہ انسان اپنے دل میں خود کو کچھ نہ سمجھے، ہر کامیابی کو اللہ کی عطا جانےاور فخر و ریا سے محفوظ رہےکیونکہ یہی کیفیت اعمال کی روح اور ان کی قبولیت کی اصل بنیاد ہے۔
قرآنِ کریم کی سورۂ بقرہ کی آیت(۲۶۴):’’اے ایمان والو! احسان جتا کر اورتکلیف دے کر اپنے  صدقات کو برباد نہ کرو، اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کیلئے  خرچ کرتا ہے۔’’ اس نہایت اہم حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ نیکی کا ظاہری انجام دینا کافی نہیں بلکہ اس کی حفاظت بھی ضروری ہے، کیونکہ احسان جتانا، لوگوں کو اذیت دینا اور دکھاوے کے جذبے سے خرچ کرنا صدقے جیسے عظیم عمل کو بھی ضائع کر دیتا ہے۔ یہ آیت اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ جب کسی نیک عمل کا محرک اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی تعریف، شہرت یا واہ واہ بن جائے تو وہ عمل بظاہر نیکی ہونے کے باوجود اللہ کے نزدیک بے وزن ہو جاتا ہے۔ اسی مضمون کی مزید وضاحت نبی اکرم ؐکے اس ارشاد سے ہوتی ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ آپ کو اپنی امت پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ شرکِ اصغر ہےاور پھر اس کی  صراحت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ریا ہے۔ (مسند احمد)یہ حدیث اس حقیقت کو دو ٹوک انداز میں  بیان کرتی ہے کہ ریا محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایمان کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے کیونکہ اس میں بندہ اللہ کے بجائے مخلوق کو خوش کرنے کو مقصد بنا لیتا ہے، جو توحید کے منافی رویہ ہے۔ ان دونوں نصوص کو سامنے رکھا جائے تو واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نیکی کی اصل قدر اخلاص میں مضمر ہے؛ اگر نیت خالص ہو تو معمولی عمل بھی عظیم بن جاتا ہے اور اگر نیت میں دکھاوا شامل ہو جائے تو بڑے سے بڑا عمل بھی رائیگاں چلا جاتا ہے۔ لہٰذا ایک مومن کیلئے لازم ہے کہ وہ نہ صرف نیک اعمال کرے بلکہ اپنی نیت کی مسلسل نگرانی بھی کرتا رہے تاکہ اس کے صدقات، عبادات اور تمام اچھے کام ریا کی آلودگی سے محفوظ رہیں اور حقیقی معنوں میں رضائے الٰہی کا ذریعہ بن سکیں۔
اس پوری بحث کے آئینے میں ہمیں اپنی ذات کا سنجیدگی کے ساتھ محاسبہ ضرور کرنا چاہیے، کیونکہ اصل کامیابی صرف نیک اعمال کی کثرت میں نہیں بلکہ ان کے اخلاص میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم یہ محسوس کریں کہ ہمارے اچھے کاموں کے پیچھے دکھاوا، شہرت یا لوگوں سے داد و تحسین حاصل کرنے کا جذبہ شامل ہو گیا ہے تو یہ ہمارے  لئے ایک تنبیہ ہے کہ ہم فوراً اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔ نیت کی درستگی کے بغیر نیکی اپنی قدر کھو بیٹھتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ہر عمل کو رضائے الٰہی کے تابع کریں اور فخر و ریا سے اپنے دل کو پاک رکھنے کی کوشش کریں  تاکہ ہمارے اعمال نہ صرف دنیا میں خیر و برکت کا سبب بنیں بلکہ آخرت میں بھی قبولیت اور نجات کا ذریعہ ثابت ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK