آج سچ بولنے کیلئے جو جرأت درکار ہے وہ اب مصلحت، منفعت اور انا پرستی کے ایسے دبیز پردوں میں محصور ہے کہ اس کا ظہور ناممکن کی حد تک مشکل ہوگیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 9:55 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai
آج سچ بولنے کیلئے جو جرأت درکار ہے وہ اب مصلحت، منفعت اور انا پرستی کے ایسے دبیز پردوں میں محصور ہے کہ اس کا ظہور ناممکن کی حد تک مشکل ہوگیا ہے۔
عہد حاضر کے انسانی سماج میں جو چیز بہت تیزی سے عنقا ہوتی جا رہی ہے وہ ہے سچ بولنا اورسچائی کو گوارہ کرنا۔ یہ وہ سچائی ہے جس کے مظاہر مختلف صورتوں میں ہر ملک و معاشرہ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ اس سچائی کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔ انسان کی نجی زندگی ہو یا اس کا سماجی رویہ، کذب گفتاری اس کا شیوہ ٔ حیات بن گیا ہے۔ اس معاملے میں انسانی معاشرہ تضاد عمل کے سب سے اونچے پائیدان پر پہنچنے کے قریب ہے۔ سیاست، تجارت، صنعت و حرفت، معیشت، صحافت حتیٰ کہ محبت، رفاقت اور عداوت کے معاملات میں سچ پر جھوٹ کو فوقیت دینے والے انسانی رویے نے سچائی کو بے توقیر کر دیا ہے۔ جھوٹ کے سہارے اقتدار کا حصول، زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد عوام کو مکر و فریب اور جھوٹ کے جال میں الجھائے رکھنے کے نئے نئے پینترے استعمال کرنا، تاریخ و تہذیب کے مستند حقائق پر جھوٹ کا پردہ ڈالنا، جمہوریت کا جھوٹا حوالہ دے کر آمریت کے طرز پر حکمرانی کرنا، جھوٹ کی تشہیر کے دم پر کسی ملک، مذہب یا معاشرہ کو انسانی اقدار و تہذیب کیلئے خطرہ قرار دینااور اسی تشہیر کی بنیاد پرکسی ملک کو جنگ کا ہدف بنانا اور بے گناہ مرد و زن اور معصوم بچوں کو موت کی نیند سلا دینا اور پھر امن عالم کے قیام اور حقوق انسانی کے تحفظ کی وکالت کرنے والوں کی صف میں سر فہرست رہنے کیلئے جھوٹے افسانے گھڑنا، یہ سب عہد حاضر کے انسانی سماج کی وہ سچائیاں ہیں جنھیں اگر کوئی مسترد کرنا بھی چاہے تو اسے اس سے بھی بڑے جھوٹ کا سہارا لینا پڑے گا۔
دراصل سچ بولنے کیلئے جو جرأت درکار ہے وہ اب مصلحت، منفعت اور انا پرستی کے ایسے دبیز پردوں میں محصور ہو گئی ہے کہ اس کا ظہور ناممکن کی حد تک مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا ہی معاملہ سچ کو تسلیم کرنے کا ہے۔ جس طرح سچ کو بولنے کیلئے جرأت اظہار درکار ہے اسی طرح سچ کو تسلیم کرنے کیلئے وہ حوصلہ بھی درکار ہے جو حالات و معاملات کا مشاہدہ و تجزیہ ان حقائق کی بنیاد پر کرے جو کسی معاملے یا صورتحال کو اس کے حقیقی روپ میں اجاگر کرے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی سچ بولے تو اس کی صدق گفتاری کی داد دینی چاہئے۔
گزشتہ دنوں منصف اعلیٰ کی زبان انصاف اساس سے جو بیان وارد ہوا اس کا عالمی سطح پر ایسا اثر ہوا ہے کہ اب کروڑوں افراد خود کو ’کاکروچ‘ تسلیم کرنے لگے ہیں۔ منصف اعلیٰ کی جرات اظہار تو دادو تحسین کی مستحق ہے ہی، اس کے ساتھ ہی ان کروڑوں افراد کے حوصلے کی بھی تعریف کرنی چاہئے جنھوں نے ابھیجیت دیپکے کی پہل پر ہی سہی، خود کو انٹر نیٹ پر پھیل چکی کاکروچ پارٹی کار کن بنا لیا ہے۔ یہ اعتراف وہ سچائی ہے جسے گزشتہ دس بارہ برسوں سے مسلسل اقتدار مختلف حیلوں اور حوالوں سے مخفی رکھنے کی نت نئی تدابیر کرتا رہا ہے۔ وطن عزیز میں جمہوری اقدار کی بقا اور بلا امتیاز و تعصب انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کوشاں سیاسی و غیر سیاسی افراد نے جب منصف اعلیٰ کے بیان پر تشویش و افسوس کا اظہار کیا تو انھوں نے بھی آئین کی پاسبانی کا حق اداکرتے ہوئے اپنے بیان کی توضیح پیش کردی۔ اس توضیح میں بھی انھوں نے اہل وطن کیلئے تشخیص و امتیاز کا جو خاکہ پیش کیا وہ سسٹم کے ناکارہ پن کو عیاں کرنے کے ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ ان کی جرات اظہار میں وہ استحکام نہیں جو تا دیر اپنی بات پر قایم رہ سکے۔ حالانکہ سچائی وہی ہے جو پہلی مرتبہ ان کے دہن عدل پسند سے نازل ہوئی تھی۔
اس سچائی کو منسوخ کرنے سے قبل گزشتہ ایک دہائی کے ان حقائق کو پیش نظر رکھنا لازمی ہے جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ دھرم آمیز سیاست کے جال میں الجھ کر اپنے آئینی حقوق و فرائض کو فراموش کردینے والوں کی حقیقت کیا ہے؟ فی نفر ۱۵؍ لاکھ روپے ملنے کی لالچ، ہر سال دو کروڑ نوکری کا چھلاوا، عوامی زندگی کو جدید سہولیات سے مزین کرنے کے فریب سے شروع ہونے والا افسانہ کبھی نوٹ بندی کے غیر معقول فیصلے کی زد میں آکر سیکڑوں افراد کی موت سے گزرتا ہوا اقتدار اعلیٰ کے تالی و تھالی بجانے اور روشنی کرنے کے فرمان اور اسی دوران آکسیجن کی کمی ومعیاری میڈیکل سہولیات کے فقدان سے لاکھوں اموات کے مرحلے سے گزر کر سی اے اے اور کسانوں کے احتجاج میں ہزاروں کے لقمہ ٔ اجل بن جانے کے علاوہ ہجومی تشدد اور فرقہ ورانہ منافرت کی زد میں آکر زندگی گنوانے والوں کی روداد کے سیاق میں منصف اعلیٰ کی تشبیہ اپنی صداقت کو خود عیاں کر دیتی ہے۔
اس سچائی پر چراغ پا ہونے والوں کو اس کا بھی پرزور مطالبہ کرنا چاہئے کہ اقتدار اس بیان پر اپنا موقف اور منشا ظاہر کرے۔ اس بیان پر ارباب اقتدار کی سرد مہری یہ ظاہر کرتی ہے کہ منصف اعلیٰ کی توضیح کے باوجود اقتدار کی نظر میں عوام کی وہی حیثیت ہے جو منصف اعلیٰ کی زبان سے نکلی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کروڑوں کی تعداد میں خود کو کاکروچ تسلیم کرلینے والے اس حقیقت سے بڑی اس حقیقت کو دریافت کرنے اور اقتدار کو اسے تسلیم کرنے کیلئے کیا تدابیر کرتے ہیں جس حقیقت کو جمہوریت کے محور کی حیثیت حاصل ہے اور آئین نے جس محور کے استحکام اور بقا کو دیگر تمام التزامات پر ترجیح دی ہے۔ آئین کے پاسبان کی حیثیت سے منصف اعلیٰ کو بھی پتہ ہے کہ اس حقیقت کا نام ’کاکروچ‘ نہیں ’عوام ‘ ہے اور جمہوریت میں عوام کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔