نظام عالم کو برقرار رکھنے کیلئے الٰہی اور عقلی دونوں علوم کی بقاء ضروری ہے

Updated: November 20, 2020, 12:07 PM IST | Moalana Syed Muhammed Yusuf Banaori

علم دنیا میں دو راستوں سے آیا ہے۔ ایک علم الٰہی ہے، جو بذریعہٴ وحی انبیائے کرام علیہم السلام کے توسط سے دنیا والوں کو پہنچا ہے ،اس علم کے معلم اول خود حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ شانہ کی ذات گرامی صفات ہے اور اس کے اولین شاگرد حضرات انبیائے کرام علیہم السلام ہیں

Library - Pic : INN
لائبریری ۔ تصویر : آئی این این

علم دنیا میں دو راستوں سے آیا ہے۔ ایک علم الٰہی ہے، جو بذریعہٴ وحی انبیائے کرام علیہم السلام کے توسط سے دنیا والوں کو پہنچا ہے ،اس علم کے معلم اول خود حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ شانہ کی ذات گرامی صفات ہے اور اس کے اولین شاگرد حضرات انبیائے کرام علیہم السلام ہیں۔ اس مقدس سلسلہٴ تلا مذہ میں پہلے شاگرد اور متعلم ابوالبشر سید نا آدم علیہ السلام ہیں، جن کے علم وفضل کا لوہا ملائکہ مقربین تک نے مانا ہے اور اس لحاظ سے حضرت آدم علیہ السلا م کے ذریعہ ہی اس علم الٰہی کا پہلا درس حظیرئہ قدس کی درس گاہ میں ملائے اعلیٰ کے فرشتوں کو ہی دیا گیا ہے ۔یہ علم الٰہی وہ علم ہے جس کے ادراک و معرفت سے عقل انسانی قاصر و عاجز ہے،اس لئے کہ یہ حقائق الٰہیہ اور علوم غیبیہ عقل انسانی کی دسترس سے بالا تر اور وراء الوراء(دور سے دورتر) ہیں، ارشاد باری ہے :
﴿ ”اور وہ (انسان)نہیں احاطہ کر سکتے اس کے علم کے کسی حصہ پربھی، بجز اس کے جو وہ خود (عطا فرمانا) چاہے۔“ (البقرہ: ۲۵۵) 
اور اس ” بِمَا شَآءَ“ کے استثنا کے تحت ان علوم کا جو حصہ انسانوں کو دیا گیا ہے،وہ علم الاولین والآخرین (اگلوں اور پچھلوں سب کاعلم)ہونے کے باوجودبھی ”’قدر قلیل “گویا بحرذخار کے ایک قطرہ کا مصداق ہے۔ارشاد الٰہی ہے:
”اور جو علم تم کو دیا گیا ہے ،وہ تو بہت ہی تھوڑا علم ہے۔“  (بنی اسرائیل:۸۵)
دوسرا وہ علم ہے جس کا ذریعہ عقل وادراک کا وہ جو ہر لطیف ہے جو خالق کائنات نے ہر انسان کی فطرت میں علی فرق المراتب (درجہ بدرجہ) ودیعت فرمایا ہے۔ جس کا ظہور ہربچہ میں ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے اور سن وسال نیز محسوسات و مشاہدات اور تجربات کے اضافہ کے ساتھ ساتھ بڑھتا اور ترقی کرتا رہتا ہے۔
بحیثیت مجموعی ہر دور میں عقل انسانی میں جتنی پختگی پیدا ہوتی گئی، ”یہ فکر ی ونظری علم“بڑھتا اور ترقی و تنوع اختیار کرتا رہا اور جوں جوں نسل انسانی کونت نئی حاجات و ضروریات پیش آتی رہیں،ان کو پورا کرنے کی تگ دو میں اس علم کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتارہا۔
لیکن اس علم انسانی کے مبادی،محسوسات ومشاہدات وتجربات سے انتفاع میں بھی عقل انسانی کی ابتدائی راہ نمائی وحی و الہام الٰہی کے ذریعہ ہی ہوئی ہے اور تمام ترصنعتوں اور حِرفوں کے اصول ومبادیٔ اول بھی انبیائے کرام علیہم السلام ہی ہوئے ہیں۔ چنانچہ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ آدم علیہ السلام کی وہ تمام تر آسمانی تعلیمات جن کی تبلیغ وتعلیم کے لئے اُنہیں مبعوث کیاگیا تھا، معبود حقیقی کی ابتدائی معرفت اور اس روئے زمین پر انسانی زندگی کے ابتدائی لوازمات : غذا، لباس اور مسکن (مکان) کے مہیا کرنے کے طریقوں کی تعلیم پر مشتمل تھیں۔ حضرت ادریس علیہ السلام خیاطت (کپڑا سینے) کے معلم اول تھے، حضرت نوح علیہ السلام کشتی سازی اور جہاز سازی کے معلم اول ہوئے، حضرت داوٴد علیہ السلام آلات حرب میں سے زرہ سازی کے معلم اول، حضرت سلیمان علیہ السلام فنونِ لطیفہ میں سے عمارت سازی اور ظروف سازی کے معلم اول اور معدنیات میں سے خام لوہے سے فولاد تیار کرنے اور تانبہ کو سیال کرنے کی صنعت کے معلم اول داوٴدوسلیمان علیہما السلام ہوئے، قرآن کریم کی نصوص اور صریح آیات اس پر شاہد ہیں۔
لیکن یہ تمام علوم ،جو انسانی عقل اور قوت اختراع کے ذریعہ پروان چڑھے اور دنیا میں پھیلے،در حقیقت علوم نہیں، بلکہ فنونِ صنعت وحرفت ہیں، جنہیں انسانی عقل، موجوداتِ عالم، خصوصاً زمین اور اس کی اندرونی وبیرونی پیداوار، یعنی معدنیات و نباتات و حیوانات،پہاڑوں اور جنگلات کی طبعی پیداوارکے افعال وخواص اور منفعتوں، مضر توں کے مسلسل مطالعہ اور ا س کی تحلیل وترکیب سے انسانی ضروریاتِ زندگی پورا کرنے والی نو ایجادات و اختراعات کو سالہا سال تک بروئے کار لاتی رہی ہے اور یہ نوبہ نو مصنوعات وجود میں آتی رہی ہیں۔
بہر حال قرآن کریم کی روشنی میں یہ تو مسلم ہے کہ حیات انسانی کے ابتدائی مراحل میں عقل انسانی کی راہ نمائی بھی وحی الٰہی کے ذریعہ ہوئی ہے، بلکہ مستدرک حاکم کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی ذریت میں نسلاً بعد نسل جو صنعتیں اور حرفتیں قیامت تک وجود میں آنے والی تھیں ،جن کی تعداد اس روایت کے بمو جب ایک ہزار ہے ،وہ سب الله جل شانہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سکھائی ہیں، آیت کریمہ:وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْأَسْمآءَ کُلَّھَا سے اس روایت کی تائید ہوتی ہے۔فلسفہ تو الدو تناسل کی رو سے بھی آدم یعنی ابوالبشرکی خلقت اور فطرت میں اُن تمام کمالات وفنون کے اجمالی نقوش موجود ہونے ضروری ہیں، جو اُن کی ذریت میں بطورِ توارثِ نسلِ انسانی کے مختلف ادوار میں وجود میںآ نے والے ہیں۔
اس جہان ِحدوث وفنا، یعنی دنیا کے بقاء و ار تقاء کے لئے یہ علوم عقلیہ صناعیہ اور ضروریات ِ زندگی کی کفیل صنعتیں بے حد ضروری ہیں اور ہر دور میں حق تعالیٰ شانہ عقل وادراکِ انسانی کی تحقیقات و تجربات کے ذریعہ اپنی گونا گوں عنصری ، معدنی ، نباتاتی اور حیوانی مخلوق میں چُھپی ہوئی بے شمار صلاحیتیں منفعتیں اور مضرتیں ظاہر فرماتے اور منظر عام پر لاتے رہے ہیں، اس لئے کہ خالق ِکائنات نے حضرت انسان کوہی ان پر متصرف بنایا ہے اورا نہی ارضی وسماوی کائنات و مخلوقات سے اس کی زندگی وابستہ ہے ،ارشاد ہے:
”اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے۔“(الجاثیہ:۱۳)
”جو کچھ زمین میں ہے ،سب تمہارے لئے ہی پیدا کیا ہے۔“(البقرہ:۲۹)
چنانچہ انسانی عقل اور قوتِ اختراع کے ذریعہ ”خَلَقَ لَکُمْ“ اور ”سَخَّرَ لَکُمْ“ کی عملی تفسیر ہمیشہ سامنے آتی رہی ہے اور رہتی دنیا تک آتی رہے گی، نئی نئی”دریافتیں“ ہوتی رہیں گی اور نو بہ نو ایجادات ومصنو عات منظر عام پرآتی رہیں گی ،نہ کائنات میں الله تعالیٰ کے ودیعت فرمودہ افعال و خواص اور منفعتوں اور مضرتوں کی کوئی حد و انتہا ہے اور نہ ہی انسانی ایجاد و  اختراع کی کوئی حد و نہایت ہے۔در حقیقت خالق کائنات کی ان نو بہ نو شئو ن الٰہیہ کے تحت جن کے متعلق ارشاد ہے‘ ’’ہر آن وہ نئی شان میں ہے ۔‘‘ (رحمٰن:۲۹) ہر روز اس کی نئی شان اور نرالی شان ہے، ہر دن اپنے ساتھ نئی نئی در یافتیں اور نو بہ نو ایجادات واختراعات لاتا ہے۔ اس طرح ایک طرف اس کارخانہٴ قدرت کی لا محدود وسعت ،ہمہ گیری اور احاطہ کا اور دوسری طرف روز افزوں دولت وثروت اور نو بہ نو لوازمِ معیشت کا ظہور ہوتا ہے اورحق جل وعلا کے کمال علم و قدرت اور محیر العقول کائناتی نظام کی حکمتیں اور اسرار ظاہر ہوتے رہتے ہیں تاکہ یہ حضرت انسان ان آیات بینات (روشن دلائل) کو دیکھ کر زبانِ حال اور زبانِ قال دونوں طریق پر اعتراف کرتے رہیں کہ:
”اے پروردگار!بے شک تو نے اس (کارخانہٴ قدرت) کو (یو نہی) بے کار، بے فائدہ نہیں پیدا کیا ہے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK