سسٹم کے نزدیک اساتذہ کی کوئی وقعت نہیں ہے

Updated: May 17, 2020, 4:05 AM IST | Jamal Rizvi

گزشتہ دنوںاکو لہ میں لاک ڈاؤن کے دوران شراب کی فروخت کے نظام کو بہتر بنائے رکھنے کیلئے تحصیلدار نے اساتذہ کی ڈیوٹی لگا دی۔ ان اساتذہ کا کام یہ تھا کہ وہ شراب کی دُکان پر آنے والوں کو جسمانی دوری بنائے رکھنے اور لاک ڈاؤن کے ضابطوں کی پابندی کرنے پر آمادہ کریں

Migrant - Pic : PTI
مہاجر مزدور ۔ تصویر : پی ٹی آئی

عالمی سطح پر پھیلی کورونا نامی وبا نے انسانی سماج کی بعض ان سچائیوں کا انکشاف کیا ہے جو زندگی کی صالح اقدار کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ ان سچائیوں میں بعض کا تعلق انسا ن کی مادی ترقی اور اس ترقی سے وابستہ اس کے برتاؤ اور رویے سے ہے اور بعض کا تعلق ان اخلاقی قدروں سے ہے جو کسی سماج کو مہذب بناتی ہیں۔ اس وبا نے عالمی سطح پر طب و صحت کے مسائل میں پیچیدگی پیدا کرنے کے ساتھ ہی انسانی افکاو و اعمال کو بھی اس طور سے متاثر کیا ہے کہ زندگی کے بعض معاملات میں صحیح و غلط کی تفریق کا انداز و معیار بھی بدل گیا ہے ۔
  گزشتہ ہفتہ مہاراشٹر کے ضلع اکولہ کی ایک ایسی ہی خبر سامنے آئی جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ اب سماج میں اچھے یا برے کاموں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں رہ گیا ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اس خبر کا تعلق زندگی کے اس اہم شعبے سے ہے جو نہ صرف ایک انسان بلکہ پورے سماج کی تعمیر و تشکیل اور ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ اس خبر کے مطابق ضلع اکو لہ میں لاک ڈاؤن کے دوران شراب کی فروخت کے نظام کو بہتر بنائے رکھنے کیلئے تحصیلدار نے اساتذہ کی ڈیوٹی لگا دی۔ ان اساتذہ کا کام یہ تھا کہ وہ شراب کی دُکان پر آنے والوں کو جسمانی دوری بنائے رکھنے اور لاک ڈاؤن کے ضابطوں کی پابندی کرنے پر آمادہ کریں ۔اس ڈیوٹی کا فرمان جاری ہونے کے بعد جب معاملہ ریاستی حکومت کی جانکاری میں آیا تو اس نے تحصیلدار کے اس فرمان کو کالعدم قراردیا اور اساتذہ کویہ ذلیل کام کرنے سے بچا لیا۔ 
 اکولہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے اساتذہ کیلئے اس ڈیوٹی کا فرمان جاری ہونے اور ریاستی حکومت کی مداخلت کے بعد اس حکم کے کالعدم ہونے کے دوران کی مدت میں بعض اساتذہ نے اپنی ملازمت کو بچائے رکھنے کی خاطر اس ذلت اور خواری کو بھی برداشت کیا اور شراب خریدنے کیلئے دکان پرآنے والوں کو لائن میں لگایا۔اس افسوس ناک معاملے کی جو خبر اخبار میں شائع ہوئی ہے، اس میں ایک ٹیچر نے اپنی ذلت اور خواری کی روداد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ شراب خریدنے والوں میں اکثر اس کے طلبہ یا طلبہ کے گھروالے بھی تھے جن سے نظریں ملانا اس کیلئے انتہائی کرب ناک عمل تھا۔ یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ سسٹم کے نزدیک اساتذہ کی کوئی وقعت نہیں رہ گئی ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سسٹم ان شخصیات کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک کرتا ہے جو انسان اور معاشرہ کی تربیت و اصلاح اور ان کی ترقی و بہبود میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
 انسانی تاریخ کے ہردور اور ہر سماج میں معلم کو ممتاز حیثیت حاصل رہی ہے ۔ معلم کی ذات انسانی معاشرہ کو نہ صرف علم کی دولت سے مالا مال کرتی ہے بلکہ اسے زندگی گزارنے کے ان طور طریقوں سے واقف کراتی ہے جو اسے مادی و روحانی آسودگی و اطمینان عطا کرتے ہیں۔ درس و تدریس صرف ایک پیشہ ہی نہیں بلکہ وہ خدمت ہے جس کے بغیر انسانی سماج کی ترقی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسی گراں قدر خدمت انجام دینے والے اساتذہ کے متعلق سسٹم کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بعض معاملات میں انسانیت سوز عمل کے مترادف ہوگیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ سسٹم وقتاً وقتاً ایسے احکامات جاری کرتا ہے جو اساتذہ کی ذہنی صلاحیتوں اور جسمانی توانائی کا استعمال مثبت اور کارآمد طریقہ سے کرنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں کو ضائع کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔اگر اس ملک کے موجودہ نظام تعلیم کے تناظر میں بات کریں تو عموماً اساتذہ کو درس و تدریس کے علاوہ ایسے کئی کام کرنے پڑتے ہیں جو نہ صرف ان کی علمی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ان کے سماجی مرتبہ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں ۔ 
 اس ملک میں مردم شماری سے لے کر مختلف سطحوں پر ہونے والے انتخابات میں اساتذہ سے کام لیا جاتا ہے ۔ ان کے علاوہ حکومت کی پالیسیوں کے نفاذ یا اچانک پیدا ہونے والے ہنگامی حالات میں سماج کا سروے کرنا اور عوام کو ایک ذمہ دار شہری کے فرائض و حقوق سے آگاہ کرنے کا کام بھی بیشتر اساتذہ سے لیا جاتا ہے۔مردم شماری، انتخابات یا عوام کو طب و صحت اور تعلیم یا اس نوعیت کے اہم معاملات کے متعلق بیدار کرنے کاکام انجام دیناکچھ غلط نہیں لیکن جب بات یہاں تک پہنچ جائے کہ اساتذہ کو شراب کی فروخت کیلئے لائن درست کرنے کا کام دیا جانے لگے تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
 سسٹم کے ایسے احکامات پر عمل کرنے کے بعد اساتذہ کس منہ سے اپنے طلبہ کو یہ درس دیں گے کہ شراب پینا غلط ہے اور اس سے نہ صرف جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ سماج میں اخلاقی سطح پر ایسی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں جو انسانیت کیلئے باعث ننگ ہوتی ہیں۔اکولہ کی جس خبر نے اساتذہ کے متعلق سسٹم کی بے حسی کو اجاگر کیا ہے وہ بجائے خود اخلاقی پستی کی ایسی مثال ہے جو انسانی اقدار کو منہ چڑاتی ہے۔سسٹم کا یہ رویہ نہ صرف اساتذہ کے وقار کے ساتھ کھلواڑ ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم جب شخصیت کا حصہ نہ بن سکے تو ایسے غیر اخلاقی رویہ کا سرزد ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہوتی ۔
 دنیا کے وہ ممالک جو قدرے آزادانہ طور پر زندگی بسر کرنے میں یقین رکھتے ہیں، ان ملکوں میں بھی اساتذہ کے ساتھ اس طرز کے سلوک کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان ممالک کی سماجی زندگی میں شراب نوشی کے متعلق ایک آزادانہ فکر ملتی ہے اس کے باوجود یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ ان ملکوں میں شراب فروخت کرنے کے نظم کو بہتر بنائے رکھنے کیلئے اساتذہ کی ڈیوٹی سرکاری طور پر لگائی جائے۔حصول تعلیم کے جدید طور طریقوں کے رائج ہونے کے باوجود ان ممالک میں ان قدروں کی پاسداری کی جاتی ہے جو سماج میں ایک معلم کی عزت اور وقار کی حفاظت کرتی ہیں۔اس کے برعکس اگر وطن عزیز میں اساتذہ کے حالات و مسائل پر نظر ڈالیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سسٹم نے انھیں ایک ایسے مجبور و معذور ملازم کی حیثیت عطا کردی ہے کہ اس کے ہر حکم کی تعمیل ان کیلئے لازمی ہو گئی ہے۔اساتذہ کی اس افسوس ناک صورتحال کے اسباب پر غور کرنے پر کئی ایسے عوامل سامنے آتے ہیں جو خود ان کی کوتاہیوں اور خامیوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ خامیاں اور کوتاہیاں انھیں اپنے منصب کے وقار کو برقرار رکھ پانے کا حوصلہ و جرأت نہیں عطا کر پاتیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورا تعلیمی نظام اس سے متاثر ہوتا ہے ۔
 درس و تدریس کا شعبہ ان بنیادی امور کی انجام دہی میں فیصلہ کن کردار اداکرتا ہے جو کسی معاشرہ کی سمت و رفتار کا تعین کرتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ یہ محض ایک پیشہ نہیں بلکہ انسانیت کی بقا اور ترقی کی راہ ہموار کرنے والی ایسی خدمت ہے جس کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتالیکن فی زمانہ اب یہ تصور بالکل برعکس صورت اختیار کر چکا ہے ۔ اب درس و تدریس محض ایک پیشہ ہے اور وہ بھی ایسا پیشہ جو مراعات کے لحاظ سے دیگر کئی پیشوں سے زیادہ نفع بخش ہے۔ اس شعبہ سے وابستہ یہ حقیقت اکثر ان نااہلوں کو بھی اساتذہ کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے جن کی اپنی تعلیم و تربیت مشکوک ہوتی ہے۔ ایسے افراد اپنی مالی ضرورت کی تکمیل کا ایک بہتر اور قدر ے معیاری ذریعہ تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کی نااہلی ایسی کئی خرابیوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنا دیتی ہے جو وسیع پیمانے پراس شعبے کو متاثر کرتی ہیں۔ ان خرابیوں کے سبب سسٹم کو اساتذہ کا استحصال کرنے کا وہ موقع مل جاتا ہے جو ان کی شخصیت کے وقارکو مجروح کرتا ہے۔سسٹم کے ذریعہ اساتذہ کے استحصال کا یہ عمل کسی بھی مہذب سماج میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
 سسٹم کے نزدیک اساتذہ کی اہمیت کم ہونے کا ایک سبب شعبۂ تدریس میں ان نااہلوں کی موجودگی ہے جواپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالے رکھنے کیلئے اس کے ہر احکام کو بلاچوں و چرا تسلیم کر لیتے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ تعلیمی نظام میں اب ایسے لوگ کثرت سے پائے جاتے ہیں جو اپنی شخصیت پر معلمی کا ٹیگ لگائے پھرتے ہیں لیکن اس پیشے کی تقدیس اور عظمت کو باقی رکھنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ ایسے لوگوں کے سبب ہی سسٹم کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ عموماً اساتذہ کوایک ایسے ملازم کے طور پر دیکھنے لگتا ہے جو اس کے ہر فیصلے پر صاد کرے۔ سماج میں اساتذہ کی عزت و توقیر کے بغیر صالح انسانی قدروں کی بقا کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ضروری ہے کہ سسٹم بھی اس حقیقت کو سمجھے اور تسلیم کرے اوراساتذہ کو ایسے معیوب اور اخلاق سوز کام کرنے پر مجبور نہ کرے جو اُن کی شخصیت کو مجروح کرنے کے ساتھ ہی سماج کو پستی اور ذلت کی طرف لے جائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK