جنرل قاسم سلیمانی کا قتل عمد اور اس کے بعد

Updated: January 14, 2020, 9:00 AM IST | Hasan Kamal | Mumbai

 ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے سر پر ۸۰ ؍کروڑڈالر کے انعام کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی ان کو سوٹ بوٹ میں ملبوس دہشت گرد قرار دیا ہے۔ان کے اس اعلان کے پہلے حصہ پر تو بحث کی گنجائش ہوسکتی ہے، لیکن اعلان کے دوسرے حصہ سے اختلاف مشکل ہے۔ایران کے ایک حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر میجر جنرل قاسم سلیمانی کو ٹرمپ کے براہ راست حکم پر جس طرح شہید کیا گیا، اسے دہشت گردی کے سوا کوئی اور نام دیا ہی نہیں جا سکتا۔

جنرل قاسم سلیمانی کی آخری رسومات کا ایک منظر۔ تصویر: پی ٹی آئی
جنرل قاسم سلیمانی کی آخری رسومات کا ایک منظر۔ تصویر: پی ٹی آئی

 ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے سر پر ۸۰ ؍کروڑڈالر کے انعام کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی ان کو سوٹ بوٹ میں ملبوس دہشت گرد قرار دیا ہے۔ان کے اس اعلان کے پہلے حصہ پر تو بحث کی گنجائش ہوسکتی ہے، لیکن اعلان کے دوسرے حصہ سے اختلاف مشکل ہے۔ایران کے ایک حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر میجر جنرل قاسم سلیمانی کو ٹرمپ کے براہ راست حکم پر جس طرح شہید کیا گیا، اسے دہشت گردی کے سوا کوئی اور نام دیا ہی نہیں جا سکتا۔امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف کوئی اعلان جنگ نہیں کیاتھا۔ عراق میدان جنگ نہیں تھا۔اس سے پہلے امریکہ یا صدر ٹرمپ نے جنرل قاسم سلیمانی پر امریکہ یاامریکی افواج کے خلاف کسی تخریبی کارروائی کا الزام بھی نہیں لگایا تھا اس لئے یہ اقدام قتل عمد کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ ہاں یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ شہید جنرل قاسم سلیمانی ایران کے جتنے بڑے فوجی ہیرو تھے، امریکہ اور اس سے بھی زیادہ اسرائیل کے لئے اتنے ہی بڑے ویلن تھے۔جنرل سلیمانی ایک عام فوجی کے عہدے سے ترقی کرتے کرتے میجر جنرل کے عہدے پر پہنچے تھے۔ انہوں نے ’القدس‘ نام کا ایک چھاپہ مارکر فوجی دستہ تیار کیا تھا۔ ’القدس‘ نہایت چاق چوبند، انتہائی تربیت یافتہ اور جنگجو سپاہیوں کا ایک ایسا دستہ تھا ، جس نے شام میں داعش کا قلع قمع کر دیا تھا یہی نہیں گزشتہ صدی کے آخری عشرہ میں لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج میں جو جنگ ہوئی تھی، مبینہ طور پر اس کی کمان بھی جنرل سلیمانی نے ہی سنبھال رکھی تھی۔ اس جنگ میں اسرائیل کو اتنی بڑی شکست ہوئی تھی کہ شکست کے اسباب جاننے کے لئے حکومت اسرائیل کو ایک کمیشن بٹھانا پڑا تھا۔ اسرائیل میں یہ خوف تھا کہ کہیں ایران تل ابیب پر حملہ نہ کر دے۔ اسرائیل کو معلوم ہے کہ ایران کے پاس وہ مزائلیں موجود ہیں جو تل ابیب تک پہنچ سکتی ہیں۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ کارگزار وزیر اعظم نیتن یاہو کو روپوش ہونا پڑا۔ وہ تادم تحریر منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ 
 بہر حال اس واقعہ کے بعد ساری دنیا میں عجب ماحول دیکھا گیا۔ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر ایران میں تو ایسا غم و غصہ تھا کہ معلوم ہو رہا تھا کہ نہ جانے کب کیا ہو جائے۔ برہمی تمام مشرق وسطیٰ کے عوام میں بھی پھیلی ہوئی تھی۔ برطانیہ کے سوا یورپ کے تمام ممالک میں ٹرمپ نکتہ چینی کا نشانہ بن گئے۔ روس اور چین نے بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ایران کے روایتی مخالفین سعودی عرب اور دبئی نے بھی خلاف دستور امریکہ کی تائید سے گریز کیا، بلکہ فریقین سے صبر و ضبط کی درخواست کی۔ اگلے دن جب ایرانی میزائلوں نے بغداد میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تو دنیا میں اور بھی سراسیمگی پھیل گئی۔ اس حملہ میں یہ تو طے ہے کہ امریکہ کو زبردست فوجی نقصان ہوا ہے، لیکن کسی جانی نقصان کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے، گو ایران کا دعویٰ ہے کہ ۸۰؍ امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
  صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کے نام ایک ٹویٹ کرکے یہ نوٹس دیا تھا کہ اگر ایران کے کسی حملہ سے ایک بھی امریکی مارا گیا ، یا کوئی اثاثہ برباد ہواتو وہ ایران کے خلاف اعلان جنگ کر دیں گے۔ امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار امریکی کانگریس نے جوابی ٹویٹ کر کے ٹرمپ کو آگاہ کیا کہ اعلان جنگ کا حق امریکی صدر کو نہیں ہوتا، امریکی کانگریس کو ہوتا ہے۔ ٹرمپ کو احساس ہو گیا کہ وہ ’نیشنلزم‘ کے نام پر امریکیوں کو جال میں نہیں پھنسا سکتے۔ اسی کے بعد ان کا لہجہ بدلنا شروع ہوا۔ یوں بھی بغداد میں امریکی افواج کے ساتھ ہی جو ناٹو افواج مقیم ہیں، وہ عراق سے نکلنے کیلئے بہت مضطرب ہیں۔ جرمنی اور فرانس بھی اس صورت حال سے عاجز آچکے ہیں۔ امریکی میڈیا کا ایک حلقہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے بارک اوبامہ کی نقل کرنے کی کوشش میں اس قتل عمد کا ارتکاب کیا ہے۔ بارک اوبامہ نے بھی الیکشن سے کچھ ہی پہلے اسی طرح کی کارروائی میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا۔ ٹرمپ نے بھی یہ اقدام الیکشن سے کچھ پہلے ہی کیا ہے۔ بس اسامہ بن لادن اور قاسم سلیمانی کے کرداروں میں کوئی مماثلت نہیں تھی۔ یہ شبہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی کانگریس (ایوان بالا) میں اکثریت کے باوجود ٹرمپ اپنے مواخذہ سے بہت پریشان ہیں۔ یہ سچ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس وقت کسی دوسرے ملک کی فوج ایرانی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ تیل کی دولت سے مالا مال کئی عرب جدید ترین اور بے حد خطرناک جنگی سازو سامان ضرور خرید سکتے ہیں اور خرید بھی رہے ہیں لیکن صرف ایرانی فوج عملی جنگ کا تجربہ رکھتی ہے۔ ایران عراق سے سات سال تک نبرد آزما رہا ہے۔ عراق کی فوج بالکل تباہ ہو چکی ہے۔ شامی فوج کو اپنے ہی ہم وطنوں سے لڑنے سے فرصت نہیں ملتی۔ مصر بھی اسرائیل سے شکست کھا چکا ہے۔ لیکن اس فوجی برتری کے باوجود معاشی پابندیوں اور ناکہ بندی نے ایران کے جنگی وسائل بہت محدود کر دیئے ہیں۔ اس کا یہ قطعی مطلب نہیں ہے کہ ایران جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کو فراموش کر دے گا۔ یہ بات امریکہ بھی جانتا ہے کہ ایران فوجی اعتبار سے امریکہ سے کمزور سہی، لیکن خارجہ پالیسی کے محاذ پر امریکہ سے بہت آگے ہے۔ جنرل سلیمانی کے قتل کے بعد دنیا کے بیشتر ممالک میں ایران کیلئے جذبہ ہمدردی دیکھا جا رہاہے۔ جو ممالک امریکہ کے خوف سے چپ بھی ہیں، وہاں کے عوام میں یہ جذبہ صاف نظر آرہا ہے۔ یہ طے ہے کہ ایران اس صورت حال سے فائدہ ضرور اٹھانا چاہے گا لیکن کب اور کہاں ، یہ نہیں کہا جا سکتا۔ 
 اس تمام صورت حال کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جو ہم ہندستانیوں کے لئے بہت تکلیف دہ ہے۔ اب سے چند سال پہلے دنیا کے کسی بھی گوشے میں کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا تھا، جو بین الاقوامی توجہ کا مستحق ہو تو ہندوستان کو کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جاتا تھا۔ ہندوستان کو اس سے آگاہ بھی کیا جاتا تھا اور ہندوستان سے مشورہ بھی لیا جاتا تھا لیکن اس بار اتنا بڑا واقعہ ہوا اور وہ بھی ایشیا اور ہندوستان کے پڑوس میں ، لیکن ہندوستان کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا۔ امریکی خارجہ سکریٹری مائک پامپی او نے روس، چین ، ترکی ، پاکستان اور افغانستان سب کے وزرائے خارجہ یا سربراہوں کو فون کر کے امریکی موقف سے آگاہ کیا۔ نہیں کیا تو ہندوستان میں کسی کو فون نہیں کیا۔ وزیر خارجہ جے شنکر کو خودمائک پامپی او کو فون کرنا پڑا۔ کوئی خاص توجہ نہ ملنے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کو نئے سال کی مبارک باد دینے کے لئے فون کیا۔ یہ اور بات ہے کہ نئے سال کی مبارک بادیکم جنوری کے بجائے ۷ جنوری کو دی جا رہی تھی۔ بہر حال ٹرمپ نے بھی ایران کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ یہ ہے دنیا میں ہمارا مقام۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK