فتنوں کے دَور میں مسلمان کا طرز ِعمل

Updated: June 26, 2020, 4:43 AM IST | Mohammed Noman Farooqui

احادیث ِ مبارکہ میں فتنوں کے متعلق پیش گوئیوں کا اظہار اس بنا پر نہیں کیا گیا کہ ہم انتظار کرتے رہیں اور فتنے پورے ہوتے دیکھتے رہیں بلکہ اس لئے خبردار کیا گیا ہے تاکہ ہم محتاط رہیں

Muslim - Pic : INN
مسلمان ۔ تصویر : آئی این این

 اور آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طرزِ عمل کو اختیار کریں۔ یعنی صرف مشکل سے آگاہ ہی نہیں كیا گیا بلکہ اس کا حل بھی بتا دیا گیا ہے۔ لیکن ان کے مطالعے کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ واقعی فتنوں کا دور شروع ہو چکا ہے اور ہمیں یہ طرزِ عمل اپنا لینا چاہئے بلکہ جس علاقے كے مسلمانوں كو جس نوعیت کے فتنوں کا جس قدر سامنا ہو، وہ اس میں محتاط طرزِ عمل اختیار كریں او رچوكنا  رہیں، كیونكہ فتنہ اپنے آغاز میں اس نومولود كی طرح ہوتا ہے جس كے بارے میں كچھ بھی كہنا قبل از وقت ہوتا ہے۔
فتنوں میں مسلمانوں كا طرزِ عمل
زیادہ سے زیادہ عبادت:
 سیدنا معقل بن یسار سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ہرج (فتنوں) کے دَور میں عبادت میری طرف ہجرت کرنے کے مترادف ہے۔‘‘
 احادیث میں’’الہرج‘‘ کے معنی کثرتِ قتل بھی بتلائے گئے ہیں، مگر مذکورہ حدیث کی شرح میں امام نووی لکھتے ہیں: ’’الہرج‘‘ سے یہاں مراد فتنہ ہے اور لوگوں کے معاملات کا اُلجھ جانا، اور فتنوں میں عبادت کی فضیلت اس لئے ہے کہ فتنوں میں لوگ عبادت سے غافل ہو کر ادھر اُدھر کے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں اور بہت تھوڑے افراد ہی عبادت کرتے ہیں۔
 عبادت کی زیادہ تر نوعیت نماز، روزہ اور صدقہ و خیرات سے متعلق ہو جیسا کہ سیدنا حذیفہؓ کی روایت کردہ ایک حدیث میں  ہے۔ دراصل فتنہ اپنے اندر کشش بھی رکھتا ہے۔ مثلاًبعض لوگوں کو پتہ ہے کہ میں کسی پر حملہ کر کے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو رہا ہوں مگر وہ اس کیلئے بھی تیار ہے۔ عبادت میں مصروف ہوگا تو ایسے افكار و خیالات سے نجات ملے گی جو شریعت كے منافی ہوں۔ اسلئے عبادت میں مشغول ہونے پر اتنے بڑے اَجر کی نوید سنائی گئی ہے۔
فتنوں سے بچنے کی دعا: 
 فتنوں میں حصہ لینا تو دُور کی بات ہے ہمیں تو فتنوں سے بچنے کی دعا کرنی چاہئے۔ نبی ﷺ بھی اس امت کے فتنوں میں پڑنے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آپ ﷺنے پانچ بڑی عمومی نوعیت کی خامیوں اور ان پر ملنے والی سزاؤں کا ذکر فرمایا لیكن ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا:
 ’’پانچ  خامیاں ہیں جب تمہاری ان کے ذریعے آزمائش ہوئی (تو تم ہلاکت سے دوچار ہو گے) اور میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان خامیوں (کے دَور) کو پا لو۔‘‘
 گروہ بندی اور حزبیت:
 سیدنا حذیفہ بن یمانؓ نے نبی ﷺ سے خیر اور شر کے متعلق متعدد سوالات کئے۔ اسی دوران آپ ﷺ نے شر کے دور کے متعلق فرمایا: ’’جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہوئے داعی ہوں گے۔  جو ان کی بات مان لے گا، وہ اسے جہنم میں گرا دیں گے۔‘‘
 حذیفہ ؓنے عرض کیا: ایسے لوگوں کے متعلق ہمیں بتائیں۔ فرمایا:’’وہ ایسے لوگ ہوں گے جو ہم میں سے ہی ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولیں گے۔‘‘ حذیفہؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسولؐ! اگر یہ دور میرے ہوتے ہوئے آ جائے تو آپؐ کی کیا ہدایت ہے (کہ میں کیا کروں؟) فرمایا: ’’مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے جُڑ جاؤ۔‘‘ سیّدنا حذیفہؓ نے دریافت كیا: ’’ اگر ان كی كوئی جماعت اور امام نہ ہو تو (كیا حكم ہے؟)‘‘
  آپﷺ نے فرمایا:’’تو تم ان سب گروہوں سے كنارہ كش ہو جانا۔‘‘ سیّدنا حذیفہ نے یہ نہیں پوچھا تھا كہ مسلمانوں كی كئی جماعتیں ہوں بلكہ ان كا سوال مسلمانوں كی ایك جماعت اور امام كے متعلق تھا مگر جب ایك جماعت اور امام نہ ہو تو اس كا لازمی نتیجہ متعدد جماعتوں كی صورت میں نكلتا ہے۔ اس لئے آپ ﷺنے تمام جماعتوں اور گروہوں سے كنارہ كش رہنے كا حكم دیا ہے۔ لہٰذا فتنوں كے دور میں جماعتوں كے بت تراشنے كی بھی ضرورت نہیں۔ جب ان جماعتوں اور گروہوں سے دور رہنے كی تلقین كی گئی ہے تو پھر گروہ بندی كا جواز كیونكر ہو سكتا ہے۔
ہرگز قاتل نہ بنے:
 نبیﷺ فتنوں کا ذکر فرما رہے تھے۔ اس دوران سیدنا سعد بن ابی وقاص نے عرض کی: اللہ کے رسول! کوئی فتنہ پرور میرے گھر آ جائے اور مجھے قتل کرنے کی پوری تیار کر لے (تو کیا کروں)؟ فرمایا:’’آدم کے (مقتول) بیٹے کی طرح ہو جانا۔‘‘
زبان اور قلم پر کنٹرول:
 فتنوں کے دور میں زبان اور اس سے زیادہ اثر انداز ہونے والے قلم پر بھی مکمل کنٹرول ہونا چاہئے کیونکہ اس کا ذرا سا غلط استعمال ’’محرم‘‘ سے’’مجرم‘‘ بنا دیتا ہے۔ فرمانِ نبویﷺ ہے:  ’’اور (فتنوں كے دور میں) اپنی زبان (اور تحریر) پر مکمل کنٹرول رکھو۔‘‘اگرچہ عام حالات میں بھی كنٹرول ہی ہونا چاہئے مگر فتنہ و فساد كے دور میں اس حوالے سے مكمل احتیاط برتنی چاہئے۔
سرگرمیوں کی تحدید:
 آپﷺ کا فرمان ہے: ’’فتنوں کے دور میں لیٹنے والا، بیٹھنے والے شخص سے، بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے شخص سے،  کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہے۔‘‘یعنی جو شخص جس حد تك دور رہے، اتنا اچھا ہے۔ اسی طرح فتنے کے دور میں گھر تک محدود رہنے کی بھی تلقین آپؐ نے فرمائی ہے۔
 اپنے آپ کو سدھارے:
حدیثِ مبارکہ ہے:’’اور (اس پرفتن دور میں) تم بس اپنے آپ کی خصوصی فکر کرو اور لوگوں کی گتھیاں سلجھانے کو چھوڑ دو۔‘‘ 
 مذکورہ اور اس سے ملتی جلتی مزید بھی راہنمائیاں ہیں جو فتنوں کے دور سے متعلق ہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ یہ ضروری نہیں کہ وہ دور آ چکا ہو مگر حفظِ ماتقدم کے تحت اور فتنوں سے دوچار ہونے سے قبل ان کے متعلق جاننا ایک بہتر اور نافع عمل ہوگا۔
  فتنوں سے دوچار ہو نے کے بعد اُن کا پتا چلے تو اس کا کیا فائدہ ...اسی لئے تو آپﷺ نے بہت پہلے ہی اظہار فرما دیا تھا تاکہ اُمّت فتنوں سے بچ کر رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK