ہر خامی کا سبب ماضی میں تلاش نہیں کیا جاسکتا

Updated: September 13, 2020, 5:25 AM IST | Aakar Patel

مضمون نگارنے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی تصنیف کے چند نکات سے بحث کی اورمختلف اُمور کا تجزیہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ ماضی کو کھنگالنے کی بجائے حال پر توجہ دینا اور ماضی کی ’غلطی‘ کو درست کرنا بہتر عمل ہوگا۔

S Jaishankar - Pic : INN
ایس جے شنکر ۔ تصویر : آئی این این

ملک کے موجودہ وزیر خارجہ (ایس جے شنکر) کا تعلق دانشوروں اور اسکالروں کے خاندان سے ہے۔ اُن کے والد شری کے سبرامنیم دہلی کے مشہور تھنک ٹینک ’’آئی ڈی ایس اے‘‘(انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینالیسس) کے بانی اور اندرا گاندھی کے مشیر تھے۔ ہندوستان کے نیوکلیائی پروگرام اور بنگلہ دیش میں فوجی مداخلت جیسے  معاملا ت میں اُن کے مشوروں کا کافی دخل تھا۔ ان کے صاحبزادے اور جے شنکر کے بھائی سنجے قرون وسطیٰ کے ہندوستان (کی تاریخ) کے مشہور اسکالر ہیں۔ انہوں نے سورت (میرا آبائی وطن) کی تجارت ، جنوبی ہند اور واسکو ڈای گاما پر کتابیں لکھی ہیں۔ یہ سب لکھنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ وزیر خارجہ، ڈاکٹر (وہ پی ایچ ڈی ہیں) ایس جے شنکر کاخاندانی پس منظر ہمارے دیگر وزراء جیسا نہیں ہے۔ چند روز پہلے ان کی ایک کتاب کا اجراء عمل میں آیا جس میں انہوںنے کہا ہے کہ تین چیزوں نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر منفی اثر ڈالا ہے۔ اول: ۱۹۴۷ء میں ملک کا تقسیم ہونا جس کی وجہ سے ہندوستان کا رقبہ کم ہوگیا اور چین کو پہلے سے بھی زیادہ اہمیت حاصل ہوگئی۔ دوئم: معاشی اصلاحات (۱۹۹۱ء ) کا تاخیر سے برپا ہونا۔ اگر ان اصلاحات کو جلد (۱۹۹۱ء سے پہلے) جاری کیا گیا ہوتا تو ہمارا ملک معاشی اعتبار سے اس مقام پر پہنچ جاتا جہاں اب تک اس کی رسائی نہیں ہوئی ہے۔ سوئم: ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کے فیصلے میں تاخیر ہونا۔ انہوں نے ان تین چیزوں کو ’’تین بوجھ‘‘ قرار دیا ہے۔
 اس کا کیا مفہوم ہے؟ یہ جاننے کیلئے ہمیں اُن کے خیالات کا دو طریقوں سے جائزہ لینا ہوگا۔ پہلا طریقہ یہ ہوگا کہ ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں وہ کہاں تک درست ہے؟ 
 اس میں کوئی شک نہیں کہ تقسیم ہند کی وجہ سے ملک رقبے میں کم ہوا ۔ اگر تقسیم ہندکا واقعہ نہ ہوا ہوتا تو ملک جغرافیائی اعتبار سے کافی بڑا ہوتا اور اس کی آبادی ۱ء۷؍ ارب نفوس پر مشتمل ہوتی مگر معیشت، فی کس آمدنی اور پیداوار جیسے معاملات میں اس کے حالات کچھ مختلف نہ ہوتے۔ یہ اس لئے کہا جارہا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے تینوں ممالک جن پر برطانیہ کا تسلط تھا، وہ نہ تو ترقی یافتہ ممالک میں تبدیل ہوئے نہ ہی کوئی بڑی پیش قدمی کرسکے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کا دورہ کرکے دیکھ لیجئے،معلوم ہوگا کہ یہ ویسے ہی ہیں جیسے کہ ہندوستان کے اکثر و بیشتر علاقے۔ 
 دوسرا نکتہ جو ایس جے شنکر نے بیان کیا وہ معاشی اصلاحات کا تاخیر سے نافذ ہونا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اُن کا میدان نہیں ہے کہ کوئی رائے دے سکیں۔ وہ ماہر معاشیات نہیں ہیں۔ اسی لئے ہمیں اُن کی کہی ہوئی باتوں پر یقین کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں وہ مبنی بر حقیقت ہے یا نہیں ہے۔ نہرو کے دور میں ملک کی جو معیشت تھی اس کے پاس وسائل کم تھے۔ ہیوی انڈسٹریز کو سرکاری سرمائے کی ضرورت تھی اور سرکاری پشت پناہی کے بغیر وہ تمام چیزیں قائم نہ ہوتیں مثلاً تعلیمی ادارے، جنہیں ہم بہت سرسری لیتے ہیں۔ آپ نجی کاری کی چاہے جتنی تعریف کریں، آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم کا آج بھی کوئی متبادل نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اندرا گاندھی کے دور کا لائسنس راج ٹھیک تھا۔ یہ بالکل بھی ٹھیک نہیں تھا۔ جے شنکر کا معاشی اصلاحات میں تاخیر کا نکتہ ایسا ہے کہ جسے سن کر ہم گردن تو ہلا سکتے ہیں مگر اس نکتے سے سو فیصد اتفاق نہیں کرسکتے۔ تیسرا نکتہ جو انہوں نے پیش کیا وہ نیوکلیائی تجربے سے متعلق ہے جو مئی ۱۹۷۴ء میں کیا گیا تھا۔ ہندوستان اکثر نیوکلیائی طاقت ہونے پر فخر کرتا ہے مگر ہم اس میدان میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے سکے ہیں۔ جنوبی امریکہ، یورپ، ایشیاء اور افریقہ کے کئی ممالک نیوکلیائی تجربہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے  کہ ہندوستان نے نیوکلیائی تجربہ کے ذریعہ، دیگر ملکوں سے کئے گئے اپنے وعد وں کی خلاف ورزی کی۔ اس کے باوجود جو تجربہ ہوا وہ کیسے ہوا؟ وہ ری ایکٹر جس سے اسلحہ بنایا گیا وہ کناڈا سے منگوایا گیا تھا جس سے ہم نے کہا تھا کہ ہم اس کا استعمال پُرامن مقاصد کے تحت نیوکلیائی تکنالوجی تیار کرنے کیلئے کریں گے (اسی لئے اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ۱۹۷۴ء کا نیوکلیائی تجربہ ایک پُرامن تجربہ تھا۔)
 اس کے تحت جو اسلحہ تیار کیا گیا وہ ۴۵؍ سال سے ہمارے پاس ہے۔ کیا اس سے ہمیں کوئی مدد ملی؟ ہم اُسے پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرسکتے جبکہ گزشتہ ۳۰؍ سال سے ہم اسے دہشت گردی کا ملزم گردانتے ہیں۔ ہم اسے چین کے خلاف بھی استعمال نہیں کرسکتے جس نے لداخ میں دراندازی کی ہے۔ اس کے باوجود اگر یہ کہا جارہا ہے کہ نیوکلیائی تجربہ جلد کرلیا گیا ہوتا تو اس کا فائدہ ہوتا تو یہ قابل بحث ہے
 جے شنکر نے ان تین چیزوں کو ’’بوجھ‘‘ کہا اور اس بوجھ کو کانگریس کی دہلیز پر رکھ دیا ہے۔ ایسے میں ضروری ہوگا کہ ہم یہ دیکھیں کہ اس سلسلے میں ان کی پارٹی کیا کرتی ہے یا کیا کررہی ہے۔ ہندوستان کی تقسیم بھلے ہی ہوئی ہو مگر پاکستان اور بنگلہ دیش آج بھی ہماری سرحدوں سے ملحق ہیں۔ انہیں افریقہ نہیں بھیج دیا گیا ہے۔ نئی دہلی کو کون سی بات بنگلہ دیش اورپاکستان کو تجارت اور سفر کے ذریعہ جوڑ نے یا متحد کرنے سے روکتی ہے؟ یہ ہمارا نیشنلزم ہے۔ نیپال کے ساتھ ویزاکے بغیر آزادانہ آمدورفت کا ہمارا معاہدہ ہے مگر بنگلہ دیش کے ساتھ نہیں ہے۔ کیوں؟ ہم جنوبی ایشیاء کو ویزا کی بندش سے آزاد کرکے تجارت اور سفر کی اجازت عام کرسکتے ہیں مگر بی جے پی ایسا کرنا نہیں چاہتی۔ 
 جے شنکر کا یہ خیال کہ معاشی اصلاحات (لبرلائزیشن) سے خود کار طریقہ پر معاشی ترقی شروع ہوجاتی ہے، غلط ہے۔ بی جے پی کے اقتدار میں جنوری ۲۰۱۸ء سے ہندوستانی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور یہ حکومت ہی کے فراہم کردہ اعدادوشمار سے ثابت ہوتا ہے۔ اب تک کے ۶؍ سالہ اقتدار میں ڈھائی سال صرف اور صرف معیشت کی خستہ حالی کے گزرے۔ سوشلزم اور لائسنس راج کے دور میں ایسا نہیں ہوا تھا۔ 
 اب تک جو اشارے اور اعدادوشمار ہمارے سامنے ہیں ان کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ اس سال معیشت سکڑ جائے گی۔ لبرلائزیشن سے معاشی نمو کی ضمانت نہیں ملتی۔ جے شنکر کے تینوں نکات سہل پسندانہ  ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی کیا تھا، یہ اتنا اہم نہیں ہے، البتہ اسے اہم باور کرایا جاتا ہے جب ہم اقتدار کے تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھ کر اُنہیں پورا نہیں کرپاتے اور ماضی میں بہانہ تلاش کرنے لگتے ہیں۔ اگر جے شنکر کی تشخیص درست ہے تو وہ ماضی کی غلطیوں کو درست کیوں نہیں کررہے ہیں؟ اُن کی تصنیف اس سوال کے جواب میں خاموش ہے۔ شاید اس کا جواب مستقبل میں شائع ہونے والی ان کی کسی کتاب میںملے ! 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK