غم اہل فلسطین کا

Updated: January 13, 2022, 1:13 PM IST | p

اہل فلسطین کیلئے ویسے تو کوئی سال خیروعافیت سے نہیں گزرتا مگر گزشتہ سال ۲۰۲۱ء کے دوران ایک وقت وہ آیا جب اسرائیلی جارحیت نے لاشوں کے ڈھیر لگادیئے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 اہل فلسطین کیلئے ویسے تو کوئی سال خیروعافیت سے نہیں گزرتا مگر گزشتہ سال ۲۰۲۱ء کے دوران ایک وقت وہ آیا جب اسرائیلی جارحیت نے لاشوں کے ڈھیر لگادیئے۔ مئی ۲۰۲۱ء میں ۲۶۰؍ فلسطینی جاں بحق ہوئے جن میں ۳۹؍ خواتین اور ۶۷؍ بچے شامل تھے جبکہ زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد ۱۹۰۰؍ تھی۔ جو لوگ فوت ہوگئے وہ تو اس دُنیا سے رخصت ہوگئے مگر جو بقید حیات رہ کر ’خوش نصیب‘ کہلائے اُن کے مسائل و مصائب کو دیکھ کر کوئی بھی انہیں خوش نصیب کہنے کی غلطی  نہیں کرسکتا۔ ان کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے یا جزوی طور پر۔ مکمل تباہ ہونے والے مکانات کی تعداد ۱۸۰۰؍ تھی جبکہ جزوی طور پر تباہ ہونے والے ۱۴؍ ہزار ۳؍ سو تھے۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہیں فلسطین سے دلچسپی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناکردہ گناہی کی سزا جھیلنے والے اہل فلسطین کے دکھ درد کی جتنی تفصیل دُنیا بھر کے عوام تک پہنچنی چاہئے، اتنی نہیں پہنچتی۔ اس کا نتیجہ ہے کہ وہ خطہ جو کل تک بھرا پرا ملک تھا اور اب قطعۂ اراضی میں تبدیل ہوچکا ہے، دُنیا کی نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے اور اسرائیل اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے میں بآسانی کامیاب ہوجاتا ہے۔ بڑی طاقتیں اُس کے ہر گناہ کو چھوٹا گناہ قرار دیتی ہیں۔ ’الجزیرہ‘کی ایک رپورٹ میں اُن چند نوعمروں کے روزوشب بیان کئے گئے ہیں جن میں سے ایک، اَب دیکھ نہیں سکتا،دوسری بچی ہے جو اپنا ایک پیر گنوا چکی ہے اورایک نوجوان ہے جس کا نچلا دھڑ بے جان ہوگیاہے۔ مئی گزر گیا، جس سال (۲۰۲۱ء) کے دوران وہ مئی آیا تھا وہ سال بھی گزر گیا مگر جو لوگ اسرائیلی شیطنت کی زد پر آئے اُن کیلئے نہ تو وہ ماہ ختم ہوا ہے نہ ہی سال۔ دُنیا آگے بڑھ گئی مگر وہ وہیں رُک گئے، روک دیئے گئے، چنانچہ اُن کا سوال برحق ہے کہ اُنہیں کیوں اس حال کو پہنچایا گیا اور اُن کے بعد مزید کتنے نوعمر اس حال کو پہنچائے جائینگے؟ یہ سوال عالمی برادری کا تو منہ چڑا ہی رہا ہے، کرہ ٔ ارض پر پھیلے ہوئے کروڑوں انصاف پسند لوگوں کو بھی دعوت عمل سے پہلے دعو ت احساس دے رہا ہے کہ کون ظالم ہے کون مظلوم اس کا فیصلہ بعد میں کیجئے،پہلے ہماری بابت کچھ جاننے کی کوشش تو کیجئے!
 بتایا جاتا ہے کہ مئی ۲۱ء میں غزہ پر مسلط کی گئی اسرائیلی جنگ ۱۴؍ سال میں چوتھی بڑی جنگ تھی جس کا اُتنا ہی نوٹس لیا گیا جتنا اس سے پہلے کی تین جنگوں کا لیا گیا تھا۔ بات فلسطین کی ہو تو بڑی طاقتیں بھی اسرائیل کے ’’حق ِ تحفظ‘‘ کی بات پہلے کرتی ہیں جبکہ فلسطین کی جانب سے پتھر بھی چل جائے تو اُسے رات دن کے چھوٹے بڑے واقعات کے خلاف ایک ادنیٰ ردعمل قرار نہیں دیا جاتا، اسرائیلی جارحیت کی وجہ بتایا جاتا ہے۔ اسی منافقت نے یہ دن دکھائے ہیں کہ تل ابیب کی حکومت روزانہ اہل فلسطین کا حوصلہ آزماتی ہے اور اُنہیں اذیت دے کر ہی شاید چین کی نیند سوتی ہے۔ تازہ واقعہ راملہ ّ کا ہے جہاں ایک ۸۰؍ سالہ شخص کو جو گاڑی چلا رہا تھا، اسرائیلی فوج نے ملٹری آپریشن کے دوران روکا، گاڑی سے اُتار کر اُسے ہتھکڑی ہی نہیں لگائی گئی، آنکھوں پر پٹی باندھ کر زمین پر گرا دیا گیا اور جب اُس کی موت واقع ہوگئی تو اُسے اُسی جگہ چھوڑ کر چلتے بنے۔ فلسطین کی بچی کھچی سرزمین پر ایسے واقعات کے بے شمار نشان ہیں جنہیں نشان زد کرنا بھی اب ممکن نہیں۔یہی حال بچے کھچے مکانات کا ہے کہ ان میں کوئی مکان ایسا نہیں جہاں کے مکین اسرائیلی ظلم سے ہلاک یا زخمی نہ ہوئے ہوں۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے عالمی طاقتوں کی منافقت روز افزوں ہے۔ 

palestine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK