نوجوانی و شباب انسان کی عمر کا وہ حصہ ہے جو سن بلوغت سے شروع ہوتا ہے اور عمر کے ۴۰؍ سال تک جاتا ہے۔ عربی زبان میں نوجوانی کے لئے ’’شباب‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: November 17, 2023, 1:00 PM IST | Dr. Shafqat Ali Al-Azhari | Mumbai
نوجوانی و شباب انسان کی عمر کا وہ حصہ ہے جو سن بلوغت سے شروع ہوتا ہے اور عمر کے ۴۰؍ سال تک جاتا ہے۔ عربی زبان میں نوجوانی کے لئے ’’شباب‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔
نوجوانی و شباب انسان کی عمر کا وہ حصہ ہے جو سن بلوغت سے شروع ہوتا ہے اور عمر کے ۴۰؍ سال تک جاتا ہے۔ عربی زبان میں نوجوانی کے لئے ’’شباب‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے عرصۂ شباب کی طرف اشارہ یوں فرمایا ہے: ’’یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتا ہے اور (پھر) چالیس سال (کی پختہ عمر) کو پہنچتا ہے۔‘‘(الاحقاف:۱۵)
اس کا مطلب ہے کہ جب انسان قوی و مضبوط ہوجاتا ہے اور اس کی عقل و فہم مکمل ہوتی ہے تو اس کی عمر ۴۰؍ سال تک ہوتی ہے۔ انسانی زندگی میں نوجوانی کا مرحلہ دوسرے مراحل میں سے نمایاں اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انسان مختلف مراحل عبور کرتا ہے۔ دنیا میں چھوٹا اور کمزور آتا ہے اور اسے کسی چیز کا علم نہیں ہوتا، پھر تھوڑا تھوڑا جانتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کا جسم مضبوط اور حواس کی نمو ہوتی ہے اور عقل و علم میں اضافہ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ پختہ عمر کو پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں حیات انسانی کے اس ارتقائی مرحلہ کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے:
’’اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے (اس حالت میں ) باہر نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر بجا لاؤ۔‘‘(النحل:۷۸)
شباب کا مرحلہ انسانی زندگی میں افضل اور اعلیٰ ہے کیونکہ انسان اس مرحلہ میں قوت و نشاط سے ہمکنار ہوتا ہے اور حواس میں کمال و نظم پاتا ہے اور حواس سے زیادہ سے زیادہ انتفاع (فائدہ) لینے پر قدرت رکھتا ہے۔
نوجوان قوموں کے ستون
نوجوان تمام زمانوں ، ملکوں اور ثقافتوں میں قوموں کے ستون گردانے جاتے ہیں بلکہ یہ ان کی ترقی کا راز اور اس کے ذمہ دار شمار ہوتے ہیں کیوں کہ یہ عمر ہمت، جدوجہد، قربانی اور جاں نثاری کی ہوتی ہے اور خاص طور پر ترقی پزیر ممالک میں نوجوان اہم کردار ادا کررہے ہوتے ہیں جن کی بدولت کامیابیاں متوقع ہوتی ہیں ۔ اگر کسی معاشرے میں نوجوانوں کے تحفظ اور اہلیت پر توجہ نہ دی جائے تو ترقی و غلبہ اس کے لئے ناممکن ہوتا ہے۔اسی لئے دین اسلام نے اس مرحلہ کے افراد پر خصوصی توجہ مرکوز فرمائی ہے اور برسبیل مثال قرآن کریم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اتباع کی طرف اشارہ فرمایا:
’’پس موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم کے چند جوانوں کے سوا (کوئی) ایمان نہ لایا، فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ انہیں (کسی) مصیبت میں مبتلا نہ کر دیں ، اور بے شک فرعون سرزمینِ (مصر) میں بڑا جابر و سرکش تھا اور وہ یقیناً (ظلم میں ) حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا۔‘‘ (سورۃ یونس:۸۳)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو نشانیاں اور بینات اور قطعی دلائل و براہین لائے وہ ان کی قوم نے نہ مانے بلکہ صریح انکار کیا سوائے چند نوجوانوں کے۔ اسی طرح قرآن کریم نے ان نوجوانوں کی تعریف فرمائی جو ایمان لائے اور ان کی ہدایت و رشد میں اضافہ ہوا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’بے شک وہ (چند) نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کے (نور) ہدایت میں اضافہ فرمادیا۔‘‘(الکہف:۱۳)
نوجوانوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اتباع رسول ﷺ میں سے جلیل القدر اور عالی المرتبت صحابہ کرامؓ نوجوان تھے۔ جب حضرت ابوبکر صدیقؓ ایمان لائے تو آپ کی عمر مبارک تقریباً ۳۸؍سال تھی اور حضرت عمر فاروقؓ جب ایمان لائے تو آپ کی عمر مبارک ۳۰؍ سال بھی نہیں تھی۔ اسی طرح حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت سعید بن زیدؓ، حضرت مصعب بن عمیرؓ، حضرت الارقم بن ابی الارقمؓ اور حضرت خبابؓ اور ان کے علاوہ سیکڑوں صحابہ کرامؓ نوجوان تھے۔
نبی کریم ﷺ نے نوجوانوں کی دینی و فکری و عملی تربیت اپنے عالی المرتبت انداز میں فرمائی یہاں تک کہ اطاعت الہٰیہ میں رسوخ و پختگی پیدا کرنے کی ترغیب و ترہیب کے اسالیب اپنائے اور اخروی بشارتیں اور دنیا میں اپنی قربتیں اور نوازشات ہمیشہ عطا فرماتے رہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’سات افراد جنہیں اللہ اپنے سایہ میں رکھے گا جس دن کوئی سایہ نہ ہوگا، ان میں وہ نوجوان بھی ہے جس نے اطاعت الٰہی میں پرورش پائی۔‘‘
اس طرح حضور نبی اکرم ﷺ نے نوجوانوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کی خاطر اور اس کی خواہشات کو جائز طریقہ سے حاصل کرنے کیلئے ان سے خطاب کیا اور وصیت فرمائی: ’’اے گروہِ شباب تم میں سے جو نان و نفقہ یعنی خرچہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو شادی کرلے کیونکہ وہ آنکھوں کی زیادہ حفاظت کرنے والا اور شرم گاہ کی پاکی کی ضمانت ہے اور جو طاقت نہ رکھتا ہو پس وہ روزے رکھے جو اس کے لئے ڈھال ہیں۔‘‘