Updated: June 22, 2026, 5:04 PM IST
| Islamabad
ہندوستان نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد سے ۱۹۶۰ء کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر رکھا ہے اور معاہدے کی بحالی کو سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی معتبر کارروائی سے مشروط کیا ہے۔ پاکستان کی آبی ایمرجنسی بنیادی طور پر داخلی حکومتی ناکامیوں میں جڑی ہوئی ہے، جس کے باعث آبپاشی کے نظام کو جدید بنانا اسلامی ملک کی اولین اور فوری ترجیح ہونی چاہئے۔
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف۔ تصویر: ایکس
پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ اگر اسلام آباد کو اپنی آبی سلامتی کے ضمن میں کوئی بھی فوری خطرہ محسوس ہوا تو وہ ہندوستان کے ساتھ جنگ چھیڑ سکتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان شدید آبی بحران سے نبردآزما ہے، جس کی بڑی وجہ داخلی بدانتظامی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف نے اے آر وائی نیوز (ARY News) پر گفتگو کے دوران کہا کہ ”جس لمحے ہمیں یہ محسوس ہوا کہ ہماری قومی سلامتی، جس کا ایک حصہ پانی بھی ہے، خطرے میں ہے، تو ہم ہندوستان کے خلاف جنگ میں اتر جائیں گے۔“ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو ایسے شواہد ملے کہ ہندوستان پانی کی فراہمی میں خلل ڈالنے کیلئے ”تشویشناک حد تک تیز رفتاری“ سے کام کر رہا ہے، تو اس کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکی کا ایران-امریکہ مذاکرات کی حمایت کا اعادہ
خواجہ آصف نے نئی دہلی پر ”پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے“ کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دریائے چناب کے بہاؤ میں ہیر پھیر کی جا رہی ہے اور اہم ڈیٹا کو روکا جا رہا ہے۔ تاہم، ان کے دعوے تضادات کا شکار نظر آئے۔ پاکستان کے ذریعے کئے گئے سابقہ تقریباً ۱۱۵ معائنوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی پیش رفت کے بارے میں فی الحال کوئی معلومات نہیں ہیں۔
پاکستان میں آبی ایمرجنسی کی ذمہ دار داخلی ناکامیاں ہیں
خواجہ آصف کے ہندوستان پر لگائے گئے الزامات کے باوجود، پاکستان کو درپیش فوری بحران کی بڑی وجہ اندرونی بدانتظامی اور آبپاشی کا بوسیدہ انفراسٹرکچر ہے۔ اس وقت پاکستان کی تقریباً ایک تہائی آبادی پانی کی قلت سے متاثر ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں صورتحال سب سے زیادہ سنگین ہے، جہاں ناکارہ نہروں اور سکڑتے ہوئے آبی ذخائر نے دیہی علاقوں کو تباہ حالی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آموں نے پاکستان کا کھیل خراب کر دیا!
سندھ کے محکمہ آبپاشی کے سرکاری اعداد و شمار اس خرابی کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں جن کے مطابق، نارتھ ویسٹ کینال میں پانی کی ۱ء۶۴ فیصد کمی ہے، رائس کینال کو ۳۸ فیصد کمی کا سامنا ہے، جبکہ دادو کینال میں حیران کن طور پر ۸۲ فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس زبردست کمی نے بڑے زرعی خطوں میں پانی کی فراہمی کو مفلوج کر دیا ہے، جس کے باعث کسان یا تو فصلیں بالکل چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں یا مہنگے متبادل ذرائع پر انحصار کر رہے ہیں۔ سندھ میں زیریں علاقوں کی تقسیم کیلئے ایک اہم کنٹرول پوائنٹ، سکھر بیراج پر پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے، جس کی وجہ سے بنیادی آبپاشی اور گھریلو فراہمی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
مقامی لیڈران نے خبردار کیا ہے کہ پانی کی تقسیم کے تنازعات، انفراسٹرکچر کی ناکامیوں اور گرتے ہوئے ذخائر کا یہ ملاپ پورے خطے میں ”اقتصادی قتلِ عام“ کو جنم دے سکتا ہے، جس سے غربت میں اضافہ ہوگا اور نایاب وسائل پر رسہ کشی بڑھ جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: سرکاری اسپتالوں میں ادویات کا بحران، اسپتالوں پر۲ء۲؍ ارب روپے کے واجبات
سندھ طاس معاہدہ بدستور معطل
واضح رہے کہ ہندوستان نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ۲۳ اپریل ۲۰۲۵ء سے ۱۹۶۰ء کے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو معطل کر رکھا ہے اور معاہدے کی بحالی کو سرحد پار دہشت گردی کے خلاف معتبر کارروائی سے مشروط کر دیا ہے۔ وزیرِ داخلہ امت شاہ کا کہنا ہے کہ جو پانی پہلے پاکستان جاتا تھا اب اسے راجستھان کی طرف موڑ دیا جائے گا اور اسے کبھی بحال نہیں کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ اگرچہ پاکستان ہندوستان کے اقدامات کی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن یہ فوری ہنگامی صورتحال بنیادی طور پر داخلی حکومتی ناکامیوں میں جڑی ہوئی ہے، جس کے باعث آبپاشی کے نظام کو جدید بنانا ملک کی اولین اور فوری ترجیح ہونی چاہئے۔