اسلامی نقطۂ نظر یہ ہے کہ مسلم ملکوں میں اقلیتوں کے حقوق تلف نہیں کئے جاسکتے

Updated: December 10, 2021, 1:42 PM IST | Maulana Khalid Saifulah Rahmani

سیالکوٹ میں ایک سری لنکن شہری کے قتل کے واقعہ نے غیر مسلموں سے بڑھ کر مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، اور کیوں نہ ہو کہ اس واقعہ کے نتیجہ میں ایک فرد کا تو خون ہوا ہی ہے، اسلام کا وقار بھی مجروح ہوا ہے اور اسلامی اخلاق کا خون ہوا ہے؛ اس لئے موضوع کی مناسبت سے مضمون نگار نے یہ مناسب محسوس کیا کہ آج مسلم ملکوں میں غیر مسلم اقلیت کے حقوق کی بابت کچھ عرض کیا جائے اور شرعی نقطۂ نظر کی وضاحت کی جائے

Pakistan continues to condemn and protest the killing of a Sri Lankan citizenPicture:INN
پاکستان میں سری لنکا کے شہری کے قتل کی مذمت اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ تصویر: آئی این این

اسلام کی بنیاد عقیدۂ توحید پر ہے ، توحید کے معنی اﷲ تعالیٰ کو اس کی ذات وصفات، اختیارات اور بعض حقوق، جیسے: عبادت و بندگی کے استحقاق میں یکتا ماننے کا نام ہے۔  اس بنیادی تصور سے جہاں خدا کی عظمت دل میں گھر کرتی ہے، وہیں اس سے خود انسان کا مقام و مرتبہ بھی معلوم ہوتا ہے اور اس نسبت سے تین باتیں بہت اہم ہیں، اول یہ کہ جب خدا ہی تنہا معبود ہے اور تمام انسان اس کے بندے ہیں، تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ بحیثیت انسان تمام انسان برابر ہیں۔  قرآن مجید نے اس کو صاف لفظوں میں بیان کیا ہے کہ اﷲتعالیٰ نے تمام انسان کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے  (النساء: ۱)۔ یہ وحدتِ انسانیت کا واضح اعلان ہے۔  تصور توحید سے جو دوسرا تصور اُبھرتا ہے، وہ یہ ہے کہ بحیثیت عبد و معبود، خدا اور انسان کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہے، ایسا نہیں کہ کسی خاص انسان یا مخصوص انسانی گروہ کے بغیر انسان خدا کی خوشنودی کو نہیں پاسکتا؛ بلکہ ہر شخص خدا سے براہ راست مانگ سکتا ہے، اس کے سامنے ہاتھ پھیلاسکتا ہے اور اس کی بندگی کرسکتا ہے، اس لئے کہ وہی قادر مطلق ہے اورباقی سب عاجز ہیں۔ قرآن مجید کی پہلی سورہ ، سورۂ فاتحہ میں: ’’ خداوندا ! ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد کے خواستگار ہیں‘‘  (الفاتحہ : ۴ ) کے فقرہ میں بندہ کی زبان سے یہ بات کہلائی گئی ہے، یہ اس بات کا صریح و بے غبار اعلان ہے کہ بندہ براہ راست اپنے رب سے مربوط ہے ۔ ان دو تصورات کے ساتھ جو تیسرا تصور سامنے آتاہے ، وہ ہے انسانی کرامت و شرافت کا؛  چونکہ بحیثیت انسان سارے لوگ برابر ہیں اور کائنات انسان ہی کے لئے پیدا کی گئی ہے؛ اس لئے وہ اس کائنات کی سب سے زیادہ معزز اور قابل احترام مخلوق ہے، چنانچہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے  : ’’ہم نے بنی آدم کو عزت عطا کی، انہیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا، ان کو پاک رزق عطا کیا اورہم نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی مخلوقات پر ان کو فضیلت دی ۔‘‘ (الاسراء: ۷۰)
یہ انسان کے بارے میں اسلام کے بنیادی تصورات ہیں، جو بحیثیت انسان ہر ابن آدم سے متعلق ہیں، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، پس اسلام کی نگاہ میں غیر مسلم بھی ہمارے انسانی بھائی ہیں اور بحیثیت انسان قابل احترام ہیں، اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کے حقوق انہی تصورات پر مقرر کئے گئے ہیں ، جن کے بنیادی نکات اس طرح ہیں  :
 (۱)  غیر مسلموں کی جان کی اسی طرح حفاظت کی جائے گی، جیسے مسلمان کی؛ کیوںکہ قرآن مجید نے کسی بھی انسان کے قتل ناحق کو منع فرمایا ہے: (بنی اسرائیل : ۳۳ ) چنانچہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا : جس نے کسی معاہد کو قتل کردیا، وہ جنت کی بُو سے بھی محروم رہے گا:  (بخاری، حدیث نمبر : ۳۱۶۶ )  غرض کہ ایک غیرمسلم شہری کی جان کی وہی اہمیت ہے ، جو ملک کے مسلمان شہری کی ہے ؛ چنانچہ  :
 (الف)  اگر مسلمان کسی غیر مسلم کو ظلماً قتل کردے تو وہ مسلمان قصاص کے طورپر قتل کیا جائے گا، اس لئے کہ قرآن مجید نے قصاص کا یہی اُصول بتایا ہے کہ نفس انسانی کے بدلہ قاتل قتل کیا جائے گا:اَلنَّفْسَ بِالنَّفْسِ (المائدۃ : ۴۵ ) اسی پر صحابہ کا عمل رہا ہے، اہل حیرہ میں سے ایک عیسائی یا یہودی کو کسی مسلمان نے قتل کردیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمان سے اس کا قصاص لیا۔ (مصنف عبدالرزاق : ۱۰؍۱۰۲ ، حدیث نمبر : ۱۸۵۱۸) صحابہؓ کے بعد بھی اسی پر عمل رہا، چنانچہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے زمانہ میں بھی اسی قسم کا ایک واقعہ پیش آیا، انہوں نے بھی اپنے گورنر کو مسلمان قاتل پر قصاص جاری کرنے کا حکم دیا۔ (مصنف عبدالرزاق : ۱۰ ؍ ۱۰۲ ، حدیث نمبر : ۱۸۵۱۸ ) ( ب )  اسی طرح غیر مسلم کی دیت وہی ہے جو مسلمان کی ہے ، حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذمی کی دیت مسلمان ہی کی طرح ادا فرمائی، (دارقطنی ، کتاب الحدود : ۳۴۳ ، نیز دیکھئے : نصب الرایۃ : ۴؍۳۶۶ ) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی یہی روایت ہے، جس کے الفاظ ہیں:  جعل دیۃ المعاھد کدیۃ المسلم (دارقطنی، کتاب الحدود : ۲۴۹ )۔ امام ابوحنیفہؒ نے نقل کیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم نے فرمایا کہ جو دیت مسلمان کی ہے، وہی معاہد (مسلم ملک کے غیر مسلم شہری یا غیر مسلم مہمان) کی ہے، (کتاب الآثار للامام محمد ، حدیث نمبر : ۵۸۷ )۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نقل کیاہے کہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد تک مسلمان، یہودی اور عیسائی کی دیت برابر سمجھی جاتی تھی۔  حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے ذمی کی دیت نصف کردی۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے پھر دونوں کی دیت برابر کردی (نصب الرایۃ : ۴؍۳۶۶ ) اور ربیعہ بن عبدالرحمٰن نے نقل کیا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ابتدائی عہد میں بھی ذمی کی دیت وہی تھی، جو مسلمانوں کی ہے، (مراسیل أبی داود : ۱۳، باب دیۃ الذمی) چنانچہ فقہاء احناف کے نزدیک ذمی کی وہی دیت ہوتی ہے، جو مسلمان کی ہے ( دیکھئے : ہدایہ : ۲؍۵۸۵ ، کتاب الدیات ، ط : دیوبند ، البحر الرائق : ۹؍۷۹ ) اور یہی نقطۂ نظر مشہور فقیہ اور محدث سفیان ثوریؒ اور بعض دوسرے اہل علم کا بھی ہے ۔ ( ترمذی : ۱؍۲۶۱ ، باب ماجاء لا یقتل مسلم بکافر) (۲)  غیر مسلم شہریوں کے مال اسی طرح قابل احترام ہیں اور ان کو تحفظ حاصل ہے ، جیسے مسلمانوں کے مال، اس لئے کہ اﷲ تعالیٰ نے جبری طورپر کسی کا بھی مال لینے سے منع کیا ہے، اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں: ’’اور تم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو۔‘‘  (البقرۃ:  ۱۸۸ ) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُصولی بات فرمائی ہے کہ اہل ذمہ کے مال بھی مسلمانوں کے ہی مال کی طرح ہیں: ( دیکھئے : نصب الرایۃ : ۴؍۳۶۹ ) چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  جب غیر مسلموں سے معاہدہ کرتے تو جان و مال دونوں کے لئے امان منظور فرماتے۔ (أبوداود ، حدیث نمبر : ۳۰۲۷ )
 مال کے تحفظ میں بنیادی طورپر یہ اُمور شامل ہیں  : (الف )  مالک ہونے کا حق، غیر مسلموں پر جو ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، وہ خود ان کی املاک پر ان کے حق کو تسلیم کرنے کی دلیل ہے ۔ ( ب )  اپنے مال میں تصرف کا حق ۔ ( ج )  غیرمسلموں کے مال کی چوری پر وہی سزا دی جائے گی، جو مسلمان کا مال چوری کرنے پر دی جاتی ہے،  اگرچہ خود چوری کرنے والا مسلمان ہو (المغنی لابن قدامۃ:  ۱۲؍ ۴۵۱ ، مع تحقیق : عبد اﷲ بن عبدالمحسن وغیرہ) مسلم ملک کے ہر شہری کو اپنی مرضی کا ذریعہ ٔمعاش اختیار کرنے کی اجازت ہے، یہ حق مسلمانوں کی طرح غیر مسلم شہریوں کو بھی حاصل ہوگا،  زراعت، تجارت، صنعت اورمختلف طرح کے کاروبار غیر مسلموں کا کرنا خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہؓ کے عہد میں ثابت ہے؛ البتہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ، اگر وہ کوئی ایسا پیشہ اختیار کرے ، جس کی اہلیت اس میں نہیں ہے اور اس کی نااہلی سے دوسروں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے تو اس کو اس پیشہ کے اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی؛ چنانچہ جو شخص فن طب سے واقفیت کے بغیر علاج و معالجہ کرے تو آپ نے اس کو مریض کو پہنچنے والے نقصان کا ضامن قرار دیا ۔ (أبوداود : ۲؍۲۳۰)
 (۳)  غیر مسلم شہریوں کی عزت و آبرو کا اسی طرح تحفظ کیا جائے گا، جس طرح مسلمانوں کی، اسی لئے قرآن مجید نے مطلقاً نگاہ کو پست رکھنے کا حکم دیا، اس میں مسلم و غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں، (النور : ۳۱-۳۰ ) اسی طرح زنا کی سزا مطلق ہے، چاہے کسی مسلمان عورت سے ہو یا غیر مسلم عورت سے ۔ (۴) غیر مسلموں کو بھی تعلیم وتعلم کے مساوی حقوق حاصل ہوں گے، مدینہ میں یہودیوں کا اپنا مدرسہ ’’ بیت المدارس ‘‘ قائم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کبھی اس سے تعرض نہیں فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے باندیوں کو تعلیم دینے کی ترغیب دی، (بخاری : ۱؍۲۰ ) جو عام طورپر غیر مسلم ہوا کرتی تھیں ۔ (۵) اسلام میں قانون بنانا اصل میں اﷲ تعالیٰ کا حق ہے؛ چنانچہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور تم جس اَمر میں اختلاف کرتے ہو تو اُس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف (سے) ہوگا۔‘‘( الشوریٰ: ۱۰ )  اس لئے اسلامی مملکت میں پارلیمنٹ کے کام دو نوعیت کے ہوں گے، ایک تو قرآن وحدیث کے دیئے ہوئے قوانین کی تشریح و توضیح، دوسرے انتظامی اُمور جیسے ٹریفک، ریلوے وغیرہ کے بارے میں قانون سازی، تو پہلی قسم کے پارلیمانی کام میں غیر مسلموں کا کوئی حصہ نہیں ہوسکتا؛ کیوںکہ وہ اس قانون پر یقین ہی نہیں رکھتے؛ البتہ انتظامی نوعیت کے قوانین میں ان سے رائے لی جائے گی، اسی طرح غیر مسلم اپنے سماجی قوانین وضع کرسکتے ہیں، پس مسلم مملکت کی پارلیمنٹ میں غیرمسلم اراکین ہوسکتے ہیں؛  لیکن شرعی قوانین کی توضیح ان کے دائرہ عمل سے باہر ہوگی؛  البتہ ان کے مفادات کی پوری رعایت ملحوظ رہے گی ۔
 (۶) غیر مسلموں کو اسلامی مملکت میں ملازمت کے مواقع دیئے جائیں گے ، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدر کے قیدیوں سے مسلمان بچوں کو تعلیم دلانا ثابت ہے،  (دیکھئے: مسند أحمد ، حدیث نمبر : ۲۲۱۵ ، عن ابن عباسؓ) اس سے معلوم ہوا کہ شعبۂ تدریس میں ان سے مدد لی جاسکتی ہے ۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے موقع پر ایک مشرک کو دلیل بنایا ہے، اس سے علامہ ابن قیمؒ نے ثابت کیا ہے کہ غیر مسلم ملازم رکھے جاسکتے ہیں، (أحکا م أہل الذمۃ : ۱؍۲۰۷ ، لابن القیم) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن غیر مسلموں سے ملک کی سلامتی اور اس کی فکری سمت کو خطرہ نہ ہو، ان کو حساس عہدوں پر بھی مامور کیا جاسکتا ہے اور ان سے فوجی مدد بھی لی جاسکتی ہے ، چنانچہ حضرت عبد اﷲ بن عباسؓسے مروی ہے کہ غزوۂ خیبر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قینقاع کے یہودیوں سے بھی مدد لی تھی، ( نصب الرایۃ : ۳؍ ۴۲۲ )   اسی لئے فقہاء کا ایک بڑا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ قابلِ بھروسہ مشرکین سے عسکری مدد بھی لی جاسکتی ہے۔ (کتاب الاعتبار للحازمی : ۲۱۷ ) (۷)  غیر مسلموں کو کچھ خاص حدود کے ساتھ مذہبی آزادی بھی حاصل ہوگی؛ البتہ اس سلسلہ میں چند نکات قابل لحاظ ہیں  : (الف)  غیر مسلموں کو عقیدہ کی مکمل آزادی ہوگی،  قرآن مجید کا ارشاد بالکل واضح ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں،  ( البقرۃ : ۲۵۶ ) اس لئے کسی غیر مسلم کو تبدیلیٔ مذہب پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK