؍۹؍دہائیوں سے ترقی کا سفر جاری ہے

Updated: September 23, 2022, 2:12 PM IST | Shahid Javed | Mumbai

سعودی عرب ہر مسلمان کا روحانی مرکز ہے۔ مسلمان اس سرزمین مقدس کی سالمیت و دفاع کے لئے فکر مند رہتا ہے، اس کے امن و سلامتی کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کرتا ہے ۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

؍۲۳؍ ستمبر عالم اسلام کی عظیم مملکت سعودی عرب کا قومی دن ہے، سعودی عرب صرف عالم اسلام ہی کی عظیم مملکت نہیں بلکہ مشرق سے مغرب، شمال سے جنوب تک روئے زمین پر بسنے والے ہر مسلمان کا روحانی مرکز و محور بھی ہے۔ ہر کلمہ گو مسلمان وہ چاہے دنیا کے کسی بر اعظم، کسی ملک، کسی خطے میں آباد ہے وہ سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہے اور یہاں آنا اپنے لئے زندگی کے سب سے بڑی سعادت سمجھتا ہے، اس سرزمین مقدس سے والہانہ عقیدت و محبت اور الفت و چاہت رکھتا ہے، اس کی سالمیت و دفاع کے لئے فکر مند رہتا ہے، اس کے امن و سلامتی کے لئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کرتا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے اربوں مسلمان روزانہ پانچ مرتبہ جس بیت اللہ کی جانب منہ کرکے نماز ادا کرتے ہیں وہ حرمت والا گھر سعودی عرب ہی کے شہرِ امین یعنی مکۃ المکرمہ میں ہے اور جس حبیبِ کبریا حضور نبی کریم ﷺ واصحاب ِ رسول کی اتباع کرتے ہیں ان کا روضہ اطہر ﷺ بھی اس عظیم مملکت کے شہر مدینۃ المنورہ میں ہے۔ مملکت سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب کے ۸۰؍ فیصد رقبے پر مشتمل ہے جبکہ رقبے کے اعتبار سے اس کا شمار دنیا کے۱۵؍بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ مملکت سعودی عرب کا جغرافیہ مختلف نوعیت کا ہے۔ مغربی ساحلی علاقے (التہامہ) سے زمین سطح سمندر سے بلند ہونا شروع ہوتی ہے اور ایک طویل پہاڑی سلسلے(جبل الحجاز) تک جاملتی ہے جس کے بعد سطح مرتفع ہیں۔ جنوب مغربی اثیر خطے میں پہاڑوں کی بلندی ۳؍ ہزار میٹرتک ہے اور یہ ملک کے سب سے زیادہ سرسبز اور خوشگوار موسم کا حامل علاقہ ہے۔ یہاں طائف اور ابہا جیسے تفریحی مقامات قائم ہیں۔ خلیج فارس کے ساتھ ساتھ قائم مشرقی علاقہ بنیادی طور پر پتھریلا اور ریتیلا ہے، معروف علاقہ ”ربع الخالی“ ملک کے جنوبی خطے میں ہے اور صحرائی علاقے کے باعث ادھر آبادی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔مملکت کا تقریباً تمام حصہ صحرائی و نیم صحرائی علاقے پر مشتمل ہے اور صرف ۲؍فیصد رقبہ قابل کاشت ہے، بڑی آبادیاں صرف مشرقی اور مغربی ساحلوں اور حفوف اور بریدہ جیسے نخلستانوں میں موجود ہیں،سعودی عرب میں سال بھر بہنے والا کوئی دریا یا جھیل موجود نہیں۔
 مارچ ۱۹۳۸ء میں تیل کی دریافت نےملک کو معاشی اعتبار سے زبردست استحکام بخشا اور مملکت میں خوشحالی کا دور دورہ ہوا۔ مملکت سعودی عرب کی حکومت کا بنیادی ادارہ آل سعود کی بادشاہت ہے، قرآن ملک کا آئین اور شریعت حکومت کی بنیاد ہے، بادشاہ کے اختیارات شرعی قوانین اور سعودی روایات کے اندر محدود ہیں۔ علاوہ ازیں اسے سعودی شاہی خاندان، علماء اور سعودی معاشرے کے دیگر اہم عناصر کا بھرپور تعاون بھی حاصل ہے۔ شاہی خاندان کے اہم ارکان علماء کی منظوری سے شاہی خاندان میں کسی ایک شخص کو بادشاہ منتخب کرتے ہیں۔
 قانون سازی وزراء کی کونسل عمل میں لاتی ہے جو لازمی طور پر شریعت اسلامی سے مطابقت رکھتی ہو۔ عدالت شرعی نظام کی پابند ہیں جن کے قاضیوں کا تقرر اعلیٰ عدالتی کونسل کی سفارش پر بادشاہ عمل میں لاتا ہے۔سعودی عرب کی آبادی ۳۵؍ملین کے لگ بھگ ہے۔ ۶۰ء کی دہائی تک مملکت کی آبادی کی اکثریت خانہ بدوش یا نیم خانہ بدوش تھی لیکن بعدازاں معیشت اورشہروں میں تیزی سےترقی کی بدولت صورتحال میں تبدیلی آئی۔ اب سعودی عرب شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت و سیادت جس تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے، اس سے اب ملک کی ۹۵؍ فیصد آبادی مستحکم ہے، اس میں ’’وژن ۲۰۳۰ء ‘‘ نے اہم کردار ادا کیا۔
 ہر سال ۲۳؍ ستمبر کو مملکت سعودی عرب کا قومی دن منایا جاتا ہے، اسلامی ممالک سمیت دنیا بھر میں یوم الوطنی کی مناسبت سے رنگا رنگ تقریبات کا انعقاد ہوتاہے۔ 
 سعودی عرب میں آلِ سعود کی حکومت نو دہائیاں مکمل کرنے کے بعد اب سنچری کی جانب گامزن ہے۔شاہ عبدالعزیز بن عبد الرحمٰن السعود نے ۹۲؍ سال قبل ۲۳؍ ستمبر کے روز سعودی عرب کی بنیاد رکھی اور اس دن سے لے کر آج تک عالم اسلام کا یہ روحانی مرکز ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔ شاہ عبد العزیز کے بعد ان کے بڑے بیٹے سعود بن عبدالعزیز تخت نشین ہوئے۔ انہوں نے اپنے والد کے شروع کئے گئے ترقیاتی کاموں کو جاری رکھا اور اپنے دور میں مسجد نبویﷺ و حرم کعبہ کی توسیع کرائی۔ شاہ سعود کے زمانے میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کی طرف بھی توجہ دی گئی اور ۱۹۵۷ء میں دارالحکومت ریاض میں عرب کی پہلی یونیورسٹی قائم ہوئی، جس میں مختلف فنون، سائنس، طب، زراعت اور تجارت کے شعبے قائم کئے گئے۔ اسی دور میں لڑکیوں کے لئے بھی مدارس قائم کئے گئے۔ ۱۹۶۴ء میں شاہ سعود کے بھائی فیصل بن عبدالعزیز السعود نے مسند اقتدار سنبھالی، وہ کرشماتی شخصیت کے مالک تھے۔ بہت کم عرصے میں انہیں پورے عالم اسلام میں جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ ان سے پہلے کسی اور کا مقدر نہ بن سکی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK