Inquilab Logo Happiest Places to Work

بکری کے گوشت نے خود آپ ﷺ کو خبر دی کہ اُسے زہر آلود کیا گیا ہے

Updated: February 10, 2023, 10:35 AM IST | Maulana Nadeem Al-Wajdi | Mumbai

سیرتِ نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز میں غزوۂ خیبر کا تذکرہ جاری ہے۔ آج کی قسط میں حضرت صفیہؓ کے حرم ِ نبویؐ میں داخل ہونے اور ایک یہودی عورت کے ذریعے آپؐ کو زہرآلود گوشت ہدیہ دینے کی تفصیل بھی ملاحظہ کیجئے

The enmity of the enemies is no more, but the promise of Allah remains and will remain until the end of the world that "Indeed, we have exalted the remembrance of you".
دشمنوں کی دشمنی باقی نہیں رہی مگر اللہ کا وعدہ باقی ہے اور رہتی دُنیا تک باقی رہے گا کہ ’’بے شک ہم نے آپؐ کا ذکر بلند کردیا۔‘‘



ابھی مسلمانوں کا لشکر خیبر میں ہی مقیم تھا کہ حضرت دحیہ کلبیؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! مجھے کوئی باندی عطا فرمادیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ اور ایک باندی لے لو۔ انہوں نے حضرت صفیہؓ کو لے لیا۔ ایک شخص نے حاضر خدمت ہوکر عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپ نے حضرت صفیہ کو دحیہ بن کلبی کے حوالے کردیا حالاں کہ وہ بنی قریظہ اور بنو نظیر کے سردار کی بیٹی ہیں اور حضرت ہارو ن علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، ایسی خاتون کو آپؐ کے پاس ہونا چاہئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہؓ کو بلا کر دوسری باندی انہیں دے دی، اور حضرت صفیہؓ کو آزاد کردیا۔
 روایات میں ہے کہ آپؐ نے ان سے فرمایا کہ تمہیں اختیار ہے اگر تم مسلمان ہوجاتی ہو تو میں تم سے نکاح کرلوں گا، اور اگر تم یہودیت پر قائم رہتی ہو تو آزاد ہونے کے بعد اپنی قوم کے پاس جاسکتی ہو۔ حضرت صفیہؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں نے اسلام کو دل سے پسند کرلیا ہے، اور آپؐ کے فرمانے سے پہلے ہی میں آپؐ کی تصدیق کرچکی ہوں، مجھے یہودیت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، اور اب میرا باپ رہا، نہ بھائی رہا، میں تو آپؐ کے پاس رہنا چاہتی ہوں، آپؐ نے مجھے کفر اور اسلام میں اختیار دیا ہے، خدا کی قسم اللہ اور اس کے رسولؐ مجھے آزادی پانے سے اور اپنی قوم کے پاس جانے سے زیادہ پسند ہیں۔بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ؐ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرنے کے بعد ان سے نکاح فرمالیا تھا۔
اموال غنیمت کی تقسیم
خیبر کے قلعوں سے جو اموال غنیمت حاصل ہوئے ان میں کپڑے، چادریں، مویشی، کھانے پینے کی چیزیں اور ہتھیار وغیرہ تھے۔ رسول اللہ ﷺ  نے یہ تمام سامان ایک جگہ جمع کرنے کا حکم دیا اور حضرت فردہ بن عمرو بیاضیؓ کو اس کا محافظ اور نگراں متعین فرمادیا، پانچواں حصہ نکال کر آپؐ نے تمام سامان فروخت کرنے کا حکم دیا، چنانچہ فردہ بن عمرو نے ایک ایک شے کی کم سے کم قیمت کا اعلان کیا، لوگ بڑھ چڑھ کر بولی لگانے لگے، دو دنوں میں وہ تمام چیزیں فروخت ہوگئیں جب کہ خیال یہ تھا کہ شاید یہ چیزیں فروخت نہ ہوں اور ویسے ہی پڑی رہ جائیں۔ جو لوگ سامان خرید رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں خیر وبرکت کی دعاؤں سے بھی نواز رہے تھے، پانچویں حصے میں سے آپؐ نے اہل بیت کو بھی دیا، بنو عبد المطلب کے مردوں اور عورتوں کو بھی کپڑے وغیرہ عطا فرمائے، یتیموں اور مانگنے والوں کو بھی محروم نہ فرمایا، باقی چار حصے غزوۂ خیبر کے شرکاء میں تقسیم کردیئے گئے۔ 
(کتاب المغازی للواقدی: ۱/۶۸۱)
خیبر کی زمینوں کو ابتداء ً آپؐ نے چھتیس حصوں پر تقسیم فرمایا، پھر ہر حصے کے سو حصے فرمائے، کل چھتیس سو حصے ہوگئے، ان میں سے آدھے یعنی اٹھارہ سو حصے غزوے میں شریک ہونے والوں میں تقسیم کردیئے گئے، تمام مجاہدین کو ایک ایک حصہ ملا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک ہی حصہ لیا، البتہ جن کے پاس گھوڑے تھے ان کو تین تین حصے دیئے گئے، پیدل چلنے والوں کو ایک ایک حصہ ملا، باقی اٹھارہ سو حصے مسلمانوں کی ضرورتوں کے لئے رکھ دیئے گئے۔ (زاد المعاد دلائل البیہقی: ۴/۲۳۵، صحیح البخاری: ۹/۴۷۱، رقم الحدیث: ۲۶۵۱)
یہود کو زمین کاشت کیلئے دینا
خیبر کے قلعوں، زمینوں اور باغوں پر قبضہ کرلیا گیاتھا اور یہود کو حکم دے دیا گیا تھا کہ وہ خیبر خالی کردیں، اور جہاں جی چاہے چلے جائیں، لیکن ہتھیار وغیرہ یا کوئی قیمتی چیز لے کر نہ جائیں۔ یہود نے درخواست کی کہ آپؐ ہمیں یہیں رہنے دیں، ہم آپؐ کی زمینوں پر کھیتی کریں گے، پیدوار میں سے نصف ہمیں دے دیجئے گا اور نصف آپؐ رکھ لیجئے گا، ہم ان زمینوں کو کاشت کرنا اچھی طرح جانتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تجویز منظور فرمالی، کیوں کہ اس میں مسلمانوں کی مصلحت پوشیدہ تھی۔ فی الوقت صحابہ توسیعِ مملکت ِ اسلامیہ اور دعوتِ دینِ اسلام کے کاموں میں مشغول تھے، ان میں سے کچھ لوگوں کو خیبر میں چھوڑنا حالات کے تقاضوں کے مطابق نہ ہوتا، اس لئے آپؐ نے یہود کی درخواست قبول فرمالی، مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا کہ ہم جب تک چاہیں گے آپ لوگوں کو یہاں رکھیں گے، اور جب چاہیں گے یہاں سے نکال دیں گے۔ چنانچہ جب حضرت عمر بن الخطابؓ نے اپنے دور خلافت میں یہ محسوس کیا کہ اب یہودیوں کا جزیرۃ العرب میں رہنا مناسب نہیں ہے، لہٰذا ان کو باہر کا راستہ دکھا دیا۔ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں یہودیوں کو صرف خیبر سے ہی نہیں نکالا گیا بلکہ جہاں جہاں بھی وہ آباد تھے وہاں سے ان کو شام بھیج دیا گیا اور ان کو متبادل زمینیں فراہم کردی گئیں۔
یہ طے ہوجانے کے بعد کہ یہودی خیبر کی زمینوں پر کاشت کریں گے، اور حق محنت کے طور پر وہ نصف پیداوار کے مستحق ہوں گے آپؐ نے حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کو حکم دیا کہ وہ ہر فصل پر یہاں آیا کریں، اور پیداوار کو برابر برابر تقسیم کردیا کریں، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ ہر فصل کے موقع پر خیبر پہنچتے اور پیداوار کے دو برابر برابر حصے کرکے یہودیوں کو اختیار دیتے کہ وہ ان میں سے جو حصہ چاہیں لے لیں۔ ایک دو مرتبہ یہودیوں نے یہ کوشش کی ابن رواحہؓ ان کے حصے میں کچھ زیادہ لگادیں، اس سلسلے میں انہوں نے رشوت دینے کی پیش کش بھی کی اس پر حضرت عبداللہ ناراض ہوگئے، انہوں نے کہا: او دشمنانِ خدا کیا تم مجھے رشوت دینا چاہتے ہو؟ خدا کی قسم میں جس شخصیت کے پاس سے یہاں آیا ہوں وہ مجھے دنیا جہان سے زیادہ محبوب ہے اور تم مجھے انتہائی برے لگتے ہو، اس کے باوجود میں عدل کرنے پر مجبور ہوں۔ یہ سن کر یہودی کہنے لگے اسی انصاف پر دنیا قائم ہے۔ (سنن ابی داؤد: ۹/۲۶۱، رقم الحدیث: ۲۶۹۱، سنن ابن ماجہ: ۵/۴۰۱، رقم الحدیث: ۱۸۱۰، السنن الکبری للبیہقی: ۶/۱۱۵، تاریخ الاسلام للذہبی ص:۴۲۴)
زہر آلود گوشت کا واقعہ
فتح کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دنوں تک زرعی زمینوں اور باغوں کے انتظامات اور غنائم کی تقسیم کے کاموں میں مصروف رہے، ظاہر ہے ان کاموں کے لئے قیام وہیں ضروری تھا، اسی دوران ایک عورت نے جس کا نام زینب بنت الحارث تھا اور جو سَلَّام بن مُشْکِم کی بیوی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دے کر (نعوذ باللہ) ہلاک کرنے کی سازش کی۔ اس نے پروگرام بنایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا جائے اور اس میں زہر ملا دیا جائے۔ پہلے اس نے صحابہ سے یہ معلوم کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری کا کون سا حصہ مرغوب ہے، لوگوں نے بتلایا کہ آپؐ بکری کی ران شوق سے نوش فرماتے ہیں، اس منحوس عورت نے بکری ذبح کی، اور اس کا گوشت زہر آلود کردیا، خاص طور پر بکری کی ران پر زیادہ زہر لگا دیا، اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں لے کر آئی۔ آپؐ مغرب کی نماز ادا کرکے خیمے میں تشریف لائے، دیکھا تو ایک عورت خیمے کے باہر آپؐ کا انتظار کررہی تھی، آپؐ نے اس سے آنے کا سبب پوچھا: عورت نے کہا کہ اے ابو القاسم! میں آپؐ کے لئے بکری کا بھنا ہوا گوشت ہدیہ کے طور پر لائی ہوں۔ اسے معلوم تھا کہ آپؐ ہدیہ قبول فرمالیتے ہیں، صدقہ قبول نہیں فرماتے۔ آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا :اس سے کھانا لے لو۔
اس کے بعد آپؓ نے صحابہؓ سے جو اس وقت وہاں موجود تھے، کھانے کے لئے فرمایا۔ آپؓ نے بکری کا بازو لے لیا اور اسے منہ میں رکھا، حضرت بشر بن براء بن معور نے بھی گوشت کا ایک ٹکڑا منہ میں رکھ لیا، ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بازو منہ سے لگایا ہی تھا کہ اس نے خبر دی کہ مجھے زہر آلود کیا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً تھوک دیا، اگرچہ اس کا تھوڑا بہت اثر زبان پر رہ گیا، دوسری طرف حضرت بشر بن براء  آپؐ کے ادب اور لحاظ کے سبب کھانا نہ تھوک پائے، حالاں کہ آپؐ نے فرمادیا تھا کوئی شخص یہ کھانا نہ کھائے اس میں زہر ملا ہوا ہے۔
زینب بنت الحارث کو طلب کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا، کیا اس کھانے میں تونے زہر ملا دیا تھا، اس نے عرض کیا، جی: میں نے ملایا تھا۔ آپؐ کو کیسے پتہ چلا، فرمایا: مجھے اس ہڈی نے بتلا دیا تھا کہ میں زہر آلود ہوں، آپؐ نے فرمایا: تونے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: میرے باپ ، چچا اور شوہر قتل ہوگئے، میری قوم بھی تباہ وبرباد  ہوگئی ، میں نے سوچا اگر آپؐ نبی ہوئے تو یہ زہر آپؐ پر اثر نہیں کرے گا اور آپؐ بچ جائیں گے اور  اگر بادشاہ ہوں گے تو ہمیں آپؐ سے نجات مل جائے گی۔ آپؐ نے اسے کچھ نہیں کہا، جانے دیا۔ صحابہؓ نے عرض بھی کیا کہ اس کو سزا ملنی چاہئے مگر آپؐ نے در گزر سے کام لیا۔انبیاءؑ کی یہی شان ہوتی ہے، اور ہمارے حضورؐ  تو عفو ودرگزر میں سب سے بڑھ کر تھے۔ جن صحابہؓ نے گوشت منہ میں رکھ کر تھوک دیا تھا ان پر زہر کا اثر کم تھا، آپؐ نے ان سے فرمایا کہ سر میں پچھنے لگوالیں یعنی فاسد خون نکلوادیں، صحابہؓ نے ایسا ہی کیا، البتہ حضرت بشر  بن براء زہر کے اثر سے وفات پا گئے۔ 
رسول اللہ ﷺ اس واقعے کے  بعد تین برس تک حیات رہے، لیکن اس زہر کا اثر محسوس فرماتے رہے، یہاں تک کہ مرض وفات میں اس کا اثر کچھ زیادہ ہی محسوس فرمایا، ایک روز حضرت عائشہؓ سے فرمایا: اے عائشہؓ! میں نے خیبر میں جو کھانا کھالیا ، میں اس کا اثر آج تک محسوس کررہا ہوں، اسی لئے علماء فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے شہادت پائی ہے۔ (صحیح البخاری: ۱۰/۴۲۸، رقم الحدیث: ۲۹۳۳، طبقات ابن سعد: ۲/۲۰۱، فتح الباری: ۷/۳۸۰،  مسند احمد بن حنبل: ۱۹/۴۹۴، رقم الحدیث: ۹۴۵۱، البدایہ والنہایہ: ۴/۲۱) (جاری)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK