ہندوستان میں جمہوریت کا مستقبل عوام طے کریں گے

Updated: March 16, 2023, 10:15 AM IST | Khalid Shaikh | Mumbai

راہل گاندھی نے لندن میں اپنی تقریرمیں وہی باتیں کہیں جو وہ اور دیگر اپوزیشن لیڈر ہندوستان میں مودی اور ان کی حکومت کے خلاف کہتے چلے آئے ہیں۔

photo;INN
تصویر :آئی این این

 تقریباً ۱۵۰؍ دنوں اور ۴۰۰۰؍کلومیٹر پر مشتمل راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کوملی غیر متوقع اور غیرمعمولی کامیابی سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ یاترا کے بعد تازہ دم ہوکر راہل نئے تیوروں کے ساتھ ایک نئے اوتار میں نظر آئیں گے کیونکہ یاترا کو ملنے والی پذیرائی نے ہرایک کو حیران وششدر کردیا تھا جس میں ملک کی معروف شخصیتوں کی شرکت نے جہاں چارچاند لگائے ، وہیں ہرگزرتے دن کے ساتھ اس میں جڑنے والی بھیڑنے ان بی جے پی لیڈروں کا منہ بند کردیاجنہوں نے راہلگاندھی کا مذاق اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ یاترا کی سب سے بڑی خوبی اس کا غیر سیاسی ہونا اور مقصد ملک کے مختلف طبقات کے درمیان سماجی ومذہبی ہم آہنگی، محبت واخوت اورمساوات کو فروغ دینا اور ملک کو لاحق سنگین مسائل پر عوام کی توجہ مبذول کرنا تھا۔ چنانچہ راہل نے جہاں اقلیتوں، دلتوں اور پچھڑی جاتیوں کے حقوق کا ذکرکیا، وہیں ملک میں بڑھتی مہنگائی، بیروزگاری ، سماج میں مخصوص طبقات کے خلاف نفرت و حقارت اور خواتین پر ہونے والے مظالم میں اضافے پر تشویش کا اظہارکیا اور فرد واحد کے ہاتھوں اقتدار سمٹ جانے کو ملک اور جمہوریت کے لئے خطرناک بتایا۔ یاترا کے موضوع پر لکھے گئے ایک مضمون کا اختتام ہم نے ان الفاظ میں کیا تھا ’’یہ ساری باتیں کہنے سننے میں اچھی لگتی ہیں لیکن نفرت کی آندھی میں محبت اور یکجہتی کی شمع روشن کرنا آسان نہ ہوگا اس لئے راہل کی اصل آزمائش یاترا کے بعد شروع ہوگی۔ کیا وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں گے؟ اگرنہیں توراہل کے مخالفین کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ یاترا اُن کی شبیہ چمکانے کے لئے تھی جس کا مقصد خالص سیاسی اور راہل کو مودی کا مدمقابل بناکر پیش کرنا تھا۔‘‘
  ۳۰؍ جنوری گاندھی جی کے یوم شہادت پر یاترا سری نگر میں اپنے اختتام کو پہنچی۔ اسے ڈیڑھ مہینہ ہوچکا ہے لیکن راہل کی طرف سے ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی جو ان میں کسی خاص تبدیلی کا اشارہ دیتی، نہ ہی اس کا اثر تریپورہ ، ناگالینڈ اور میگھالیہ کے انتخابی نتائج میں نظر آیا۔ اس درمیان ٹوئٹر پر مودی اور ان کی حکومت پر راہل کے حملے برابر جاری رہے لیکن بی جے پی لیڈروں کو ایک ایسے ایشو کی ضرورت تھی جس پر راہل کو گھیرا جاسکے اور یاترا کو ملی کامیابی کا توڑ پیدا کیاجاسکے۔
  یہ موقع انہیں ۲۸؍ فروری کو کیمبرج یونیورسٹی میں راہل کی تقریر نے مہیا کردیا۔ اس تقریر میں اور لندن میں دیئے گئے دوسرے بیانات میں انہوںنے جو کچھ کہا ان میں کوئی نیا پن نہیں تھا۔ باتیں وہی تھیں جو وہ اور دیگر اپوزیشن لیڈر ہندوستان میں مودی اور ان کی حکومت کے خلاف کہتے چلے آئے ہیں کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک اور جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے لیکن راہل نے یہی باتیں انگلینڈمیں کہیں تو بی جے پی لیڈر بپھر اٹھے اور گھر کی بات بیرونِ ملک کہنے کو ملک کی توہین قراردیا، معافی کا مطالبہ کیا جبکہ ایک ستم ظریف نے راہل کو لوک سبھا رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ ایشو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی بی جے پی اورکانگریس ممبروں کے درمیان بحث کا موضوع بنا، نتیجتاً ہنگاموں کے درمیان ایوانوں کی کارروائی کو ملتوی کرنا پڑا۔ حیرت اس پر ہے کہ بی جے پی والوں نے راہل گاندھی کے محض ایک جملے کو لے کر طوفان بدتمیزی برپاکیا لیکن ان کی تقریر کے مثبت پہلوؤں کو گول کرگئے۔ آیئے دیکھیں کہ انہوںنے انگلینڈ میں مودی حکومت کی مخالفت میں کیا باتیں کہیں اورجمہوریت خطرے میں کا نعرہ کیوں دیا۔ راہل نے اپنے بیانات میں مودی دَور کے جن پانچ منفی پہلوؤں کا ذکر کیا وہ یہ ہیں (۱) میڈیا اور عدلیہ پر قبضہ (۲) سیاسی مخالفین کی نگرانی اور دھمکی کا استعمال (۳) مخالفین کے خلاف تفتیشی ایجنسیوں کااستعمال (۴) اقلیتوں ، دلتوں اور قبائلی لوگوں پر ہونے والےپرتشدد حملے اور (۵) حکومت مخالف آوازوں کے خلاف کارروائی ۔ بی جے پی لیڈروں نے ان پہلوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کیونکہ اِن سے ان کی رگ دبتی تھی لیکن اپنی سہولت کے لئے اُس مثبت پہلو سے بھی صَرف ِ نظر کیا جس میں راہل نے امید ظاہر کی تھی کہ مذکورہ مسائل ہندوستان کے داخلی معاملات ہیں اور ہم ہی ان کا حل نکالیں گے۔ راہل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ۱۴۰؍ کروڑ ہندوستانی جمہوریت کو ختم ہونے نہیں دیں گے جس کا اثر ساری دنیا کی جمہوریتوں پر پڑے گا۔غالباً وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے ہندوستان دنیا کی دوسری جمہوریتوں کے لئے بقعۂ نور بنے گا۔ ظاہر ہے ان باتوں سے بی جے پی لیڈروں کا راہل کو نیچا دکھانے کا مقصدپورا نہیں ہوتا تھا اس لئے انہوںنے ان کے حملے ’’ہندوستانی جمہوریت خطرے میں ہے‘‘ کولے کر ان پرہلّہ بول دیا اور اسے ہندوستان کو بدنام کرنے سے تعبیر کیا۔ بی جے پی لیڈر راہل سے معافی مانگنے پر مصر ہیں جبکہ کانگریس لیڈر اس کے خلاف ہیں۔ معاملہ کتنا طول کھینچے گا، کہا نہیں جاسکتا ۔ ورنہ سچ یہ ہے کہ معاملے کو ہوادے کر بی جے پی لیڈروں نے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو معاملہ اپنی موت آپ مرجاتا اورکوئی اس کا نوٹس نہ لیتا۔ معاملے کو اچھال کر بی جے پی نے خود کو اورملک کو بدنام کرنے کا کام کیا ہے۔ یہ لوگ بھول گئے کہ ذرائع ابلاغ کے اس ترقی یافتہ دَور میں دنیا والوں کی نظروں سے کسی بھی ملک کا کچا چٹھا چھپا نہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ وزیر قانون کرن رجیجونے راہل کو ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لئے انتہائی خطرناک بتایا اور الزام لگایا کہ وہ اپنے اشتعال انگیز بیانات سے ملک کو تقسیم کرنے کے دَرپے ہے۔ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کیلئے نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا چیئرمین جگدیپ دھنکر کیسے چپ رہتے۔انہوں نے راہل کے اس الزام سے انکارکیا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈروں کو بولنے کا موقع نہ دینے کیلئے ان کا مائک بند کردیاجاتا ہے دھنکر نے یہ بھی کہا کہ راہل کو ایسا کہنے کی ہمت کیسے ہوئی؟ یہی نہیں انہوں نے اپنے عزم کا اظہار اس طرح کیا کہ ایمرجنسی میں ہم اپنی تاریخ اور جمہوریت کے انتہائی تاریک دَور سے گزرچکے ہیں اس لئے اب اسےدُہرانے نہیں دیاجائے گا۔ تعجب کی بات ہے کہ مودی بھی چپ نہیں بیٹھے ، کرناٹک میں مئی میں الیکشن ہونے والے ہیں، انہوں نے راہل کا نام لئے نشانہ سادھا اور کرناٹک واسیوں سے کہا کہ انہیں ایسے لوگوں سے دُور رہنا چاہئے جو لندن کی سرزمین سے ہندوستانی جمہوریت کی بقا پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ساری دنیا ہمارے جمہوری نظام سے متاثر ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہی نہیں  مادرِ جمہوریت ہونے کا شرف حاصل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK