Inquilab Logo Happiest Places to Work

نت نئے ضابطوں کی ضرب اور غیر سرکاری تنظیمیں

Updated: June 28, 2026, 12:35 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

اگر آپ پوچھیں کہ کیا حکومت این جی اوز کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی تو اس کا جواب ہے: ’’نہیں کرتی‘‘۔ اس کی جانب سے ایسا کوئی بیان نہیں آیا مگر غیر سرکاری تنظیموں کو نئے نئے ضابطوں کا پابند بنایا جارہا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

قانون بننے کیلئے جو چیز پارلیمنٹ میں منظور نہیں ہوسکتی، وہ تبدیلیٔ ضابطہ کے نام پر جگہ بنالیتی ہے اور نافذ ہوجاتی ہے۔ قانون بنے یا ضابطہ بدلے، کچھ فرق نہیں ہے، نتیجہ ایک سا نکلتا ہے اور مقصد بھی پورا ہوجاتا ہے۔ جمہوری ملکوں سے یہ اُمید نہیں کی جاتی کہ وہ ایسا کرینگے۔ ہمارے یہاں ایسا ہوا ہے اس لئے حیرت نہیں ہوتی جب ہمیں مکمل جمہوریت کا درجہ نہیں ملتا اور ریٹنگ ایجنسیاں ہم پر ’’جزوی طور پر آزاد‘‘ کا لیبل چسپاں کردیتی ہیں۔ 
اس سال مارچ میں مرکزی حکومت نے ایک بل پیش کیا جس کا مقصد، ایک بار پھر، غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کو ستانا تھا۔ یہاں یہ وضاحت بے محل نہ ہوگی کہ ہمارے ملک کی تنظیم جو آر ایس ایس کہلاتی ہے، اس زمرہ میں نہیں آتی کیونکہ اس نے اپنا رجسٹریشن نہیں کرایا ہے یعنی دستاویزوں میں اس کا وجود ہی نہیں ہے۔ 
بہرکیف، مارچ میں پیش کیا گیا مذکورہ بل اپوزیشن کی مخالفت کی وجہ سے منظور نہیں کیا جاسکا۔ وزیر اعظم، جن کے پاس ۲۴۰؍ ایم پی ہیں، نے اس بل کو اٹھایا اور گھر چلے گئے۔ مگر اس کے بعد انہوں نے اسے مسودۂ قانون کی حیثیت سے پیش نہیں کیا بلکہ ضابطے میں تبدیلی کے نام پر پیش کیا۔ ایسی تبدیلیوں کو پارلیمنٹ کی منظوری درکار نہیں ہوتی۔ ایس آئی آر کے معاملے میں بھی یہی ہوا تھا۔ ضابطے کا سہارا لیا گیا مگر اس کے ذریعہ وہی مقصد پورا کیا گیا جو این آر سی کے ذریعہ قانون بنا کر کیا جانا تھا۔ 
این جی اوز پر تازہ حملہ اُن کوششوں کی توسیع کے طور پر دیکھا جانا چاہئے جن کا مقصد اس شعبے کو بند ہی کردینا ہے۔ بہ الفاظ دیگر اس کے ذریعہ غیر سرکاری تنظیموں کو ملنے والے غیر ملکی عطیات کو روکنا ہے۔ اس کیلئے پیش کیا گیا جواز وہی ہیں جو کہ ہوسکتا ہے یعنی قومی سلامتی، غیر ملکی ہاتھ وغیرہ۔ ’’پی ایم کیئر ‘‘ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ یہ فنڈ نہ تو سرکاری ہے نہ ہی اس کیلئے جو ادارہ بنایا گیا وہ این جی او ہے۔ ویسے، یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ پی ایم کیئر پر آر ٹی آئی کا بھی اطلاق نہیں ہوتا۔ کیا یہ فنڈ یا ادارہ بھی کسی آسمانی شکتی سے وابستہ ہے؟
بہرکیف، جو نئے ضوابط ہیں وہ این جی اوز کے کاموں پر اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ اب این جی اوز کا دائرۂ کار طے کردیا گیا ہے۔ حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگیا ہے کہ وہ این جی او کے کاموں میں دخل دے۔ این جی اوز کے سربراہ، ٹرسٹیوں اور دفتر میں کام کرنے والوں پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ظاہر کریں اور کسی پلیٹ فارم پر کوئی ایسی بات نہ لکھیں جس کی نوعیت حکومت کے نزدیک سیاسی ہو۔ 
ان شرائط سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ حکومت کا اصل ہدف کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان شرطوں کا اطلاق نجی سیکٹر پر کیوں نہیں کیا گیا کہ یہ سیکٹر بھی تو غیر سرکاری ہے؟ اس کا جواب ملنا مشکل ہے۔ کارپوریٹ کمپنیوں پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے نام پر جتنا سرمایہ لینا چاہیں لے سکتے ہیں۔ سرمایہ لینے پر اُنہیں روکا نہیں جاتا، ان کی ستائش کی جاتی ہے۔ انہیں آزادی ہے کہ غیر ملکی شہری کو سی ای او مقرر کریں۔ خود ہندوستانی نژاد لوگ جو امریکہ میں سی ای او بنے اُنہیں ہیرو کہا جاتا ہے اور داد تحسین دی جاتی ہے۔ 
ایسے اور بھی کئی ضابطے ہیں جن کا انحصار دوہرے معیار پر ہے۔ جنوری ۲۰۱۳ء میں، ایک عوامی عرضداشت دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بی جے پی اور کانگریس کو ایک ہی غیر ملکی کمپنی (ویدانتا، اسٹرلائٹ) سے عطیات موصول ہوئے ہیں جو غیر ملکی فنڈ کے قانون (ایف سی آر اے) کی خلاف ورزی کی مرتکب ہے۔ ۲۸؍ مارچ ۱۴ء کو عدالت نے کہا کہ بی جے پی اور کانگریس، دونوں نے غیر ملکی عطیات کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے پیش نظر عدالت نے مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ وہ ان پارٹیوں کے خلاف کارروائی کریں۔ اکتوبر ۲۵ءکے آنے آنے تک حکومت نے طے کرلیا تھا کہ اس سلسلے میں کیا کیا جانا چاہئے۔ حکومت کے نزدیک اس کا حل یہ تھا کہ کسی غیر ملکی کمپنی کو ہندوستانی مان لیا جائے جس نے ہندوستان میں رجسٹریشن کروایا ہے۔ اس طرح ’’غیر ملکی‘‘ کو ’’ہندوستانی‘‘ کرلیا گیا جو ہندوستانی عوام کے ساتھ دھوکہ تھا مگر اس میں مزید کچھ نہیں ہوا شاید اس لئے کہ ملک کی دو بڑی پارٹیاں اس میں شامل تھیں۔ 
اس کے برخلاف، ہم سب (عوام) کیلئے ضابطے الگ ہوتے ہیں۔ ۲۰۲۰ء میں حکومت نے مزید کئی ضابطے بنائے۔ اول: این جی اوز، جن کی تعداد کم و بیش ۲۳؍ ہزار ہے، غیر ملکی عطیات اسٹیٹ بینک کی صرف ایک برانچ (سنسد مارگ، نئی دہلی برانچ) میں منگوائیں۔ دہلی میں رجسٹر این جی اوز کی تعداد ۱۴۸۸؍ ہے چنانچہ نئے ضابطے پر عملدرآمد کا معنی ہے کہ باقی ماندہ این جی او، جن این جی اوز کا دفتر دہلی میں نہیں ہے وہ ملک کے گوشے گوشے سے دہلی آئیں اور سنسد مارگ برانچ میں کھاتہ کھولیں۔ اس برانچ کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ غیر ملکی عطیات کی تفصیل وزارت ِ داخلہ کو فراہم کرے اور یہ بتائے کہ وہ عطیات کہاں سے اور کس طرح ملے۔ دوئم: یہ ضابطہ بھی بنایا گیا کہ این جی اوز انتظامی اخراجات کے طور پر صرف ۲۰؍ فیصد رقم خرچ کریں۔ اب بتائیے کہ صرف ۲۰؍ فیصد رقم انتظامی اُمور پر خرچ کی جائیگی تو کیا تنخواہیں، پانی اور بجلی کا بل، اسٹیشنری اور پرنٹنگ، پوسٹل اور کوریئر چارجیز، موٹر گاڑیوں کا خرچ، رپورٹیں تیار کروانے کی فیس، قانونی اخراجات، پروفیشنل چارجیز، دفتر کا کرایہ اور ایسے تمام اخراجات کی ادائیگی کیسے ہوگی؟ یاد رہے کہ یہ ضابطہ نجی کمپنیوں کیلئے نہیں، صرف این جی اوز کیلئے بنایا گیا۔ سوئم: غیر ملکی عطیات وصول کرنے والے این جی اوز اپنی رقم کا کچھ حصہ کسی دوسرے این جی او کو نہیں دے سکتے خواہ وہ این جی او غیر ملکی عطیات کے مذکورہ قانون کی پاسداری کرتے ہوں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ چند این جی اوز مل کر کسی پروجیکٹ پر کام نہیں کرسکتے۔ این جی اوز کے شعبے میں ہوتا یہ ہے کہ کچھ بڑے این جی اوز چھوٹی اکائیوں کی مدد حاصل کرتے ہیں اور اُنہیں محنتانہ ادا کرتے ہیں۔ اب یہ ممکن نہیں۔ حکومت کا نعرہ ہے ’’کم سے کم عملہ اور زیادہ سے زیادہ حکومتی کام‘‘۔ یہ فارمولہ این جی اوز پر لاگو نہیں کیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK