Updated: June 27, 2026, 5:03 PM IST
| New Delhi
کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے مودی حکومت کی فلسطین کے معاملے پر خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اخلاقی اورعقلی لحاظ سے ناقابلِ جواز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنی چاہئے۔
سونیا گاندھی۔ تصویر: آئی این این
سنیچرکوشائع ہونے والے دی انڈین ایکسپریس میں اپنے ایک کالم میں کانگریس کی لیڈر اور سابق صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیل کی ’’نسل کشی پر مبنی کارروائیوں ‘‘ کے بارے میں نریندر مودی حکومت کی مسلسل خاموشی کی ’’نہ عقلی اور نہ ہی اخلاقی طور پر کوئی توجیہ پیش کی جا سکتی ہے۔ ‘‘ سونیا گاندھی نے لکھا کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیل پر کئے گئے ’’ناقابلِ قبول‘‘ حملے کو ڈھائی سال گزر چکے ہیں، اور اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ اسرائیل کی جوابی کارروائی’’اندھی سفاکی اور بربریت‘‘ سے عبارت رہی ہے۔ اکتوبر۲۰۲۳ء میں حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے میں تقریباًایک ہزار ۲۰۰؍ افراد ہلاک ہوئے تھے اور متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فضائی اور زمینی حملوں کا وسیع سلسلہ شروع کیا، جس میں اب تک۷۳؍ ہزارسے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سنیچرکو اپنے مضمون میں سونیا گاندھی نے لکھا کہ اسرائیل کے اعلیٰ لیڈروں، جن میں وزیر اعظم نیتن یاہو بھی شامل ہیں، نے غزہ کے ’’مکمل محاصرے‘‘ کا مطالبہ کیا اور فلسطینیوں کو ’’جانور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ’’وجود کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ‘‘
’’ہندوستان خاموشی کی واحد آواز بن گیا ہے‘‘
سونیا گاندھی نے کہا کہ اگرچہ امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف اپنی ’’ظالمانہ مہم‘‘ جاری رکھنے میں مدد فراہم کی، لیکن دنیا کے باقی حصے میں ضمیر بیدار ہونا شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازع کے دوران مغربی دنیا کے کئی ممالک، جن میں برطانیہ، کنیڈا اور آسٹریلیا شامل ہیں، نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا، حالانکہ وہ کئی دہائیوں تک فلسطینی مسئلے سے لاتعلق رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف۱۹۴۸ء کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کے الزام میں بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) سے رجوع کیا، جبکہ کئی یورپی ممالک نے اسرائیل کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندیاں عائد کیں۔ اسی طرح بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی سیاسی قیادت کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کئے۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ٹی ای ٹی پرچہ لیک، امتحان ملتوی؛ لاکھوں امیدوار غیر یقینی صورتحال کا شکار
سونیا گاندھی نے کہا:’’اسرائیل کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی ردِعمل اور غزہ میں ہونے والی ناقابلِ جواز بربریت کے بارے میں عالمی برادری کے شعور کے باوجود، ہندوستان خاموشی کی واحد آواز بن کر رہ گیا ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان تاریخی طور پر نوآبادیاتی نظام کے خلاف یکجہتی، قومی خودمختاری اور عالمی امن کا علمبردار رہا ہے۔ لیکن آج ہندوستان بین الاقوامی اصولوں پر مبنی نظام کی کھلی خلاف ورزی، عالمی جنوب کے عوام کی تکالیف، اور فلسطین میں انسانی وقار کی پامالی کے معاملے میں غیر معمولی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔
ہندوستان کا دیرینہ مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ دو ریاستی حل (Two-State Solution) کی حمایت کرتا ہے، جس کے تحت ایک خودمختار، قابلِ عمل اور آزاد فلسطینی ریاست، تسلیم شدہ اور باہمی طور پر طے شدہ سرحدوں کے اندر، اسرائیل کے ساتھ امن سے رہ سکے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے ستمبر میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی۔ انہوں نے منگل کو شائع ہونے والی ایک اور رپورٹ کا بھی حوالہ دیا، جس میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر فلسطینی بچوں کو نشانہ بنایا اور انہیں قتل کیا۔
ریٹائرڈ ہندوستانی جج ایس مرلی دھر کی سربراہی میں قائم کمیشن کے مطابق:فلسطینی بچوں کو نشانہ بنا کر اسرائیل دراصل فلسطینی قوم کی بقا اور مستقبل کا تعین کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے ان دونوں رپورٹوں کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’مہا وکاس اگھاڑی لیڈران مہایوتی میں جانےکو بے تاب ہیں‘‘
’’یہ مؤقف قومی مفاد کے اعتبار سے بھی ناقابلِ فہم ہے‘‘
سونیا گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت کی ’’خاموشی اور بے عملی نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہے بلکہ قومی مفاد کے نقطۂ نظر سے بھی ناقابلِ فہم ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا:’’ہم ایسے وقت میں اسرائیل کے تزویراتی دائرۂ اثر میں مزید داخل ہو رہے ہیں جب دنیا بتدریج اس سے دور ہو رہی ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ان حالات میں مودی کا اسرائیل کا دورہ، اور اس کے چند ہی دن بعد اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنا اور تہران کی اعلیٰ سیاسی قیادت کو قتل کرنا، تاریخ میں ایک حیران کن تزویراتی فیصلہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یاد رہے کہ مودی نے۲۵؍ اور ۲۶؍فروری کو اسرائیل کا دورہ کیا تھا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ۲۸؍ فروری کو شروع ہوئی۔ اس دورے کے دوران مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:’’ہندوستان اس مشکل وقت میں اور اس کے بعد بھی پورے یقین کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: چندہ چوری معاملہ: سماجوادی پارٹی اور کانگریس کا بی جے پی پر حملہ
سونیا گاندھی نے مزید کہا:’’ہم نے اپنے تزویراتی مفادات اور اخلاقی اصولوں کی قربانی دے کر صرف مودی اور نیتن یاہو کی دوستی حاصل کی ہے، جبکہ نیتن یاہو آج پوری دنیا، حتیٰ کہ امریکہ میں بھی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ ‘‘آخر میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانی چاہئے۔ ان کے مطابق:’’قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ ہم غزہ میں اسرائیل کی مبینہ نسل کشی، اور مقبوضہ مغربی کنارے میں لاکھوں فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی اور جائیدادوں سے محرومی کے خلاف ابھرنے والی عالمی رائے عامہ کا جواب دیں۔ ‘‘