Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے وزیر اعظم مودی کو آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین میں شرکت کا پیغام بھیجا

Updated: June 24, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی سرکاری تدفین اور سوگواری کی تقریبات میں شرکت کا باضابطہ پیغام بھیجا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق آخری رسومات ۴؍ جولائی سے ۹؍ جولائی تک تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں منعقد ہوں گی۔

PM Modi (right) Masoud Pezishkian (left). Photo: INN
پی ایم مودی (دائیں) مسعود پیزشکیان ( بائیں)۔ تصویر: آئی این این

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی سرکاری تدفین اور سوگواری کی تقریبات میں شرکت کے لیے باضابطہ پیغام بھیجا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق یہ تقریبات کئی روز تک جاری رہیں گی اور ان میں مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت متوقع ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال کے بعد ہندوستان نے بھی تعزیت کا اظہار کیا تھا۔ ۲۸؍ فروری کو ان کے انتقال کے بعد ہندوستان کے خارجہ سیکریٹری وکرم مصری نے نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے کا دورہ کیا اور ہندوستانی حکومت کی جانب سے تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کیے تھے۔ تاہم اب تک ہندوستانی حکومت نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ آخری رسومات میں ہندوستان کی نمائندگی کون کرے گا۔ سفارتی حلقوں میں اس حوالے سے مختلف امکانات پر غور کیا جا رہا ہے، لیکن باضابطہ اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار کم کرنا ہوگا: نیتن یاہو

اس سے قبل مئی ۲۰۲۴ء میں ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں انتقال کے بعد ہندوستان نے ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا تھا اور سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا تھا۔ اس موقع پر نائب صدر جگدیپ دھنکڑ نے تہران جا کر ہندوستانی وفد کی قیادت کی تھی۔ ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز ۴؍ جولائی کو تہران کے گرینڈ موسلہ کمپلیکس میں ہوگا، جہاں ان کا جسدِ خاکی عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا۔ اس کے بعد تہران اور قم میں بڑے عوامی جلوس منعقد کیے جائیں گے۔ بعد ازاں عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں خصوصی دعائیہ اجتماعات اور مذہبی رسومات ادا کی جائیں گی۔ اس کا اختتام ۹؍ جولائی کو مشہد میں امام رضاؑ کے مزار کے قریب تدفین کے ساتھ ہوگا۔ایرانی حکام کو ان تقریبات میں لاکھوں افراد کی شرکت کی توقع ہے۔
ہندوستان اور ایران کے تعلقات تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی اہمیت رکھتے ہیں۔ نئی دہلی طویل عرصے سے ایران کو اپنا ’’ہم پڑوسی‘‘ قرار دیتا آیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سفارتی روابط میں تسلسل برقرار رہا ہے۔ مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدگی اور جنگ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے ایرانی قیادت کے ساتھ متعدد سطحوں پر رابطے برقرار رکھے۔ اسی عرصے میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان کا دورہ بھی کیا اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کیے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ یورپ کی رضامندی کے بغیر ایران پر سے پابندی نہیں ہٹائی جا سکتی‘‘

اس دورے کے دوران عباس عراقچی نے وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات کی تھی۔ حالیہ مہینوں میں متعدد ایرانی اعلیٰ حکام نے برکس اور دیگر علاقائی فورمز کے سلسلے میں نئی دہلی کا دورہ کیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آخری رسومات میں شرکت کے لیے کئی ممالک کو باضابطہ دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔ متعدد ممالک نے شرکت کی تصدیق کر دی ہے یا نمائندے بھیجنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عراق، پاکستان، افغانستان، شام، لبنان، روس، چین اور وسطی ایشیا کی کئی ریاستوں کے وفود کی شرکت متوقع ہے۔ ایران ان تقریبات کو نہ صرف قومی سوگ بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنے مرحوم لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK