قرآن مجید دُنیا کے ہر فن اور علم کیلئے منبع و سرچشمہ ہے

Updated: November 26, 2021, 5:54 PM IST | Dr Tahir-ul-Qadri | Mumbai

گزشتہ جمعہ کو شائع ہونے والے مضمون ’’جو شخص علم حاصل کرنا چاہے اُس کیلئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کا دامن تھام لے‘‘ کا دوسرا حصہ جس میں قرآن مجید سے اخذ کئے گئے علوم کے علاوہ تسخیر ماہتاب پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

دُوسری شہادت:قرآن تمام  علوم و فنون کا ماخذ ہے
علوم و فنون کے اِعتبار سے جامعیت ِ قرآن کا اندازہ اِس اَمر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ علمائے اِسلام نے جملہ علوم کی اَنواع و اَقسام سب قرآنِ حکیم سے ہی اَخذ کی ہیں۔ قرون وسطیٰ میں جب تمام علوم و فنون کی باقاعدہ تقسیم اور علم و فن کی تفصیلات مرتب کرنے کا کام سرانجام دیا جانے لگا تو علماء کی ایک جماعت نے لغات و کلمات قرآن کے ضبط و تحریر کا فریضہ اپنے ذمہ لے لیا۔ اُس نے مخارجِ حروف کی معرفت، کلمات کا شمار، سورتوں اور منزلوں کی گنتی، سجدات و علاماتِ آیات کی تعداد و تعین، حصرِکلمات، متشابہ و متماثلہ آیات کا اِحصاء، الغرض تعرضِ معانی و مطالب کے بغیر جملہ مسائلِ قرأت کا کام سراِنجام دیا۔ اُن کا نام ’قر ّاء‘ رکھا گیا اور اِس طرح ’علم القراۃِ و التجوید‘ منصہ شہود پر آیا۔ بعض نے قرآن کے معرب و مبنی، اَسماء و اَفعال اور حروفِ عاملہ و غیرعاملہ وغیرہ کی طرف توجہ کی تو ’علم النحو‘ معرضِ وجود میں آیا۔ بعض نے اَلفاظِ قرآن، اُن کی دلالت و اِقتضاء اور اُن کے مطابق ہر حکم کی تفصیلات بیان کیں تو ’علم التفسیر‘ وجود میں آیا۔ بعض نے قرآن کی ادِلّہ عقلیہ اور شواہد ِ نظریہ کی جانب اِلتفات کیا اور اللہ تعالیٰ کے وجود و بقاء، علم و قدرت، تنزیہہ و تقدیس، وحدانیت و اُلوہیت، وحی و رسالت، حشر و نشر، حیات بعد الموت اور اِس قسم کے دیگر مسائل بیان کئے تو ’علم الاصول‘ اور ’علم الکلام‘ وجود میں آئے۔ پھر اُنہی اُصولییّن میں سے بعض نے قرآن کے معانی خطاب میں غور کیا اور قرآنی اَحکام میں اِقتضاء کے لحاظ سے عموم و خصوص، حقیقت و مجاز، صریح و کنایہ، اِطلاق و تقیید، نص، ظاہر، مجمل، محکم، خفی، مشکل، متشابہ، اَمر و نہی، اَنواعِ قیاس اور دیگر ادِلّہ کا اِستخراج کیا تو فن ِ ’اُصولِ فقہ‘ تشکیل پزیر ہوا۔ بعض نے قرآنی اَحکام سے حلال و حرام کی تفصیلات و فروعات طے کیں تو ’علم الفقہ‘ یا ’علم الفروع‘ کو وجود ملا۔ بعض نے قرآن سے گزشتہ زمانوں اور اُمتوں کے واقعات و حالات کو جمع کیا اور آغازِ عالم سے قیامت تک کے آثار و وقائع کو بیان کیا جس سے ’علم التاریخ‘ اور ’علم القصص‘ وجود میں آئے۔ بعض نے قرآن سے حکمت و موعظت، وَعد و وعید، تحذیر و تبشیر، موت و معاد، حشر و نشر، حساب و عقاب اور جنت و نار کے بیانات اَخذ کئے جس سے ’علم التذکیر‘ اور ’علم الوعظ‘ کی تشکیل ہوئی۔ بعض نے قرآن سے مختلف خواب اور اُن کی تعبیرات کے اُصول اَخذ کئے تو ’علم تعبیرالرؤیا‘ کی تشکیل ہوئی۔ بعض نے قرآن سے ’علم المیراث‘ اور ’علم الفرائض‘ کی تفصیلات بیان کیں۔ بعض نے رات، دِن، چاند، سورج اور اُن کی منازل وغیرہ کے قرآنی ذِکر سے ’علم المیقات‘ حاصل کیا۔ بعض نے قرآن کے حسنِ الفاظ، حسنِ سیاق، بدیع، نظم اور اطناب و اِیجاز وغیرہ سے ’علم المعانی‘، ’علم البیان‘ اور ’علم البدیع‘ کو مدوّن کیا۔ عرفائے کاملین نے قرآن میں نظر و فکر کے بعد اُس سے معانی باطنہ اور دقائقِ مخفیہ کا اِنکشاف کیا۔ اُنہوں نے اُس سے تزکیہ و تصفیہ، فنا و بقاء، غیبت و حضور، خوف و ہیبت، اُنس و وَحشت اور قبض و بسط وغیرہ کے حقائق و تصوّرات بھی اَخذ کئے، جن سے’علم التصوّف‘ کی تشکیل ہوئی۔ بعض علماء نے قرآنِ مجید ہی سے طب، ہیئت، ہِندسہ، جدل، جبر و مقابلہ، نجوم اور مناظرہ وغیرہ جیسے عقلی علوم و فنون اَخذ کئے اور اُن کی تفصیلات بھی طے کیں۔ 
اِس طرح یہ مقدس اور جامع اِلہامی کتاب بالفعل دُنیا کے ہر فن اور علم کے لئے منبع و سرچشمہ قرار پا گئی۔ اِمام موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے مزید تفصیل کے ساتھ مذکورہ بالا موضوع پر روشنی ڈالی ہے، جس کی تلخیص اِمام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے الاتقان میں کی ہے۔
تیسری شہادت: حضور ﷺ کی عمرِمبارک کا اِستشہاد
تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمرِمبارکہ کے حوالے سے اِمام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ’الاتقان‘ میں یہ آیت نقل کرتے ہیں :
’’جب کسی کی اَجل آ جائے تو اللہ تعالیٰ ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں فرماتا۔‘‘ (المنافقون:۱۱)
قرآنِ کریم کی اِس آیتِ مبارکہ کا اِطلاقِ عمومی ہر اِنسان کی موت پر ہوتا ہے لیکن اَہلِ علم و بصیرت جانتے ہیں کہ اِس کے نزول کے وقت اِس میں وِصالِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اِشارہ کر دیا گیا تھا۔
یہ ’سورۃ المنافقون‘ (جو قرآن مجید کی ۶۳؍ ویں  سورہ ہے) کی آخری آیت ہے۔ اِس سورہ کے بعد ربِّ ذوالجلال نے ’سورۃ التغابن‘ کو منتخب فرمایا۔ تغابن ناپید ہو جانے اور ہست سے نیست ہو جانے کو کہتے ہیں۔ ۶۳؍ویں سورۃ کے اِختتام پر کسی پر وقت اَجل آ جانے کا ذِکر اِس اَمر کی طرف اِشارہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری عمرِ مبارک ۶۳؍ویں برس پر اپنے اِختتام کو پہنچ جائے گی اور اِس آیت کے فوراً بعد سورۃُ التغابن کا اِنتخاب مزید صراحت کے لئے تھا کہ اَب اِس ہستی مبارک کی حیاتِ ظاہری کے ناپید ہو جانے کے بعد اِنعقادِ قیامت کا ہی دَور آئے گا۔ درمیان میں کسی اور نبی یا اُمت کا دَور ممکن نہیں۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دَورِ نبوت روزِ قیامت سے متصل ہے اور درمیانی سارے عرصے کو یہی محیط ہے۔ کسی اور کا زمانہ باقی نہیں رہا جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنی درمیان والی انگلی اور انگشتِ شہادت کو ملا کر فرمایا تھا :
’’میں (یعنی میرا دَور) اور قیامت دونوں آپس میں اِن دو اُنگلیوں کی طرح متصل ہیں۔‘‘ (جامع ترمذي۔۲:۴۴)
جیسے اِن دو اُنگلیوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں اِسی طرح میرے دورِ نبوت اور قیامت کے درمیان کوئی فاصلہ یا زمانہ نہیں۔ گویا یہ آیتِ مقدسہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمرِمبارک کے تعین کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ختمِ نبوت کے اِعلان پر بھی مشتمل ہے۔ اِس شہادت سے ’قرآن‘ کی شانِ جامعیت پر بخوبی روشنی پڑتی ہے۔
چوتھی شہادت ’اَجرامِ فلکی کی دُہری گردِش‘
اِمام غزالی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک غیرمسلم نے سوال کیا کہ جملہ اَجرامِ فلکی یعنی سورج، چاند اور دیگر سیارگان فضا میں جو حرکت کرتے ہیں وہ دو طرح کی ہے، ایک سیدھی اور دُوسری معکوس یعنی ایک سیارہ اگر کسی دُوسرے سیارے کے تناسب سے دائیں سے بائیں طرف جاتا ہے تو وہ مدار میں اپنا چکر پورا کرنے کے لئے واپس پلٹ کر بائیں سے دائیں طرف بھی آتا ہے کیونکہ تمام سیاروں کے مدار بیضوی ہیں۔ اِس بارے میں اُس غیرمسلم نے سوال کیا کہ قرآنِ مجید میں ایک سمت کی حرکت کا ذِکر تو موجود ہے لیکن دُوسری کا کہاں ہے؟ پہلی حرکت کے بارے میں اُس نے یہ آیت پڑھی :
’’تمام (سیارے اپنے اپنے) مدار میں تیر رہے ہیں (یعنی گردِش کر رہے ہیں)‘‘ 
(يٰسين:۴۰)
اِمام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اِسی آیت میں اُن کی حرکت ِ معکوس کا ذِکر بھی موجود ہے۔ اگر کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ کے اَلفاظ کواُلٹا کر کے (یعنی معکوس طریقے سے پڑھا جائے) یعنی فَلَکٍ کے ’ک‘ سے شروع کر کے کُلٌّ کی ’ک‘ تک پڑھا جائے تو پھر بھی کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ ہی بنے گا، گویا آیت کے اِس حصہ کو سیدھی سمت میں پڑھنے سے سیارگانِ فلکی کی سیدھی حرکت کا ذِکر ہے اور معکوس سمت میں پڑھنے سے حرکت معکوس کا ذکر ہے۔ یہی سیارگان کی سیدھی حرکت ہے اور اِنہی لفظوں میں اُن کی اُلٹی حرکت بھی مذکور ہے۔
پانچویں شہادت: ’واقعہ ٔ  تسخیر ِ ماہتاب اور قرآن‘
اِس ضمن میں ایک اور شہادت تسخیر ماہتاب کے واقعہ سے متعلق ہے۔ جولائی ۱۹۶۹ء میں امریکہ کے خلائی تحقیقاتی اِدارے ’ناسا‘ کے تحت تین سائنس دانوں کے ہاتھوں تسخیرِ ماہتاب کا عظیم تاریخی کارنامہ اِنجام پزیر ہوا۔ اُس واقعہ کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے قرآن نے چودہ سو سال پہلے اِعلان کر دیا تھا :
’’اور قسم ہے چاند کی جب وہ پورا دکھائی دیتا ہے،تم یقیناً طبق در طبق ضرور سواری کرتے ہوئے جاؤ گے، تو اُنہیں کیا ہو گیا ہے کہ (قرآنی پیشین گوئی کی صداقت دیکھ کر بھی) اِیمان نہیں لاتے۔‘‘ (الانشقاق: ۱۸؍تا۲۰)
اِن تینوں آیات کا باہمی ربط اور سیاق و سباق یہ ہے کہ اِس سورہ میں قیامت سے پہلے رُونما ہونے والے حادثات اور واقعات کا ذکر ہے۔ مذکورہ بالا آیات سے پہلے اَجرامِ فلکی، کائناتی نظام اور بالخصوص نظامِ شمسی کے اہم پہلوؤں کا بیان ہے۔ اِسی طرح اِس میں کائنات کے اہم تغیرات کا بھی ذِکر ہے۔ پھر مختلف قسمیں کھائی گئی ہیں، کبھی شفق کی اور کبھی رات کی۔ تیسری قسم چاند کی ہے۔ اُس کے بعد اِرشاد فرمایا گیا کہ تم یقیناً ایک طبق سے دُوسرے طبق تک پہنچو گے، یعنی تم طبق در طبق پرواز کرو گے۔
اَب اِن آیات پر دوبارہ غور فرمایئے :
’’اور قسم ہے چاند کی جب وہ پورا دِکھائی دیتا ہے،تم یقیناً طبق در طبق ضرور سواری کرتے ہوئے جاؤ گے،تو اُنہیں کیا ہو گیا ہے کہ (قرآنی پیشین گوئی کی صداقت دیکھ کر بھی) اِیمان نہیں لاتے۔‘‘
قرآنِ حکیم کا انداز بیان، ربط بین الآیات اور نظم عبارت کا ایک ایک پہلو بلکہ ایک ایک حرف مستقل مفہوم، نمایاں اِفادیت اور خاص حکمت ومصلحت کا حامل ہوتا ہے۔
’’لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ‘‘ سے پہلے متصلاً قرآنِ حکیم کا چاند کی قسم کھانا اِس اَمر کی طرف واضح اِشارہ ہے کہ آگے بیان ہونے والی حقیقت چاند سے ہی متعلق ہو گی۔
لترکبنّ، رکب یرکب سے مشتق ہے، جس کا معنی ہے کسی پر سوار ہونا۔ اِسی سے اِسمِ ظرف (مرکب) نکلا ہے، یعنی سوار ہونے یا بیٹھنے کی جگہ۔ گھوڑے پر سوار ہوتے وقت جس پر پاؤں رکھا جاتا ہے اُسے بھی اِسی وجہ سے رکاب کہتے ہیں۔
گویا لترکبنّ کا لفظ اِس اَمر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ اُوپر جانا کسی سواری کے ذریعے ہو گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK