Inquilab Logo Happiest Places to Work

قرآن مجید میں اہل تقویٰ کے اوصاف کا ذکر۔ پہلی قسط

Updated: January 03, 2020, 10:25 AM IST | Dr. Md Bilal Khan

قرآن حکیم میں جن آیات میں تقویٰ کا ذکر آیا ہے، ان کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کلام الٰہی تقویٰ کو کسی ایک محدود معنوں میں استعمال نہیں کرتا، بلکہ متعدد آیات میں اس کے مختلف پہلوؤں کی تشریح بھی کرتا ہے۔ اس سے اہلِ تقویٰ کے ذاتی، روحانی، اخلاقی، سماجی، ازدواجی، عسکری اور تحقیقی اوصاف سامنے آتے ہیں اور واضح ہوتا ہے کہ ایک متقی کی عملی زندگی کا نمونہ کیا ہونا چاہئے۔ ذیل میں قرآنی آیات کی روشنی میں ان اوصاف کی نشاندہی کی گئی ہے۔

قرآن پاک کے آغاز ہی میں ارشاد ہے کہ یہ کتاب متقین کے لئے ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی
قرآن پاک کے آغاز ہی میں ارشاد ہے کہ یہ کتاب متقین کے لئے ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی

 اہل تقویٰ کے اوصاف انہیں عام لوگوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ قرآن انہیں اللہ کے رفیق، پیغمبروں کے ساتھی، اہلیت و صلاحیت کے مالک، عزت و مرتبے کے مالک، پاکیزہ اور اس کے ساتھ ہی عذاب خداوندی سے بچا رہنے والا قرار دیتا ہے (الجاثیہ :۱۹، النبا:۳۱، الحجرات:۱۳، الزمر: ۷۸، مریم:۹۷، السجدہ:۱۸۰)۔ ان کے لئے زمین و آسمان سے برکتوں کا نزول ہوتا ہے اور یہ اخروی فلاح و کامرانی اور جنت کے حقدار قرار پاتے ہیں۔ انہیں حزن و ملال لاحق نہیں ہوتے۔ ان کے اعمال ایمان و حسنات میں مسلسل بلندی کا باعث بنتے ہیں ۔ کعبۃ اللہ کی نگہبانی بھی ان کے سپرد کی گئی۔ حد یہ ہے کہ ان کی جانیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک و صاف ہوں اور ان کا استقبال اس حال میں کیا جاتا ہے کہ ’’تم پر سلامتی ہو، جاؤ جنت میں ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے۔‘‘  (مریم:۶۳، اعراف:۹۶، المائدہ:۹۳، الانفال:۴۴)
بنیادی خصوصیت
 اہلِ تقویٰ صراط مستقیم پر چلنے کے خواہاں ہونے کے ساتھ ہدایت ربانی سے فیض یاب ہونے کی سعادت حاصل کرتے ہیں (فاتحہ:۵، البقرہ:۱۰)۔ قرآن پاک کے آغاز ہی میں ارشاد ہے کہ یہ کتاب متقین کے لئے ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ قرآن عام لوگوں کے لئے ایک بیان ہے جب کہ متقین کے لئے ہدایت کا سامان رکھتا ہے (آل عمران: ۱۳۸، الزمر: ۱۲۸، الطلاق: ۱۰، الحاقہ:۴۸)۔ اس لئے قرآن سے استفادہ کرنے کیلئے سب سے زیادہ ضروری چیز تقویٰ ہے۔ عربی زبان جاننا بھی ضروری ہے ۔ تاریخ انسانی اور کائنات کا علم جتنا وسیع ہوگا اسی قدر قرآن پاک سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ لیکن قرآن پاک کا اصل مقصد ہدایت وہی حاصل کرے گا جو صاحب ِ تقویٰ ہوگا۔ جو شخص تقویٰ سے خالی ہے، اس کا علم خواہ کتنا وسیع ہو، وہ قرآن پاک سے پوری طرح فیض یاب نہیں ہوسکے گا۔ یوں سمجھئے کہ تقویٰ ہدایت ربانی کی شرط ِ اول ہے ۔ اس لحاظ سے یہ صفت بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔
روحانی اقدار
 انسانی معاشرے میں انتشار اورانارکی کی بنیادی وجہ روحانی اقدار سے پہلوتہی ہے۔ بڑے بڑے بین الاقوامی تنازعات روحانی نظام سے روگردانی کے باعث جنم لیتے ہیں۔ صحیح روحانی نظام ترغیبات نفس کے منفی اثرات سے بچاؤ کا سامان مہیا کرتا ہے اور یہی کسی شائستہ تہذیب کی اصل بنیاد ہے۔
 متقین ایمان بالغیب سے آراستہ ہوتے ہیں۔ قرآن میں یہ نکتہ وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ انکار کرنے والا متقی نہیں ہوسکتا (المزمل:۱۷)۔ روحانی اوصاف کے بارے میں یہ آیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ محض اللہ پر ایمان لانے والا ہی خوف ِ خدا رکھ سکتا ہے۔ متقین نشانیوں کی طلب سے گریز کرنے والے، کلام الٰہی میں ذرہ برابر شک نہ کرنے والے، اللہ کی طرف رجوع کرنے والے، شرک سے بچنے والے، راتوں کو تلاوت و سجدہ کرنے والے، نیکوکار، رات کو کم سونے والے اور وقت سحر استغفار کرنے والے ہوتے ہیں۔ شیطان کے وساوس سے خطرہ لاحق ہو تو اللہ کی یاد میں لگ جاتے ہیں اور راہ یاب ہوجاتے ہیں۔ اپنی ذات کو برائی کے سامنے سرنگوں نہیں کرتے۔ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ صبر سے کام لیتے ہیں، حسد سے بچتے ہیں۔ وہ نیاز محض اللہ کی خاطر دیتے ہیں اور اس طرح شرک کی کسی ادنیٰ سی صورت سے بھی احتراز کرتے ہیں۔ روزے کا اہتمام کرتے ہیں اور قیام صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ پر کاربند ہوتے ہیں (البقرہ:۳، ۲۴، ۴۵، ۸۳، آل عمران: ۱۱۵، ۱۱۹، الاعراف: ۹۶، ۱۵۶، ۲۰۱، الذاریات: ۱۵، المائدہ: ۲۷۰، النحل:۲)۔ شعائر اسلامی کا احترام ملحوظ رکھتے ہیں۔ ان کی توہین گناہ کبیرہ ہے۔ رب کے غضب سے ڈرنے کے ساتھ پیغمبروں کے معجزات پر یقین رکھتے ہیں۔ طاغوت کی بندگی سے اجتناب کرنے والے اور ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ رہنے والے ہوتے ہیں۔ جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں اور احسن، یعنی بہترین بات کا اتباع کرتے ہیں۔ عہد الست کا پاس کرتے ہیں جو عالم ارواح میں ہر بندے نے اپنے رب کے ساتھ کیا۔ قرآن میں آتا ہے کہ مسجد حرام کی بنیاد تقویٰ پر ہے اور اس میں طاہر لوگوں کا ورود ہوتا ہے لہٰذا طہارت بھی شعارِ تقویٰ ہے النحل:۲، الحج: ۳۲، آل عمران:۵۰، الزمر:۱۶ ، التوبہ:۱۰۹، المائدہ:۱۱۰
 شمع توحید کے یہ پروانے اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں، رب کی مغفرت کی طرف سرعت سے دوڑتے ہیں، گزشتہ قوموں کے انجام سے عبرت پکڑتے ہیں اور اللہ اور رسولؐ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اپنی اصلاح کر لیتے ہیں۔ حلال و مرغوب چیزوں سے استفادہ کرتے ہیں مگر دنیا کی زینت پر آخرت کے اعلیٰ مقام کو ترجیح دیتے ہیں۔ تزکیۂ نفس کا اہتمام کرنے والے اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ روز آخر کے لئے اعمال کا کیا ذخیرہ ہے (آل عمران:۴۵، ۱۳۱، البقرہ:۲۱۲، الاعراف:۲۵، یوسف:۱۰۹، النور:۵۲، الحشر:۱۸)۔ خالصتاً اللہ کی رضا اور پاکی حاصل کرنے کے لئے اللہ کی راہ میں کھلے دل سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ محض رضائے الٰہی کے لئے ہوتا ہے ، کسی کا ان پر احسان نہیں کہ بدلہ چکایا جائے (محمد:۳۶، الیل۵،۱۷)۔ حج و عمرہ کو اللہ تعالیٰ کے لئے پورا کرنے اور حالت احرام میں خشکی کے شکار سے اجتناب کرنے والے، دوران حج جنسی میلان و اختلاط اور لڑائی جھگڑے اور نزع سے بچنے والے ہوتے ہیں۔ ایام تشریق میں منیٰ کے میدان میں اللہ کی یاد میں قیام کرنا بھی شعارِ تقویٰ ہے (البقرہ:۱۹۶؍تا۱۹۸، المائدہ:۹۶)۔ 
 ایمان و عمل ِ صالح پر کاربند ان لوگوں پر اگر عرصۂ حیات تنگ کردیا جائے تو یہ نیکی و صبر سے بڑھ کر اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جان و مال کی آزمائش اور خلق کی طرف سے دُکھ دینے والی باتوں پر صبر کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بردباری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنے اخلاقی معیار کو قائم رکھتے ہوئے احسن طریقے پر استدلال کے ساتھ اس پروپیگنڈے کی نفی کرتے ہیں اور تقویٰ کی روش اختیار کتے ہیں (صٓ: ۲۸، آل عمران: ۱۸۶)۔ یہ ایک غیرمعمولی نکتہ ہے جس کا ہم صحیح معنوں میں ادراک نہیں کرتے حالانکہ یہ اللہ کا خصوصی فضل ہے کہ مسلمان دشمن کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رہیں۔ ایسی حکمت عملی اختیار کرنا جس سے جنگ کو روکا جا سکے اور دشمن کے وار سے بچا جاسکے، انتہائی مستحسن ہے۔ اگر امان میسر آ جائے تو قرآن ایسی صورت میں ہمیں پرہیزگاری اختیار کرنے کا درس دیتا ہے۔ اس فرصت کو لہو و لعب میں ضائع کرنے کے بجائے اسے غنیمت جان کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے اندر مزید قوت اور مضبوطی پیدا کرنی چاہئے۔ متقین کی ایک اور اہم خوبی یہ ہے کہ وہ مرتے دم تک ایمان پر قائم رہتے ہیں (آل عمران:۱۰۲)۔
 ذاتی و اخلاقی اوصاف
 انسان کا اخلاق، اس کے باطن کا مظہر اور اس کے روحانی اقدار کا پرتو ہوتا ہے۔ معاشرے میں انسان کی وقعت اور مقام و مرتبے کا اس کے اخلاق سے گہرا تعلق ہے۔ حضورؐ کے بارے میں قرآن مجید میں ہے کہ آپؐ مکارم اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں۔ نبوت سے پہلے ہی آپؐ صادق و امین کے لقب سے مشہور تھے۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ اگر آپ تند خو اور درشت رو ہوتے تو یہ لوگ آپؐ کے گردوپیش سے چھٹ جاتے اور آپؐ آفاق و انفس کی ساری دولت خرچ کرکے بھی انہیں اکٹھا نہ رکھ سکتے۔ یہ آپؐ کے اخلاق حمیدہ ہی کا کرشمہ ہے کہ ایک جھگڑالو قوم کو آپؐ نے باہم شیر و شکر کردیا۔ بنی اسرائیل کو تقویٰ کی ترغیب اور احکامِ خداوندی کا ذکر ان الفاظ میں ہوتا ہے: باطل کا رنگ چڑھا کرحق کو مشتبہ نہ بناؤ، دنیوی فائدہ حاصل کرنے کے لئے ایمان تک کا سودا نہ کرڈالو، کتمان حق سے بچو اور ایسا نہ ہو کہ دوسروں کو نیکی کا حکم دو اور خود اس سے اعراض برتو اور اس طرح دوسروں کو نصیحت اور خود کو فضیحت بننے کی عملی تصویر بن جاؤ۔ عہد و پیمان کا پاس کرو اور کلامِ الٰہی کو مضبوطی سے تھامو، مکافاتِ عمل سے ڈرو، جادو ٹونے سے اجتناب کرو (البقرہ: ۴۱۔۴۵، ۶۳، ۶۶)۔ تقویٰ کا تقاضا ہے کہ انسان تنگ دستی اور دکھ درد میں صبر کرے، راہ راست پر رہتے ہوئے قول و قرار کو پورا کرے، تکبر و تعصب سے اجتناب کرے، بدلے میں زیادتی نہ کرے، حد سے تجاوز نہ کرے اور ظلم و زیادتی کرنے کے لئے اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بنائے (البقرہ:۱۰۲، ۱۹۴، ۲۰۷، ۲۳۱)۔ قرآن میں ایک اور جگہ آتا ہے کہ اغیار کی دشمنی میں اللہ کا خوف رہے اور کسی قوم کی عداوت میں بھی عدل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ کلام پاک کی یہ آیت بڑے سے بڑے ظالم کے لئے اپنے اندر ہدایت کا سامان رکھتی ہے۔ آل عمران: ۷۶، ۱۱۵، المائدہ: ۸۰
اہل تقویٰ بدگمانی نہ کرنے والے، بھید نہ ٹٹولنے والے، غیبت سے احتراز کرنے والے، لہوولعب سے کنارہ کشی کرنے والے اور اگر لغو چیز پر سے گزر ہوجائے تو شریف آدمی کی طرح دامن الجھائے بغیر گزر جانے والے ہیں۔ وہ گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے بچنے والے ہوتے ہیں۔ اہل تقویٰ قوت ِ فیصلہ اور اصابت رائے رکھنے والے نرم دل اور والدین کے حق شناس ہوتے ہیں (الحجرات: ۱۲، النجم: ۳۲، الحدید: ۲۸، الانعام۳۲، الفرقان: ۲۴، الحجر: ۶۹، مریم: ۱۳۶)۔ قول سدید یعنی سیدھی سچی بات کرنا، نیک بات کی تصدیق کرنا اور سچے لوگوں کا ساتھ دینا ان کا شعار ہوتا ہے۔ مومنوں کی بھلائی سے خوش اور برائی سے ناخوش، خیراندیش نہ کہ بدخواہ، دو بھائیوں میں صلح کرانے والے، دگرگوں حالت میں اللہ کی مدد حاصل کرنے کے بعد اس کا شکر ادا کرنے والے، آسانی و سختی میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے، غصہ پی جانے والے اور عفو و درگزر کے ساتھ احسان کی روش اختیار کرنے والے ہوتے ہیں۔
 وہ، فحش کلام اور جانوں پرظلم کرنے کے بعد اللہ سے رجوع اور استغفار کرتے ہیں اور برے کام پر اڑ نہیں جاتے (التوبہ:۱۱۹، الاحزاب:۱۰، الیل:۵، التوبہ:۴، آل عمران: ۱۲۰، ۱۲۳، ۱۳۱، ۱۳۵، الحجرات:۱۰)۔ اہل تقویٰ کے اخلاق عالیہ کا اندازہ اس آیت سے لگائیے جس میں فرمایا گیا ہے: ’’یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لانے کے بعد اللہ کے راستے میں زخم کھانے کے باوجود احسان کی روش اختیار کرتے ہیں۔ ‘‘ آل عمران:۱۷۳

جاری

islam Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK