دنیاوی زندگی میں انسان کا کرداراور انسان کی آخری اور اخروی منزلِ مقصود

Updated: March 13, 2020, 10:57 AM IST | Dr. Mahmood Ahmed Ghazi

یہ نکتہ قرآن پاک کا بنیادی مضمون ہے، یعنی اس بات کی وضاحت و تشریح ہے کہ اس زندگی میں انسان کی ذمہ داری اور بالآخر اس کی وہ منزل ِ مقصود جہاں اس کو جانا ہے وہ کیا ہے؟ اور وہاں کیسے پہنچا جائے؟ قرآن پاک شروع سے لے کر آخر تک بالواسطہ یا بلاواسطہ اسی ایک موضوع سے بحث کرتا ہے کہ انسان کیا ہے؟ کہاں سے، کیوں اور کیسے آیا ہے اور بالآخر اسے کہاں جانا ہے؟ اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور اسے کیا کرنا چاہئے؟

Muslim Girl Praying : Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر : آئی این این

دنیا کی ہر کتاب کا کوئی نہ کوئی موضوع ضرور ہوتا ہے۔ کوئی کتاب معاشیات کی کتاب کہلاتی ہے، کوئی سائنس کی، کوئی تاریخ یا جغرافیہ کی۔ اس عام بات سے قرآن مجید جیسی اہم ترین کتاب کیوںکر مستثنیٰ ہوسکتی ہے۔ لہٰذا بجاطور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پاک کا موضوع کیا ہے؟ کیا یہ فلسفے کی کتاب ہے؟ کیا آپ قرآن کو فلسفے کی کتاب قرار دیتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ اگرچہ اس کتاب میں فلسفے کے بہت سے مسائل زیر بحث آئے ہیں، اس کے باوجود یہ فلسفے کی کتاب نہیں ہے۔ کیا پھر قرآن پاک معاشیات کی کتاب ہے؟ اس میں بہت سے بنیادی معاشی مسائل کا حل بتایا گیا ہے۔ دولت کی تقسیم کیونکرہو، دولت کیسے کمائی جائے؟ تقسیم دولت کے بارے میں ریاست کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ ان مباحث کے باوجود ماہرین معاشیات کی نظر میں قرآن پاک بہرحال معاشیات کی کتاب نہیں ہے۔ کم از کم اس انداز کی نہیں ہے جس انداز کی معاشیات کی کتابیں عام طور پر ہوتی ہیں۔ اسی طرح یہ قانون کی کتاب بھی نہیں ہے، نہ قانون کا کوئی طالب علم فنی مفہوم میں اس کو قانون کی کتاب قرار دیتا ہے۔ اس لئے کہ اس میں نہ قانونی اصطلاحات ہیں اور نہ قانون و فقہ کی فنی زبان اس میں استعمال کی گئی ہے، اگرچہ اس میں قانون کے بہت سے پیچیدہ مسائل حل کئے گئے ہیں۔ غور کیا جائے تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ قرآن پاک ان علوم و فنون میں سے فنی طور پر کسی علم کی کتاب نہیں ہے۔ اس کو نہ ہم قانون کی کتاب کہہ سکتے ہیں نہ معاشیات کی، نہ فلسفے کی اور نہ تاریخ یا نفسیات کی۔ اگرچہ ان تمام علوم کے بنیادی مسائل کا جواب اس کتاب میں موجود ہے۔ ہاں، اس کو ہم کتاب ِ ہدایت کہہ سکتے ہیں جو ان موضو عات پر پائی جانے والی ساری کتابوں کے لئے رہنما اور کسوٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔ مندرجہ بالا اور دیگر بہت سے موضوعات پر لکھی جانے والی ہر وہ کتاب جو اس کتاب ِ ہدایت کے مطابق ہے، وہ سچی کتاب ہے، اور ہر وہ کتاب جو قرآن پاک سے متعارض ہے، وہ جھوٹی ہے۔ لیکن یہ سوال پھر بھی برقرار رہتا ہے کہ اس کتاب ِ ہدایت کا اپنا موضوع کیا ہے؟
قرآن کا مخاطب :انسان
  اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لئے جب ہم قرآن مجید  کا مطالعہ کرتے ہیں  و معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پاک کا اپنا موضوع ہے: اس دنیاوی زندگی میں انسان کا کردار اور انسان کی آخری اور اخروی منزل ِ مقصود۔ یہ چیز قرآن پاک کا بنیادی مضمون ہے، یعنی جہاں اس بات کی وضاحت و تشریح  ہےکہ اس زندگی میں انسان کی ذمہ داری اور بالآخر اس کی وہ منزل ِ مقصود جہاں اس کو جانا ہے وہ کیا ہے؟ اور  وہاں کیسے پہنچا جائے؟ قرآن پاک شروع سے لے کر آخر تک بالواسطہ یا بلاواسطہ اسی ایک موضوع سے بحث کرتا ہے کہ انسان کیا ہے؟ کہاں سے، کیوں اور کیسے آیا  اور بالآخر اسے کہاں جانا ہے؟ اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور اسے کیا کرنا چاہئے؟
 اس ایک سوال کا جو بہت سے سوالوں کا مجموعہ ہے، جواب دینے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کی عائلی، خاندانی ، معاشرتی اور معاشی زندگی ، اس کے معاملات ، اس کا کاروبار  اور اس کی سیاسی زندگی…غرض اس کی زندگی کے ہر پہلو سے بحث کی جائے، اور یہ بتایا جائے کہ انسان  خاندان، معیشت، معاشرہ اور حکومت کا کاروبار کس طرح چلائے؟ ان پہلوؤں میں پیش آنے والے تمام سوالات سے بحث کی جائے۔ جنگ کے حالات ہوں تو اس کا رویہ کیسا ہو، امن کے دوران کیا ہو، غرض انسانی زندگی کے ہر پہلو پر غور کرنے اور اس پر گفتگو کرنے کی ضرورت اس میں پیش آئے گی۔ اس لئے یہ سارے مسائل جن کی ضرورت اس بنیادی سوال کا جواب دینے کے لئے پڑتی ہے ، ان سب سے قرآن پاک میں بحث کی گئی ہے۔ 
 لہٰذا قرآن مجید میں انسانی زندگی سے بحث کرنے والے تمام علوم و فنون کی بنیادیں موجود ہیں۔ اس کتاب کا اصل ہدف یہ ہے کہ انسان کسی طرح کامیاب طریقے سے منزلِ مقصود پر پہنچ جائے۔ اس لئے اس اصل ہدف کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق اس کتاب میں سائنس کی معلومات بھی ملتی ہے، معاشیات اور دوسرے بہت سے علوم کی تعلیم سے متعلق سوالات جن کی راہ میں ضرورت پیش آئے گی ان سب کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ لیکن اس کتاب کے اسلوب اور دوسرے تمام علوم و فنون کے انداز میں ایک نمایاں فرق ہے ۔ وہ یہ کہ دوسرے نظاموں اور فلسفوں میں توجہ کا مرکز انسان کا ماضی، یعنی اس کا آغاز ہے۔ وہاں بیشتر بحث اس بات پر ہوتی ہے کہ انسان کہاں سے آیا اور کیسے آیا؟ زیادہ سے زیادہ یہ بحث ملتی ہے کہ اب یہاں اس کو کیا کرنا  ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ انسان کے بارے میں سائنس کی ۹۰؍فیصد  بحثیں یہی ہیں ۔ کوئی بندر پر تحقیق کررہا ہے تو کوئی بن مانس پر ۔ سائنس اس سوال سے بہت کم بحث کرتا ہے کہ یہاں انسان کو کیا کرنا چاہئے؟ اور اس سے تو شاذ و نادر ہی کسی کو بحث ہوتی ہے کہ انسان کو بالآخر کہاں جانا ہے؟ اور جہاں جانا ہے وہاں کامیابی کیسے حاصل کی جائے؟ اس اصل سوال سے کسی کو بھی دلچسپی اور بحث نہیں  ہوتی۔ نہ سائنس کو، نہ سماجیات کو اور نہ بشریات کو۔آپ غور کریں کہ آخر یہ چیز ہمارے لئے کیا عملی افادیت رکھتی ہے کہ انسان کہاں سے اور کیسے آیا؟ قرآن پاک نے بھی اس سوال کا جواب دیا ہے لیکن اس کو بنیادی مسئلہ نہیں بنایا۔ ایک  واضح اور سادہ جواب دینے پر اکتفا کیا ہے اور تفصیلات کو غیرضروری قرار دے کر چھوڑ دیا ہے لیکن زیادہ توجہ اس پر دی ہے کہ اب انسان کو یہاں کیا کرنا چاہئے؟ اسے اب آگے کہاں جانا ہے اور سفر کو کیسے مکمل کرنا ہے؟
 یہ ایک واضح بات ہے کہ ہم سے کسی کا آغاز بھی ہمارے اپنے قبضے میں نہیں ہے۔ جب ہم اس دنیا میں آتے ہیں تو اپنی مرضی سے نہیں آتے۔ اگر کوئی انسان چاہے کہ وہ اس دنیا میں آنے یا نہ آنے کا خود فیصلہ کرلے تو یہ بھی اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ لہٰذا جو چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہے ہم اس کے آغاز کے متعلق بہت سی تفصیلات جان کر بھی کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے اس لئے آئندہ بھی لوگ اس دنیا میں آتے رہیں گے اور وہ بھی اسی بے اختیاری سے ہی آئیں گے۔ اس لئے انسان کے آغاز پر بہت زیادہ غور و فکر کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔ توجہ وہاں دینی چاہئے جو ہمارے اختیار میں ہو۔ آئندہ کامیابی کی منزل کا حصول میرے اختیارمیں بھی ہے اور آپ کے اختیار میں بھی۔ اگر میں کامیابی سے اپنی منزل پر پہنچنا چاہوں تو اللہ نے مجھے اس کے لئے وسائل دیئے ہیں اور میں ایسا کرسکتا ہوں۔ مجھے اختیار بھی دیا ہے ، اسباب بھی پیدا کئے ہیں اور حالات بھی فراہم کئے ہیں۔
 یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک نے اس چیز پر زور دیا جو ہمارے اختیار میں ہے، ہم اس کو بنا بھی سکتے ہیں اور برباد بھی کرسکتے ہیں۔ سنوار بھی سکتے ہیں اور بگاڑ بھی سکتے ہیں۔ یہ ہے فرق قرآن پاک اور باقی کتابوںکا۔ قرآن پاک بات کرتا ہے مستقبل کی ، جسے انگریزی میں کہتے ہیں کہ قرآن پاک کا اسلوب Future Oriented  ہے یعنی نظر بہ مستقبل ۔ باقی علوم و فنون کا اسلوب Past Oriented  ہے یعنی نظر بہ ماضی۔ صرف ماضی میں جھانکتے رہنے سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ اگر مستقبل سے نظر ہٹ جائے تو زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس مضمون کو اقبالؔ نے بہت عمدہ اسلوب اور بلیغ الفاظ میں بیان کیا ہے؎
خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتداء کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے
 گویا ابتداء کی ایک حد سے زیادہ فکر کرناغیرضروری ہے ، فکر انجام کی کرنی چاہئے۔ قرآن پاک میں آپ کو جا بجا ملے گا : ’’اور آخری کامیابی انہی کے لئے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں۔‘‘جس  کا ہدف یہی سبق دینا ہے کہ اصل مقصو د مسلمان کی آخرت کی زندگی ہے، اسی کو منزل مقصود سمجھنا چاہئے۔ 
پانچ بنیادی موضوعات
 چنانچہ قرآن مجید نے اس حقیقت کو ذہن نشین کرانے کے لئے جو مباحث اختیار کئے ہیں ان کو ہم پانچ بنیادی موضوعات یا عنوانات میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ یہ عنوانات قرآن پاک میں ہر جگہ نظر آتے ہیں اور حسب  ضرورت و مواقع اجمال اور تفصیل دونوں کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ قرآن پاک کی ہر منزل میں ، ہر سورہ میں حتیٰ کہ بیشتر آیات میں یہ پانچ موضوعات براہِ راست یا بالواسطہ نظر آئیں گے۔ یہ موضوعات اس ایک سوال کے پانچ مختلف پہلوؤں سے بحث کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ چھوٹے چھوٹے مباحث بھی ہیں جو ان ہی پانچ مباحث کے نتیجے کے طور پر قرآن  میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ پانچ بنیادی مباحث یہ ہیں:
(۱)عقائد: سب سے پہلا بنیادی مبحث جو قرآن پاک میں سورہ فاتحہ سے لے کر والناس تک ملتا ہے، وہ عقائد کا مضمون ہے۔ یہ مضمون قرآن پاک میں ہر جگہ موجود ہے، کہیں کھلا ہوا بیان ہوا ہے اور کہیں چھپا ہوا دوسرے مضامین کے سیاق میں ملتا  ہے۔ اس دنیا میں انسان کی حیثیت کیا ہے؟ اس کائنات کو کس نے بنایا ہے؟ یہاں انسان کو کیا کرنا ہے، کیوں کرنا ہے؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کا جواب زندگی کے کسی بھی نظام کی تشکیل کے لئے ضروری ہے۔ ان ہی سوالات کے جواب سے اسلام کے تصور کائنات کی بنیادیں سامنے  آتی ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جسے عقائد کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔قرآن پاک نے عقائد کے ضمن میں ان تمام بنیادی سوالات کا جواب دے دیا ہے جن کی ضرورت روزمرہ زندگی کے مسائل کے حل میں پڑتی ہے۔ عقیدے  سے متعلق جو غلط فہمیاں انسان کے دماغ میں آسکتی ہیں ان کا جواب بھی دیا ہے ۔ اسلام دشمن عناصر کے اعتراضات کا جواب بھی اس میں موجود ہے جو وہ کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں ۔ (جاری) 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK