• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

غزہ میں ہردن سچ کا قتل ہورہا ہے

Updated: October 25, 2023, 1:04 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

گزشتہ پندرہ دنوں میں صہیونی حکومت، اسرائیل ڈیفنس فورسیز اوراسرائیل نواز بین الاقوامی میڈیا نے سچ کا بار بار قتل کیا اور جھوٹ کو تواتر سے پھیلایاہے۔ ایکس(ٹوئٹر) اور وہاٹس ایپ پر بھی اسرائیل کی حمایت اور فلسطینیوں کی مخالفت میں جھوٹے پروپیگنڈہ کا بازار گرم کیاگیا۔

500 Palestinian citizens, including women and children, were killed as a result of the aerial bombardment on October 17.Photo:INN
۱۷؍اکتوبر کو الاہلی ہسپتال پر ہوئی فضائی بمباری کے نتیجے میں ۵۰۰؍ فلسطینی شہری جن میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد تھی ہلاک ہوگئے ۔تصویر:آئی این این

 جنگ میں  پہلا قتل سچ کا ہوتا ہے۔کسی مرد دانا کے اس قول کی مشرق وسطیٰ میں  پندرہ دنوں  سے جاری جنگ میں  ایک بار پھرتصدیق ہوگئی۔ پچھلے پندرہ دنوں  میں  صہیونی حکومت، اسرائیل ڈیفنس فورسیز اوراسرائیل نواز بین الاقوامی میڈیا نے سچ کا بار بار قتل کیا اور جھوٹ کو تواتر سے پھیلایاہے۔ ایکس(ٹوئٹر) اور وہاٹس ایپ پر بھی اسرائیل کی حمایت اور فلسطینیوں  کی مخالفت میں  جھوٹے پروپیگنڈہ کا بازار گرم کیاگیا۔ ویسے سپر پاور امریکہ کوجنگوں  سے قبل اور دوران اپنے حریفوں  کے متعلق جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے کی مہارت حاصل ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے افغانستان کی جنگ تک امریکی صدور نے جھوٹ پر جھوٹ بولے۔ ۲۰۰۳ء میں  عراق جنگ کی بنیاد ہی جارج ڈبلیو بش نے اس جھوٹ پر رکھی تھی کہ صدام حسین نے اجتماعی تباہی والے ہتھیار جمع کررکھے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا صہیونی حکمرانوں  نے جنگوں  میں  جھوٹ بولنے کا ہنر اپنے سر پرست امریکہ سے سیکھا ہے؟
اسرائیل فلسطینیو ں  پر انسانیت سوز ظلم بھی ڈھاتا ہے اور ساتھ ہی وہ خود کو دنیا کے سامنے مظلوم دکھانے کیلئے مختلف ہتھکنڈے بھی استعمال کرتا ہے۔ان میں  سے ایک اہم ہتھکنڈہ ہے حماس کے بہانے غزہ کے تمام فلسطینیوں  پر دہشت گرد ہونے کا لیبل چسپاں  کردینا تاکہ فلسطینیوں  کی جائز مزاحمت کو کچلنے کیلئے اسے جواز مل جائے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے ۹؍ اکتوبر کو جب غزہ کی مکمل ناکہ بندی کا حکم دیا تب ۲۳؍ لاکھ فلسطینیوں  پر غذا، پانی، بجلی اور ایندھن کی سپلائی پوری طرح بند کردینے کے اپنے فیصلے کوجائز ٹھہراتے ہوئے انہوں  نے کہا کہ ہم لوگ’’ انسان نما جانوروں ‘‘ سے لڑرہے ہیں  اور ان سے نمٹنے کا یہی طریقہ ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں  کو اسی طرح dehumanise کرکے اپنے ناجائز تسلط اور ظلم کا جواز حاصل کرتا ہے۔اسرائیل میں  حماس کے گوریلا آپریشن کے فوراً بعد فلسطینیوں  کی مزاحمتی تنظیم کو بدنام کرنے کی خاطر ان کی مبینہ سفاکی کی ’’کہانیاں ‘‘ گڑھی جانے لگیں ۔ فرضی خبروں  اور جعلی ویڈیو کے ذریعہ حماس جنگجو ؤں  کودرندہ صفت اور جنس زدہ ثابت کرنے کی کوششیں  کی گئیں ۔ان پر اسرائیلی بچوں  کی گردنیں  اتار نے اور یرغمالی یہودی لڑکیوں  کا گینگ ریپ جیسے سنگین جرائم کے ارتکاب کے الزامات لگائے گئے۔یہ گمراہ کن خبریں  چشم زدن میں  پوری دنیا میں  گشت کرنے لگیں  حتیٰ کہ امریکی صدر جو بائیڈن بھی ان کا ذکر کرنا نہ بھولے۔ فیکٹ چیکرزنے جعلی خبروں  کا تجزیہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ حماس نے کسی اسرائیلی بچے کا گلا نہیں  کاٹا اور نہ ہی کسی دوشیزہ کی عصمت لوٹی۔ جب غیر مصدقہ افواہ پھیلانے کی وجہ سے دنیا بھر میں  امریکی صدر کی سبکی ہونے لگی تو وہائٹ ہاؤس کے ترجمان کو یہ صفائی دینا پڑی کہ بائیڈن نے خود ایسی کوئی تصویر نہیں  دیکھی تھی بلکہ انہوں  نے محض سنی سنائی خبر دہرادی تھی۔
 ۱۷؍اکتوبر کو الاہلی ہسپتال پر ہوئی فضائی بمباری کے نتیجے میں  ۵۰۰؍ فلسطینی شہری جن میں  عورتوں  اور بچوں  کی بڑی تعداد تھی ہلاک ہوگئے اور جب ساری دنیا میں  اسرائیلی بربریت کے خلاف جذبات بھڑک اٹھے تو اسرائیل نے آزمودہ نسخہ استعمال کرتے ہوئے اس کا الزام فلسطینی عسکریت پسندوں  پر ڈال دیا۔ بائیڈن نے بھی یہ بیان دے دیا کہ ہسپتال پر حملہ ’’دوسری ٹیم‘‘نے کیا ہے۔کیا امریکی صدر کو یہ لگا کہ غزہ میں  جنگ نہیں  بلکہ دو ٹیموں  کے درمیان باسکٹ بال کا میچ ہورہا ہے؟ پرانے ویڈیو اور آڈیو کی مدد سے تیار کردہ ہسپتال کی بمباری کے متعلق اسرائیلی بیانیہ کوفروغ دینے میں  بھارت کے اسرائیل نواز خیمے نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
 ۲۰۲۲ء میں  الجزیرہ کی نامہ نگار شیریں  ابو عاقلہ کے جنین میں  قتل کے بعد وزیر اعظم سمیت پوری اسرائیلی حکومت نے اس کا الزام ’’فلسطینی دہشت گردوں ‘‘پر ڈال دیا تھا۔ اس بیانیہ کیلئے بھی جعلی ویڈیو کا سہارا لیا گیا تھا۔ کئی ماہ بعد جب اسرائیل کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوا تو تل ابیب نے یہ اعتراف کیا کہ اس بات کا کافی امکان ہے کہ خاتون صحافی کسی اسرائیلی فوجی کی فائرنگ سے ہلاک ہوئی ہوں ۔
 الجزیرہ نے مارک جونز کی ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ہے ’’ اتنی زیادہ فلسطینی مخالف گمراہ کن اور جھوٹی اطلاعات ہندوستان سے کیوں  آرہی ہیں ؟‘‘ اس تجزیاتی رپورٹ میں  اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ حماس کے حملوں  کے بعد سوشل میڈیا پر جھوٹی اطلاعات کا جو سیلاب آگیا ہے اس میں  ہندوستان کے اسلام دشمن رائٹ ونگ اکاؤنٹس نے نمایاں  کردار ادا کیا ہے۔ نفرت اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایک ہندوستانی شہری نے سوشل میڈیا پر اسرائیل کو یہ مشورہ دے ڈالا کہ وہ فلسطین کا نام و نشان مٹا دے۔
صہیونی حکومت پچھلے ۱۷؍دنوں  سے بلا روک ٹھوک فلسطینی باشندوں  کی نسل کشی کررہی ہے۔دنیا نہ صرف خاموش تماشائی بنی یہ قتل عام دیکھ رہی ہے بلکہ انسانی حقوق کے خود ساختہ علمبردار امریکہ اور برطانیہ ’’ اسرائیل کو اپنی دفاع کا پور ا حق ہے‘‘ کا راگ الاپ کر بنیامن نیتن یاہو کو مزید جنگی جرائم کے لئے اکسا رہے ہیں ۔ سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود براک کے مشیرڈینئل لیوی نے بی بی سی سے انٹرویو میں  یہ دعویٰ کیا کہ اسرائیل غزہ میں  اپنے انسانیت سوز مظالم پر پردہ ڈالنے اور انہیں  جائز ٹھہرانے کے لئے منظم طریقے سے جھوٹ اور فریب پر مبنی ایک پروپیگنڈہ مہم چلارہا ہے۔ جب بی بی سی اینکر نے انہیں  ٹوکتے ہوئے کہاکہ اسرائیلی فضائی حملے حماس کو ٹارگیٹ کررہے ہیں  تاکہ غزہ کو دہشت گردوں  سے پاک کرسکیں  تو لیوی کا جواب تھا کہ فلسطینی شہریوں  کی پوری آبادی کا کھانا، پانی، بجلی اور تمام ضروریات زندگی کی سپلائی لائن کاٹ کر اگر اسرائیلی حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا اصلی نشانہ دہشت گرد ہیں  تودنیا اس بات پربھلا کیسے یقین کرسکتی ہے۔
پس نوشت:اسرائیل کا قیام ہی مکر وفریب کی بنیاد پر ہوا تھا۔جس سر زمین پر فلسطینی عرب باشندے نسل در نسل رہتے چلے آئے تھے وہاں  جب یہودیوں  کو بسانے کی سازش کی گئی تو یہ توجیہ پیش کی گئی کہ ایک قوم کو جس کے پاس اپنی زمین نہیں  ہے ایسی زمین پر آباد کیا جائے گا جہاں  کوئی قوم پہلے سے آباد نہیں  ہے۔ صہیونیوں  نے اپنے مقصد کے حصول کے لئے “A land without a people for a people without a land” کاپُرفریب بیانیہ وضع کیاتھا۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ ۱۹۴۸ء میں  اسرائیل کے قیام کے قبل فلسطین میں  پندرہ لاکھ فلسطینی عرب آباد تھے۔صہیونی انتہا پسندوں  نے ان میں  سے نصف آبادی کو جبراً گھروں  سے نکال کر ان کی زمین ہتھیالی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK