مہاراشٹر کی انفرادیت

Updated: May 01, 2021, 1:12 PM IST

ریاست مہاراشٹر کو ملک کی دیگر ریاستوں پر کئی معاملات میں فوقیت حاصل ہے۔ اس ریاست کی معیشت ملک کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ اس کا جی ڈی پی ملک کے مجموعی جی ڈی پی کا ۱۵؍ فیصد ہے۔ اس ریاست کو سب سے زیادہ صنعتی ہونے کا شرف حاصل ہے۔

Uddhav Thackeray.Picture:INN
وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے۔تصویر :آئی این این

 ریاست مہاراشٹر کو ملک کی دیگر ریاستوں پر کئی معاملات میں فوقیت حاصل ہے۔ اس ریاست کی معیشت ملک کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ اس کا جی ڈی پی ملک کے مجموعی جی ڈی پی کا ۱۵؍ فیصد ہے۔ اس ریاست کو سب سے زیادہ صنعتی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس کی صنعتی پیداوار ملک کی مجموعی صنعتی پیداوار میں ۲۰؍ فیصد کی شراکت دار ہے۔ ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس میں اس کا ۱۵؍ واں مقام بھی اس قابل ہے کہ اس پر فخر کیا جائے۔ اس ریاست کے کئی شہروں میں پائے جانے والے سافٹ ویئر پارک بھی اسے امتیازی حیثیت عطا کرتے ہیں اور عصری تقاضوں کو پورا کرنے کی اس کی صلاحیت کے عکاس ہیں۔ اگر یہ کچھ کم قابل ذکر ہے تو اس کی بھرپائی اس حقیقت سے ہوجاتی ہے کہ یہ ریاست ملک کی دوسری سب سے بڑی سافٹ ویئر ایکسپورٹر ہے۔ اس کی راجدھانی کو عروس البلاد ہونے کا شرف اور خوابوں کا شہر ہونے کا امتیاز حاصل ہے۔ 
 ممبئی بڑا معاشی مرکز ہے جسے ملک کی معاشی راجدھانی قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں واقع بامبے اسٹاک ایکس چینج ایشیاء کا سب سے قدیم شیئر بازار ہے۔ یہاں کی فلم نگری کا ہالی ووڈ سے موازنہ کیا جانا چند ٹھوس حقائق کی بنیاد پر ہے۔ اس نے اپنی فلموں کے ذریعہ پوری دُنیا میں وطن عزیز کو افتخار بخشا ہے۔ یہ شہر ،جو فن تعمیر کیلئے بھی یکتا ہے، دیگر ریاستوں سے آئے ہوئے لوگوں کی پناہ گاہ بھی ہے۔ عالمی اہمیت کا حامل ہونے کی وجہ سے یہ شہر، بلکہ اب ریاست کے کئی دیگر شہر بھی،  غیر ملکی سیاحوں، تاجروں،صنعتکاروں اور کاروباریوں کی آماجگاہ ہیں۔ قلت ِ اراضی کے باوجود ممبئی اپنے دامن میں بڑی وسعت رکھتا ہے اسی لئے ہر خاص و عام کو بودوباش کا موقع عنایت کرتا ہے، پھر ان کی محنت سے خود بھی نمو پاتا ہے اور اُنہیں بھی ثروت مند بناتا ہے۔ کئی ریاستیں اپنے اُن لوگوں سے فیضیاب ہوتی رہی ہیں اور آج بھی ہوتی ہیں جنہوں نے سرزمین مہاراشٹرپر کسب معاش کیا اور اپنی آبائی ریاستوں میں بسے اپنے خاندانوں کو معاشی طور پر مستحکم کیا۔ ہرچند کہ اس فہرست میں اب مہاراشٹر کے علاوہ بھی چند ریاستیں شامل ہیں مگر ان میں مہاراشٹرکے سینئر ہونے کی حیثیت کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ 
 اس پورے تناظر میں نہ صرف شہر ِممبئی بلکہ پوری ریاست، ملک کی دیگر ریاستوں سے نہ صرف معاشی اعتبار سے جڑی ہوئی ہے بلکہ اقتصادی اور جذباتی سطح پر بھی۔ اس بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ یکم مئی کو منایا جانے والا یوم ِمہاراشٹر صرف اس ریاست کیلئے اہم دن نہیں بلکہ پورے ملک کیلئے اہم ہے۔ممبئی اور مہاراشٹر اگر دیگر ریاستوں کے لوگوں کو فیضیاب کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اُن کی وجہ سے خود بھی فیضیاب ہوئے ہیں۔ یہاں کی ترقی میں دیگر ریاستوں کے لوگوں کی شبانہ روز محنت شامل نہ ہوتی توممکن تھا کہ اسے وہ حیثیت حاصل نہ ہوتی جو اس کیلئے سرمایہ ٔ افتخار بنی۔ وقتاً فوقتاًسیاسی بیان بازی بیرونی شہروں کے لوگوں کیلئے تکلیف کا باعث ضرور بنتی ہے مگر اس سے صرف اُن کے جذبات مجروح ہوتے ہوں ایسا نہیں ہے، اس ریاست کی مقامی آبادی بھی اس کا بُرا مانتی ہے۔ 
 وطن عزیز کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی ملک ہے اور اپنی ان خصوصیات پر فخر کرتا ہے۔ یہی خوبی آپ کو مہاراشٹر اور ممبئی میں بھی ملتی ہے اس لئے انہیں منی انڈیا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اسی لئے، یوم ِ مہاراشٹر کو ملک بھر میں ایک ایسے دن کے طور پر دیکھا جانا چاہئے جو تمام ہندوستانی شہریوں کی مشترکہ میراث ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK