کانگریس کی طلبہ تنظیم نے اسے آئین پر براہ راست حملہ قرار دیا، کہا: حکومت نے انوج چودھری کو بچانے کیلئے یہ کیا
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 8:16 AM IST | Lucknow
کانگریس کی طلبہ تنظیم نے اسے آئین پر براہ راست حملہ قرار دیا، کہا: حکومت نے انوج چودھری کو بچانے کیلئے یہ کیا
نگریس کی طلبہ ونگ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی )نے سنبھل سی جے آئی کے تبادلہ اور حکومت کے ذریعہ انوج چودھری کے بچائو کی کوشش کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین آئین ہند کے نسخہ پر زنجیر کے ذریعہ تالاباندھ کر اس معاملے کو آئین ہند پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ انہوں نے الزم عائد کیا کہ سی جےایم وبھانشو سدھیر کا تبادلہ حکومت کے دبائو میں کیا گیا ہے جو کہ نہایت شرمناک ہے ۔ اس دوران بڑی تعدداد میں موجود پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور مظاہرین و پولیس میں نوک جھونک و دھکا مکی بھی ہوئی۔ پولیس سبھی کو بزور طاقت حراست میں لے کر ایکو گارڈن بھیج دیا۔
این ایس یو آئی کے ریاستی صدر احمد رضا نے الزام عائد کیاکہ سی جے ایم سنبھل کا تبادلہ کہیں سے معمول کے مطابق نہیں ہے ، بلکہ منصوبہ بند طریقہ سے کیاگیا ہے ۔ حکومت سنبھل تشدد کے ملزم کو بچانا چاہتی ہے ۔ حکومت کا پیغام واضح ہے کہ اگر عدلیہ نے حکومت کے خلاف فیصلہ کیا تو ججوں کا اسی طرح سے ٹرانسفر کردیا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ ایسا پہلی مرتبہ دیکھا جارہاہے کہ سی جے ایم کے ایف آئی آر درج کرنے کے حکم کو ایس پی ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ حکومت جج کا تبادلہ کراکرقتل کے ملزم انوج چودھری کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کے فیصلے مستقبل میں نظیر بنیں گے ، کوئی بھی جج حکومت کے خلاف فیصلہ نہیں کرےگا، اگر کرےگا تو یہ واقعہ یاد آئےگا، انہوں نے کہاکہ سی جے ایم کا تبادلہ نہیں بلکہ ڈموشن بھی کیاگیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ این ایس یو آئی کا مطالبہ ہے کہ وبھانشو سدھیر کا ٹرانسفر فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ حکومت انوج چودھری و دیگر ملزمین کا بچائو بند کرے اور انوج چودھری سمیت دیگر پر فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے ۔
این ایس یو آئی نےمظاہرہ کی اپیل کی تھی، جس کے پیش نظرحضرت گنج چوراہے پرتین تھانوں کی پولیس فورس کے ساتھ آر آر ایف کے جوان بھی تعینات تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی ، اس دوران پولیس اور مظاہرین میں نوک جھونک بھی ہوئی ۔ پولیس نے سبھی کو گھسیٹتے ہوئے گاڑیوں میں بٹھایا، اس دوران ایک شخص کے کپڑے بھی پھٹ گئے ۔
واضح رہے۱۳؍جنوری کو سنبھل کے سی جے ایم وبھانشو سدھری نے ۲۰۲۴ءمیں سنبھل تشدد کے دوران قتل کی کوشش کے الزام میں اس وقت کے اے ایس پی انوج چودھری ، انسپکٹر انوج تومر اور دیگر پولیس اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا گیا۔ یامین نامی شخص نے عدالت میں رٹ داخل کرکے الزام عائد کیاتھا کہ جامع مسجد سروے کے دوران ہوئے تشدد میں پولیس نے جان بوجھ کر ان کے بیٹے عالم پر گولی چلائی تھی۔ اس کے بعد ۲۰؍جنوری کو ۱۴؍ جیوڈیشیل افسران کے تبادلے ہوئے جن میں وبھانشو سدھیر بھی شامل تھے ، انہیں سنبھل سے ہٹا کر سلطانپور میں سول جج سینئر ڈویژن متعین کیاگیا۔ سنبھل ایس پی کرشن کمار بشنوئی نے واضح کیا کہ پولیس فی الحال ایف آئی آر نہیں درج کرےگی، حکم کو الہ آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیاجائےگا۔