• Tue, 13 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہ لفظ جو ۲۰۲۵ء میں سب سے زیادہ استعمال ہوا؟

Updated: January 13, 2026, 9:21 AM IST | P. Chidambaram | Mumbai

انگریزی میں یہ چلن ہے کہ سال میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے لفظ کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ اعلان بالخصوص انگریزی ڈکشنری شائع کرنے والے اداروں کی جانب سے ہوتا ہے۔ اس مضمون میں بھی ایسی ہی کوشش کی گئی ہے۔

It is a tradition in English to announce the most used word of the year.
انگریزی میں یہ چلن ہے کہ سال میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے لفظ کا اعلان کرتے ہیں۔

 سال گزشتہ میں سب سے زیادہ کون سا لفظ استعمال کیا گیا؟ بات ہندوستان کی ہورہی ہے۔ نہیں یاد آیا؟ یہ شاید اس لئے ہے کہ ہم اس کیلئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہیں۔ کوئی بات نہیں۔ آپ کیلئے مَیں تصور کرتا ہوں کہ اس سوال پر کہ ’’کون سا لفظ؟‘‘ تو میرے ذہن میں کئی الفاظ اُبھرتے ہیں جو ایک دوسرے سے دوڑ میں کامیابی پانے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ پہلا لفظ ہے ’’سیندور‘‘۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے مطابق پہلگام پر ہونے والے حملے میں تین پاکستانی درانداز ملوث تھے جبکہ دو اُنہیں تعاون دینے والے ہندوستانی شہری تھے۔ اس حملے کے جواب میں ہندوستانی فضائیہ نے میزائل اور ڈرون کارروائی کے ذریعہ پاکستانی فوجی ٹھکانوں کو کافی نقصان پہنچایا۔ جواب میں ہندوستان کو بھی نقصان اُٹھانا پڑا (جو جنگ میں ناگزیر ہوتا ہے)۔ جن تین پاکستانی دراندازوں نے یہ مذموم حملہ کیا تھا، وہ انکاؤنٹر میں ہلاک ہوئے لیکن جن دو ہندوستانیوں نے اُنہیں تعاون دیا تھا اور جن کی گرفتاری عمل میں آئی تھی ہم اُن کے بارے میں نہیں جانتے ۔ یہ عدم شفافیت کا نتیجہ ہے۔ آپریشن سیندور چار دن جاری رہا جس کی وجہ سے اس کا کوئی گہرا تاثر قائم نہیں ہوسکا۔ 
 دوسری لفظ جو ذہن میں اُبھرتا ہے وہ ’’ٹیرف‘‘ ہے۔ ۲؍ اپریل ۲۵ء کے بعد سے یہ لفظ کم و بیش ہر گفتگو میں استعمال ہوا۔ اس لفظ کا کوئی حریف تھا جو سبقت لے جانا چاہتا تھا وہ ’’ٹرمپ‘‘ تھا۔ ٹرمپ اور ٹیرف اِن دو الفاظ نے کئی معیشتوں کیلئے مصیبت کھڑی کردی ہے۔ ہندوستان بھی اس سے جوجھ رہا ہے جس کی تفصیل سے قارئین واقف ہیں۔ ٹیرف کی من مانی شرح سے ہندوستان کے وہ ایکسپورٹر جو اسٹیل، المونیم، تانبہ، ٹیکسائل، ہیرے، زیورات اور کیمیکل برآمد کرتے تھے، مشکل میں آگئے ہیں۔ پیوش گوئل نے کہا تھا کہ امریکہ سے تجارتی معاہدہ حتمی شکل اختیار کرنے کے ’’قریب پہنچ چکا ہے‘‘۔ یہ بات انہوں نے اپریل ۲۵ء میں کہی تھی مگر دسمبر ۲۵ء تک اس میں پیش رفت نہیں ہوئی (اور اب تو امریکہ کے وزیر برائے کامرس نے ایک انٹرویو میں کہہ دیا کہ معاہدہ نہیں ہوپایا: مترجم)۔ 
 سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ کی دوڑ میں ایک اور لفظ ’’جی ایس ٹی‘‘ بھی شامل ہے۔ آٹھ سال ہوگئے جی ایس ٹی کو نافذ ہوئے۔ اس کیخلاف بہت سی شکایات کی گئیں اور بہت سے مشورے مرکزی حکومت کو دیئے گئے، بالآخر ۲۵ء میں حکومت نے ان شکایات اور مشوروں پر عمل کیا مگر انتظامی سطح پر جو آسانیاں جی ایس ٹی بھرنے والوں کیلئے ہونی چاہئے تھیں نہیں ہوئیں۔ ہر تجارتی تنظیم نے حکومت سے فریاد کی تھی کہ جی ایس ٹی کے سلسلے میں جو کارروائیاں اُنہیں کرنی پڑتی ہیں اُنہیں کم کیا جائے تاکہ سہولت ہو مگر اس جانب توجہ نہیں دی گئی۔
 دوران سال ایک ضرب المثل بھی بحث کا موضوع بنی مگر پھر تیزی سے غائب ہوگئی۔ وہ تھی ’’گولڈی لاکس ایئر فار دی اکنامی‘‘۔ یہ کسی معیشت کی ایسی صورت حال ہوتی ہے جس میں معاشی سرگرمیاں بڑھتی ہیں، فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں، افراط زر قابو میں رہتا ہے، روزگار پیدا ہوتا ہے وغیرہ۔ ہندوستانی معیشت کیلئے اس ضرب المثل کے استعمال پر کئی ماہرین نے اعتراض کیا جن میں سابق معاشی مشیر بھی شامل تھے۔ ان حضرات نے معیشت کی کمزوریوں کی نشاندہی کی۔ اسی دوران بے روزگاری کا موضوع زیر بحث آیا اور ’’گولڈی لاکس‘‘ پر جو شادیانے بجنے تھے، نہیں بجے۔ اس سلسلے کی تفصیل میں جانے کے بجائے شاید اتنا بتا دینا کافی ہو کہ گروتھ ریٹ اور جی ڈی پی میں اضافے کے معاملے میں امریکہ (سب سے بڑی معیشت) اور چین کے درمیان فاصلہ کم ہوا ہے جبکہ ہند امریکہ اور ہند چین کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی معیشت میں کئی خامیاں ہیں جنہیں حکومت تسلیم نہیں کرتی۔مشہور اخبار ’’دی ہندو‘‘ نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ ’’امریکہ کی جانب سے ۵۰؍ فیصد ٹیرف کا خطرہ تو برقرار ہے ہی، پرائیویٹ انویسٹمنٹ کی رفتار بے حد سست ہے، غیر ملکی سرمایہ کار پیسہ نکال رہے ہیں، روپے کے کمزور ہونے کی وجہ سے درآمدات مہنگی ہوگئی ہیں، اُجرتیں نہیں بڑھ رہی ہیں اور صارفین کی طلب (جو فعال معیشت کیلئے بہت ضروری ہے) کمزور ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ’’گولڈی لاکس‘‘ کا دعویٰ کھوکھلا تھا۔
 ایک زمانہ میں کافی استعمال ہونے والا لفظ ’’سیکولر‘‘ دوڑ میں کبھی کبھی آیا مگر اب اس کا استعمال بہت کم ہوگیا ہے۔ اتنا کم کہ اگر کہا جائے کہ دوران سال اس کا استعمال ہوا ہی نہیں تو بھی غلط نہ ہوگا۔ بنیادی طور پر سیکولر کا معنی ہے حکومت اور مذہب میں کوئی تعلق نہیں ہوگا مگر دورِ حاضر میں اس کا معنی یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ جو لوگ سیکولرازم کی بات کرتے ہیں وہ منطق اور انسان پرستی (ہیومنزم) پر یقین رکھتے ہیں مذہب پر نہیں۔ 
 الفاظ اور بھی ہیں مگر ایک لفظ کی طرف توجہ دلانا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ وہ ہے ’’نفرت‘‘۔ سیکولرازم کے پس پشت چلے جانے کی وجہ سے اس لفظ کو کافی شہرت ملی اور اس کا استعمال کافی حد تک بڑھ گیا۔ اس میں شک نہیں کہ ہر مذہب اس لفظ کی مذمت کرتا ہے مگر افسو س کہ اس کا استعمال مذہب کی بنیادوں پر ہونے والی تقریروں اور تحریروں ہی سے متعلق رہا۔ نفرت کا سب سے زیادہ استعمال مسلمانوں کے خلاف ہورہا ہے، اُن کے پہننے اوڑھنے کی روش کے خلاف، اُن کے کھان پان کے خلاف اور اُن کی عبادت گاہوں کے خلاف۔ مسلمانوں کی عبادت میں دشواریاں پیدا کی جاتی ہیں جس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اُنہو ںنے بیرونی حملہ آور کی حیثیت سے ہندوستان پر حملہ کیا اور پھر چھ دہائیوں تک یہاں حکومت کی مگر اب حکومت ہندوؤں کے ہاتھوں میں ہے اور یہ موقع ہے اُنہیں سبق سکھانے کا۔اسی طرح عیسائیوں کو بھی جبر کا ہدف بنایا گیا ہے۔ چرچوں پر حملے ہوئے ہیں، عیسائی پادریوں پر حملے ہوئے ہیں  جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ دو اقلیتیں کس طرح شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں ۔ حیرت انگیز ہے کہ اے پی جے عبدالکلام اور مدر ٹریسا کے نام پر جشن منایا جاتا ہے مگر مسلمانوں اور عیسائیوں کو راندۂ درگاہ بنایا جاتا ہے۔
 مذکورہ بالا الفاظ میں سے آخری لفظ ’’نفرت‘‘ ہی مجھے ۲۰۲۵ء کا ایسا لفظ نظر آتا ہے جس کا سال بھر غلبہ رہا۔ n

education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK