مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ہر طرف بول بالا ہے۔ اس پر ہر جانب مسلسل اور سنجیدہ بحثیں بھی ہورہی ہیں۔ اے آئی کےشعبے میں نئی پیش رفتوں کے ساتھ ہی سرمایہ کاری بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں ماہرین کو یہ فکر بھی ہے کہ کہیں مصنوعی ذہانت بے قابو نہ ہوجائے
EPAPER
Updated: June 10, 2023, 10:38 AM IST | Shahid Latif | Mumbai
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ہر طرف بول بالا ہے۔ اس پر ہر جانب مسلسل اور سنجیدہ بحثیں بھی ہورہی ہیں۔ اے آئی کےشعبے میں نئی پیش رفتوں کے ساتھ ہی سرمایہ کاری بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں ماہرین کو یہ فکر بھی ہے کہ کہیں مصنوعی ذہانت بے قابو نہ ہوجائے
جس دَور میں ابن صفی کا طوطی بول رہا تھا، معاشرہ کے اکثر گھروں میں نوعمروں کو اُن کے ناول پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ بزرگ کہتے تھے کہ ابھی عمر نہیں ہے ناول پڑھنے کی۔ بین السطور یہ ہوتا تھا کہ ابن صفی تو بالکل نہیں پڑھنا چاہئے۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ ایسی نصیحت کرنے والے بزرگوں میں سے اکثر وہ تھے جو خود ابن صفی کا کوئی ناول نہیں چھوڑتے تھے۔ میری سمجھ میں آج تک نہیں آیا کہ گھروں میں ابن صفی کے ناول ’’بَین‘‘ کیوں تھے جبکہ ان ناولوں سے زبان سیکھنے میں مدد ملتی تھی، ذخیرۂ الفاظ بڑھتا تھا، معاشرتی ، سیاسی اور معاشی زندگی کے مسائل کا اندازہ ہوتا تھا، یہ معلوم ہوتا تھا کہ طنز و مزاح کیا ہے، کرداروں کے ذریعہ کہانی کیسے آگے بڑھائی جاتی ہے، جملوں کی برجستگی کسے کہتے ہیں اور ایک ادیب پروازِ تخیل کی کن بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ابن صفی کا تقریباً ہر ناول مختلف فنون کا مجموعہ ہوتا تھا، کیا ادب کیا ریاضی، کیا مختلف دُنیوی نظام، کیا موسیقی اور نجوم اور کیا سائنس۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اُردو میں سب سے بڑا سائنسی دماغ ابن صفی کا تھا۔ یہاں اختصار کے مقصد سے صرف ایک ناول کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کا نام تھا ’’زیرو لینڈ‘‘۔ اس میں ایک بہت ترقی یافتہ ملک کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ چونکہ تصوراتی تھا اس لئے دُنیا کے نقشے پر اس کا وجود نہیں تھا۔ اس کے باشندے ترقی اور ایجادات کے ذریعہ پوری دُنیا پر قبضہ کرنے کے خواہشمند تھے (جیسا کہ ہر ترقی یافتہ ملک چاہتا ہے)۔ یہاں ایسے پرندے پائے جاتے تھے جن کی آنکھو ںمیں کیمرے نصب تھے۔ یہاں ایسی اُڑن طشتریاں تھیں جنہیں دوسرے ملک کے ماہرین راڈار پر نہیں دیکھ پاتے تھے اور دھوکے میں اُنہیں ایلین سمجھ بیٹھتے تھے۔ زیرو لینڈ کے ماہرین کے پاس ایسا آلہ تھا جس سے گولیوں کا رُخ بدلا جاسکتا تھا۔ ابن صفی، جن کا سائنسی تخیل اتنا بلند اور پختہ تھا کہ اُن کی بہت سی ’’پیش گوئیاں‘‘ سچ ثابت ہوچکی ہیں، بقید حیات ہوتے تو اپنے بہت سے تصورات اور تخیلات کو معرض وجود میں آتا ہوا دیکھتے اور اپنے نئے ناولوں کے ذریعہ یہ بھی بتاتے کہ اب دُنیا کس رُخ پر ہے اور تکنالوجی کی کون سی انجانی سمتوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وہ ہوتے اور لکھ رہے ہوتے تو مصنوعی ذہانت کا مستقبل بھی بتا دیتے۔
ایسے دور میں جب مصنوعی ذہانت پوری دُنیا میں موضوع بحث ہے اور اس کی وجہ سے نت نئی توقعات کے ساتھ ساتھ اندیشہ ہائے دور دراز بھی دامن گیر ہیں، ابن صفی نہ یاد آئیں تو پھر کون یاد آئے گا۔ خیر، اب معاملہ یہ ہے کہ ’’اے آئی‘‘ کہلانے والی مصنوعی ذہانت فطری ذہانت کیلئے چیلنج بن رہی ہے۔ اس سے، روزگار کی شدید قلت ہی کا نہیں، دُنیا کی تباہی کا خدشہ بھی سر اُبھار رہا ہے۔ چند ماہ پہلے ایلون مسک سمیت دُنیا کے ایک ہزار سے زائد (اصل تعداد ۱۱۲۵) ماہرین نے ایک کھلے خط پر دستخط کرکے مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والے افراد اور اداروں سے درخواست کی تھی کہ اس سلسلے میں مزید پیش رفت روکی جائے۔ زیادہ نہیں تو کم از کم چھ ماہ مصنوعی ذہانت پر کچھ کام نہ ہو۔ اس خط میں مثال پیش کی گئی تھی کہ فرض کرلیجئے کوئی فرم اے آئی کے ذریعہ ادویات کا فارمولہ بنانے کیلئے کوشاں ہو اور اے آئی ادویات کے بجائے کوئی نیا جرثومہ (پیتھوجن) بنا بیٹھے تویہ انسانی زندگی کیلئے کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟
اب جبکہ دُنیا۲۰۲۳ء میں سانس لے رہی ہے، کسی جرثومے کے ذریعہ ہونے والی تباہ کاری کو سمجھنا مشکل نہیں ہے کیونکہ دو سال سے زیادہ عرصہ تک کورونا وائرس کا ظلم و ستم سہنے کے بعد اب کہیں جاکر لوگوں کے حواس درست ہوئے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی پیش رفتوں سے جہاں ماہرین ایک نئی اور حیران کن دُنیا کی سیر کر تے ہوئے بلیو ّں اُچھل رہے ہیں، وہیں حددرجہ فکرمند بھی ہیں۔ اُنہیں فکر ہے کہ وہ تمام اُمور جو صدیوں سے انسانوں کے دائرۂ عمل میں تھے، روبوٹس اور دیگر پروگراموں کے سپرد ہوجائیں تو روزگار کے شدید مسائل پیدا ہونگے، اب تک اسی خطرہ کو سب سے بڑا خطرہ مانا جارہا تھا مگر جس رفتار سے مصنوعی ذہانت پر تجربہ کیا جارہا ہے اور جتنی سرمایہ کاری نیز پیش رفتیں ہورہی ہیں اُن سے ایک نیا اور غیر معمولی خطرہ پیدا ہورہا ہے۔ وہ یہ کہ اگر مصنوعی ذہانت فطری ذہانت پر سبقت لے جائے تو کیا ہوگا؟ اگر اس نے انسانوں کو گمراہ کرنا شروع کردیا تو کیا ہوگا؟ تکنالوجی اب تک انسانوں کی مدد کررہی تھی اور اب بھی کررہی ہے، مگر وہ دور آسکتا ہے جب وہ فریب دینے لگے یا انسانوں کو اُلجھانے لگے۔ اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟ اور تب کیا ہوگا جب انسانوں سے بڑھی ہوئی یہ ذہانت بے قابو ہوجائیگی؟ شاعر مشرق اقبال نے کہا تھا: ’’ہے دل کیلئے موت مشینوں کی حکومت‘‘، بات بالکل صحیح تھی مگر اس اکیسویں صدی میں مشینوں کی حکومت صرف دل کیلئے خطرہ نہیں رہ گئی ہے، یہ انسانی وجود کیلئے زبردست چیلنج بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
خطرات بہت ہیں۔ ان کے سائے میں اطمینان کی بات یہ ہے کہ ماہرین، تکنالوجی کو انسان دوست بنائے رکھنے اور انسان دشمن بننے سے روکنے کے تمام پہلوؤں پر غور کررہے ہیں مگر کون سا ملک ہے جس کے ماہرین ازخود کوئی کام کرتے ہیں؟ انہیں تو لائحہ عمل دیا جاتا ہے۔ منصوبہ بندی کو حتمی شکل وہ ادارے اور حکومتیں دیتی ہیں جو انہیں بھاری تنخواہوں پر مامور کرتی ہیں جو اپنا تسلط قائم کرنے، منافع کمانے، دوسروں پر سبقت لے جانے اور سپرپاور بننے کے فراق میں رہتی ہیں، اُنہیں کیسے روکا جاسکتا ہے اور اگر روکا جاسکتا ہے تو کون روکے گا؟ انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن کا اندازہ ہے کہ ۲۰۲۶ء تک دُنیا کی مختلف فرمیں اور ادارے ۳۰۰؍ ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کررہے ہونگے۔ وقت کے ساتھ سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور اے آئی ترقی کررہی ہے۔ اگر سرمایہ منافع دیتا رہا تو کون سا ملک یا ادارہ ایسا ہوگا جو سرمایہ کاری روک دیگا؟ بس یہی سوال ہے جو پریشان کرتا ہے۔ اے آئی کی پیش رفت تب تک گوارا ہے جب تک یہ فیض رساں ہو۔ ابن صفی ہوتے تو اتنی فکر نہ ہوتی۔ اُنہی سے اُمید کی جاتی کہ اے آئی کو فیض رساں بنائے رکھنا کا فارمولہ سجھائیں