رام دھاری سنگھ دِنکر (۱۹۰۸ء تا ۱۹۷۴ء) ہندی کے مشہور اور معتبر شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں۔ وہ ادیب بھی تھے اور مجاہد آزادی بھی۔ انہیں ۱۹۵۹ء میں ساہتیہ اکادیمی ایوارڈ، اسی سال پدم بھوشن اور ۱۹۷۲ء میں گیان پیٹھ دیا گیا تھا۔
EPAPER
Updated: July 06, 2026, 3:48 PM IST | Professor Sarwar Ul Huda | Mumbai
رام دھاری سنگھ دِنکر (۱۹۰۸ء تا ۱۹۷۴ء) ہندی کے مشہور اور معتبر شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں۔ وہ ادیب بھی تھے اور مجاہد آزادی بھی۔ انہیں ۱۹۵۹ء میں ساہتیہ اکادیمی ایوارڈ، اسی سال پدم بھوشن اور ۱۹۷۲ء میں گیان پیٹھ دیا گیا تھا۔
بچپن سے رام دھاری سنگھ دِنکر کا نام کچھ اس طرح سن رکھا تھا کہ جیسے وہ خاندان کے ایک فرد ہوں لیکن ان کے گاؤں سمریا کبھی جانا نہیں ہوا۔ برونی سے بہت قریب یہ گاؤں ہے جو بیگوسرائے ضلع کا حصہ ہے۔ بہت قریب سے گنگا بہتی ہے۔ راجندر پل سے گزرتے ہوئے گنگا کا پانی اور اس کی کبھی تیز اور کبھی خاموش لہروں کو مسافروں نے بارہا دیکھا ہوگا۔ اس پل کی دو منزلیں ہیں۔ پہلی منزل سے ریل گاڑیاں گزرتی ہیں اور دوسری منزل سے موٹر گاڑیاں۔ پل سے پہلے ایک چھوٹا سا اسٹیشن سمریا آتا ہے۔ جن لوگوں نے دنکر کی کوئی تحریر نہیں پڑھی اور دیکھی ہے وہ بھی دنکرسے محبت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دنکر نے ان کی عزت بڑھائی ہے۔ عام لوگوں سے بات کیجئے تو سب کی زبان پر دنکر کا نام کچھ اس طرح آتا ہے کہ جیسے دنکر ان کی روح کا حصہ ہو۔ بنگال میں ٹیگور کے نغموں کے بغیر صبح نہیں ہوتی۔ سمریا کی صبح دنکر کے بغیر ممکن ہے ہو جاتی ہو مگر کسی نے اس گاؤں اور بستی کے لوگوں سے اس طرح بات نہیں کی جس سے دنکرکے تعلق سے ان کی محبت کا اظہار ہوتا ہو۔
سمریا بہت سے گاؤں کی طرح اب بھی ایک گاؤں ہے۔ راستے ضرور پختہ ہو گئے ہیں مگر گاؤں کی فضا اب بھی گاؤں کی فضا معلوم ہوتی ہے۔ میری گاڑی ایک چوڑے اور کشادہ راستے سے ہوتی ہوئی تنگ راستے کی طرف آگئی تھی۔ وہاں سے دو راستے نکلتے ہیں اور یہ دونوں راستے دنکر کے گھر تک پہنچاتے ہیں۔ نکڑ پر ایک بزرگ کی چھوٹی سی دکان تھی، ان سے دریافت کیا تو کہنے لگے کہ یہ راستہ نزدیک ہے زیادہ چوڑا تو نہیں ادھر سے ہی چلے جائیے، کہاں جانا ہے؟ دنکر کےگھر۔ دنکر کا نام سن کر وہ کچھ اس طرح خوش ہوئے کہ جیسے یہ خوشی بہت نزدیک سے اپنا اظہار چاہتی ہو۔ مقامی زبان جو انہیں آتی ہے اسی زبان میں مَیں نے بات کی۔ یہ راستہ بہت جلد اور آسانی کے ساتھ طے ہو گیا۔ یہیں سے ہو کر دنکر باہر نکلے ہوں گے اور دنیا کو دیکھا ہوگا۔ میری نظر کے سامنے ان کی کتاب ’’سنسکرتی کے چار ادھیائے‘‘ کے ورق کھلنے لگے اور محسوس ہوا کہ ان اوراق کی معنویت نئے سرے سے یہاں قائم اور روشن ہونے لگی ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ کرتے ہوئے کئی برس ہو گئے اور اب جب کہ یہ تکمیل کے مرحلہ میں ہے تو دل سے آواز آئی کہ ترجمہ کی اشاعت سے پہلے دنکر کے گھر اور گاؤں میں حاضر ہونا اخلاقی فرض ہے۔
پروفیسر راماگیہ، جو بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ ٔ ہندی سے وابستہ ہیں، ان کا تعلق بھی سمریا سے ہے۔ انہوں نے سمریا سے بنارس تک دنکر سے اپنی ذہنی اور مقامی وابستگی کے اظہار میں جس فخر اور مسرت کا اظہار کیا ہے وہ اس زمانے میں بہت بڑی بات ہے۔ لوگ اپنے گاؤں سے نکل کر بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ پروفیسر راماگیہ کچھ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے، دھوپ تیز تھی مگر کچھ اس طرح کہ جیسے ہم چاندنی میں کھڑے ہوں۔ پسینہ آ رہا تھا، د نکر نے سیاسی، سماجی اور تہذیبی سطح پر جو زمانہ دیکھا تھا وہ بہت شاندار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دھوپ کی زد میں بھی تھا۔ ملک غلامی سے نکل کر ایک نئی دنیا کی تشکیل میں مصروف تھا۔ اتفاق اور اختلاف کی صورتیں ابھی موجود تھیں لہٰذا اس دن کی وہ دھوپ جو دنکرکے گاؤں میں چاندنی کی طرح پھیلی ہوئی تھی، اس کا ایک رشتہ سنسکرتی کے چار ادھیائے میں موجود فکری اور نظریاتی دھوپ سے بھی ہے۔
دنکر کے نام سے ایک پنچایت بھون ہے، جہاں لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور اپنے طور پر اپنی بات کا آغاز کر دیتے ہیں۔ گرام پنچایت کتنی خوبصورت ترکیب ہے جسے سنتے ہی اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ یہاں سے کوئی پانچ منٹ کے فاصلے پر دنکر کا گھر ہے۔ ہم لوگ دروازے کے اندر داخل ہوئے، تو دیکھا کہ دائیں طرف ایک کنواں ہے۔ یہ کبھی دنکر کے استعمال میں تھا۔ یہ دائرہ نما کنواں بہت خوبصورت ہے، کنویں کو جھانک کر دیکھنا فطرت میں شامل ہے۔ کنویں کا پانی ٹھہرا ہوا ہے۔ برسات میں اس کی سطح اوپر آجاتی ہوگی۔ یہاں پہنچ کر گنگا کا بھی خیال آیا، اندر ہی اندر کنویں کا رشتہ گنگا سے بھی تو ہوگا۔ دنکر کا مکان باقی نہیں رکھا جا سکا، اب اس کی جگہ پر نئی عمارت ہے۔ کھپریل کی چھت تھی، اور اس کی شکل وہی تھی جسے میری نگاہ دیکھنا چاہتی تھی۔ اس نئی عمارت میں دیواروں پر دنکر کی تصویریں آویزاں ہیں۔ اُن کا ایک کرتا ہے، ایک بیڈ اور بستر۔ وہ چھڑی بھی ہے جو عمر کے آخری حصے میں ان کے ہاتھ میں ہوا کرتی تھی۔ ایک ڈائری میں اس سفر کے تعلق سے کچھ لکھنا تھا، لکھتے ہوئے محسوس ہوا کہ جیسے دنکر کی آنکھیں ہماری طرف ہیں اور ہم بھی دنکر کو دیکھ رہے ہیں۔ گاؤں کے ذمہ دار افراد جو ہمارے ساتھ تھے ان کیلئے دنکر کسی خاص وقت یا دن سے مخصوص نہیں، وہ ان کی عام زندگی کا حصہ ہیں۔
اس عام زندگی میں عام لوگوں کو دنکر کی شخصیت اور شاعری میں دلچسپی ہے۔ انہیں معلوم ہوگا یا اگر معلوم ہوگا بھی تو بہت زیادہ اس بات میں دلچسپی نہیں دکھائی دیتی کہ وہ ۱۹۵۲ء سے ۱۹۶۲ء تک راجیہ سبھا کے ممبر رہے۔ کانگریس اور نہرو سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ اس زمانے میں سیاست اور ادب کے درمیان کا یہ رشتہ حال کے ساتھ ساتھ مستقبل کی تعمیر کا ایک وسیلہ بھی تھا۔ سنجیدہ، شائستہ اور علمی سیاست ادیبوں کو پہچانتی تھی اور ان کی قدر کرتی تھی۔ یہ روایت ختم تو نہیں ہوئی مگر اس پر مشکل وقت ضرور آیا ہے۔
دنکرنے ’’لوک دیو نہرو‘‘ کے نام سے نہرو پر ایک کتاب بھی لکھی۔ انہوں نے نہرو کی زندگی میں نہرو سے اختلاف بھی کیا۔ ایک مرتبہ پنڈت جی کے پاؤں سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے لڑکھڑانے لگے۔ دنکر نے سہارا دیا اور ان کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا کہ ’’جب جب سیاست لڑکھڑاتی ہے ادب اسے طاقت دیتا ہے‘‘۔ اس پر مجھے ٹی ایس ایلیٹ کی ایک بات یاد آئی کہ یہ دنیا اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتی جب تک سیاستدانوں کو ادب نہ پڑھا دیا جائے۔
سمریا میں ۲۳؍ ستمبر کو دنکر کی یاد میں جلسہ ہوتا ہے، جس میں ملک بھر سے لوگ شرکت کرتے ہیں۔ ان سے منسوب ایک لائبریری ہے جس میں اُن کی کتابوں کے ساتھ ساتھ وہ کلیکشن بھی ہے جسے اُن کی ذاتی لائبریری کا نام دینا چاہئے۔ لائبریری کا ترجمان رسالہ بھی ہے جو یہاں کی علمی و تہذیبی سرگرمیوں کا لیکھا جو کھا پیش کرتا ہے۔