بھرت بھوشن تیواری کے مبینہ انکاؤنٹر کا معاملہ معاملہ صرف ایک فرد یا ایک واقعہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں ریاستی طاقت، پولیس نظام، عدالتی عمل، میڈیا کے رویے اور ذات پات پر مبنی سماجی ڈھانچے جیسے اہم سوالات پوشیدہ ہیں۔
بہار پولیس۔ تصویر:آئی این این
بہار میں ان دنوں بھوجپور کے رہنے والے بھرت بھوشن تیواری کے مبینہ انکاؤنٹر کو لے کر سیاسی ماحول گرم ہے۔ اپوزیشن جماعتوں سے لے کر حکمراں اتحاد کے بعض لیڈران تک اس واقعہ پر مختلف زاویوں سے بحث کررہے ہیں۔ سب سے زیادہ توجہ سابق وزیر اعلیٰ بہار اور مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی کے اس بیان نے حاصل کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ جب کسی اعلیٰ ذات کے شخص کے مبینہ انکاؤنٹر کا معاملہ سامنے آتا ہے تو پورے سماج میں ہلچل مچ جاتی ہے، لیکن جب دلتوں، پسماندہ طبقات یا مسلمانوں کو ماؤ نواز یا انتہا پسند قرار دے کر مار دیا جاتا ہے تو ایسی حساسیت دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے اس بیان نے بہار میں انکاؤنٹر، قانون کی حکمرانی اور سماجی انصاف سے متعلق ایک پرانی بحث کو پھر زندہ کر دیا ہے۔یہ معاملہ صرف ایک فرد یا ایک واقعہ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے پس منظر میں ریاستی طاقت، پولیس نظام، عدالتی عمل، میڈیا کے رویے اور ذات پات پر مبنی سماجی ڈھانچے جیسے اہم سوالات پوشیدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھرت بھوشن تیواری کا معاملہ محض ایک فوجداری کیس نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی مباحثے کا موضوع بن چکا ہے۔
واضح ہو کہ بہار میں سمراٹ چودھری نے جس دن سے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا ہے اسی دن سے جرائم پر قابو پانے کیلئے پولیس محکمے کو خصوصی اختیار دے رکھا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ بہار میں بھی اترپردیش یا بی جے پی کی قیادت والی دیگر حکومتوں کی طرح بلڈوزر اور مبینہ طورپر فرضی انکائونٹر کی ماحول سازی تیز ہو گئی ہے ۔ نتیجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ریاست کے کئی اضلاع میں پولیس کے ذریعہ جرائم پر نکیل کسنے کے لئے کاروائی ہوئی ہے اور عوام الناس میں خوف و ہراس سے زیادہ یہ معاملہ طول پکڑ رہاہے کہ پولیس کی کاروائی مشکوک ہے اور بالخصوص فرضی انکائونٹر کئے جا رہے ہیں۔
بہر کیف! جمہوری نظام میں پولیس کو قانون نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، لیکن یہ اختیار آئین اور قانون کی حدود کے اندر رہ کر استعمال ہونا چاہئے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں جرم ثابت کرنے کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے، پولیس کے پاس نہیں۔ اگر کوئی شخص جرم کا مرتکب ہے تو اسے گرفتار کیا جائے، اس کے خلاف ثبوت جمع کیے جائیں اور عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ انکاؤنٹر کلچر اسی وقت متنازع بن جاتا ہے جب یہ شبہ پیدا ہو کہ کسی شخص کو عدالتی کارروائی سے پہلے ہی سزا دے دی گئی۔ افسوس کہ ہندوستان میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران مختلف ریاستوں میں انکاؤنٹر پولیسنگ کا رجحان بڑھا ہے۔ بعض حلقے اسے جرائم پر قابو پانے کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے قانون کی حکمرانی کے لئے خطرناک سمجھتی ہیں۔ بہار بھی اس بحث سے الگ نہیں رہا۔ ماضی میں نکسل ازم کے خلاف کارروائیوں کے دوران متعدد ایسے واقعات سامنے آئے جنہیں انسانی حقوق کے کارکنوں نے مشکوک قرار دیاتھا۔ کئی مرتبہ الزام لگایا گیا کہ غریب، دلت اور اقلیتی طبقات کے افراد کو بغیر مناسب ثبوت کے انتہا پسند قرار دے کر کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔جیتن رام مانجھی کے بیان کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ وہ بہار کی سیاست میں دلت نمائندگی کی ایک اہم آواز سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سماج اور میڈیا کی حساسیت ذات کے مطابق بدل جاتی ہے۔ اگر ان کا یہ دعویٰ درست ہے تو یہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے ایک سنجیدہ سوال ہے۔ کیا واقعی مختلف سماجی طبقات کے ساتھ انصاف کے پیمانے الگ الگ ہیں؟ کیا کسی واقعہ پر ردعمل کا انحصار متاثرہ شخص کی ذات، مذہب یا سماجی حیثیت پر ہوتا ہے؟ بہار کی سیاست میں ذات پات ہمیشہ ایک اہم عنصر رہی ہے۔ آزادی کے بعد سے لے کر آج تک انتخابی سیاست، اقتدار کی تقسیم اور سماجی تحریکوں میں ذات کی بنیاد پر صف بندی دیکھی جاتی رہی ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی حساس واقعہ کو مکمل طور پر غیر سیاسی رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ بھرت بھوشن تیواری کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ بعض حلقے اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات کا مسئلہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض اسے ذاتی سیاست کے چشمے سے دیکھ رہے ہیں۔کئی سیاسی جماعتوں کے لیڈران اپنی پارٹی موقف سے الگ ہو کر محض ذات کے نام پر اس انکائونٹر کے خلاف صف بند ہو رہے ہیںکیوں کہ بہار کی تمام سیاسی جماعتوں میں بھومیہار، برہمن یعنی اعلیٰ طبقے کا دبدبہ ہے۔ اب اس معاملے میں جن سوراج کے لیڈر جو اسی طبقے کے ہیں وہ بھی کود پڑے ہیں اور حکومت کے خلاف عوام کو متحد کر رہے ہیں۔
اگرچہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اس کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کی ہے اور جانچ شروع بھی ہوگئی ہے۔میڈیا کا کردار بھی اس بحث میں اہم ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض واقعات کو غیر معمولی کوریج ملتی ہے جبکہ بعض دوسرے واقعات خبروں کے حاشیے پر رہ جاتے ہیں۔ اس عدم توازن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کچھ زندگیاں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں۔ صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر شہری کے بنیادی حقوق کو یکساں اہمیت دی جائے۔ اگر کسی مبینہ فرضی انکاؤنٹر کی خبر قابلِ توجہ ہے تو یہ اصول ہر ایسے معاملے پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہئے۔
بہار کی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی یہ ایک امتحان ہے۔ اگر وہ واقعی آئینی اقدار اور سماجی انصاف پر یقین رکھتی ہیں تو انہیں ہر مشکوک انکاؤنٹر پر یکساں موقف اختیار کرنا چاہئے۔ صرف اپنی سیاسی ضرورت یا ووٹ بینک کے مطابق ردعمل ظاہر کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس پورے معاملے کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے سماج کو ایک اہم بحث کا موقع فراہم کیا ہے۔ اگر اس بحث کے نتیجے میں پولیس اصلاحات، عدالتی شفافیت اور انسانی حقوق کے تحفظ پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ جمہوریت کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ لیکن اگر یہ مسئلہ صرف ذاتی اور انتخابی سیاست کا ہتھیار بن کر رہ جائے تو اصل سوالات پس منظر میں چلے جائیں گے۔