Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسجد کی روشنی میں پڑھنے والی لڑکی بہار میں اسسٹنٹ کمشنر بن گئی

Updated: July 01, 2026, 2:55 PM IST | Shaikh Akhlaq Ahmad | Mumbai

عرشین اشفاق باغوان کی انتھک جدوجہداوربلند حوصلے کی کہانی طلبہ کیلئے مثال ہے۔

Arshin posing for a picture outside the BPSC headquarters. Photo: INN
عرشین ، بی پی ایس سی کے صدر دفتر کے باہر تصویر کھنچواتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

۲۰؍ جون۲۰۲۶ءکو جب بہار پبلک سروس کمیشن امتحان کے نتائج کا اعلان ہوا تو سیکڑوں امیدواروں میں  مہاراشٹر کی ایک لڑکی کا نام بھی منتخب امیدواروں کی فہرست میں شامل تھا۔ یہ نام تھا عرشین اشفاق باغوان کا، جن کا انتخاب اسسٹنٹ کمشنر (اسٹیٹ ٹیکسز)، حکومت بہار کے عہدے پر ہوا۔یہ خبر صرف ایک سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی نہیں تھی، بلکہ اس لڑکی کی فتح تھی جس نے حالات سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے انہیں بدلنے کا عزم کیا تھا۔

یہ کامیابی کسی آسودہ حال خاندان کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی لڑکی کی داستان ہے جس نے غربت، معاشرتی دباؤ، مالی تنگی اور مسلسل ناکامیوں کے باوجود ہمت کا دامن نہیں چھوڑا۔عرشین کی ابتدائی تعلیم جنتا ودیالیہ، کھوپولی (مراٹھی میڈیم) سے ہوئی، جہاں دسویں  میں انہیں۹۱؍ فیصد نمبرات ملے۔ عرشین نے اس کے بعد بی ایل پاٹل پولی ٹیکنک، کھوپولی سے الیکٹرانکس اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن انجینئرنگ میں ڈپلوما(۹۲؍فیصد)سے کیا ۔پھر وشو کرما انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے بی ٹیک(۸۲؍فیصد) مکمل کیا۔

یہ بھی پڑھئے: بارہویں کے نتائج کے بعد فوری توجہ کی حامل کچھ باتیں طلبہ ذہن نشین کرلیں

عرشین نے انقلاب کیلئے جانے والی گفتگو کے دوران نہایت جذباتی انداز میں بتایا کہ ’’میرے والد تعمیراتی کمپنی میں سپروائزر تھے اور گھر کی مالی حالت انتہائی محدود تھی۔کئی مرتبہ ایسا وقت آیا کہ کالج کی فیس ادا کرنے کیلئے پیسے موجود نہیں تھے۔‘‘انہوں نے بتایا ’’کبھی میں نے اپنے گھر کے سامنے مسجد کی روشنی میں بیٹھ کر پڑھائی کی، کیونکہ حالات ایسے تھے کہ ہر سہولت میسر نہیں تھی، کئی مرتبہ گھر میں فیس جمع کرنے کے لیے رقم موجود نہیں ہوتی تھی اور مجھے یہ خدشہ ستائے رہتا کہ میری تعلیم ادھوری نہ رہ جائے۔عرشین کا تعلق ایسے خاندان سے ہے جہاں ماضی میں اکثر لڑکیوں کی تعلیم دسویں یا بارہویں کے بعد روک دی جاتی تھی اور شادی کر دی جاتی ۔خاندان کے بعض افراد کی جانب سے بھی انہیں تعلیم جاری نہ رکھنے کا دباؤ برداشت کرنا پڑا۔ اسکے باوجود انہوں نے اپنے خواب سے سمجھوتہ نہیں کیا۔عرشین کی زندگی کا سب سے جذباتی باب وہ ہے جب ان کے دادا اور دادی نے خاموشی سے اپنے زیورات گروی رکھ کر ان کی فیس ادا کی۔ عرشین کہتی ہے کہ ’’اگر میرے دادا اس وقت وہ مدد نہ کرتے تو شاید انجینئرنگ مکمل کرنا ممکن نہ ہوتا۔ میری کامیابی کا ایک بڑا حصہ میں اپنے مرحوم دادا کریم سیٹھ باغوان اور اپنی دادی کی قربانیوں کو دینا چاہوں گی۔

یہ بھی پڑھئے: ’اے آئی‘ ۲۰۳۰ء تک ان سیکٹر میں روزگار کےبھرپور مواقع دے گا

انجینئرنگ کے بعد۲۰۱۸ء میں عرشین نے سول سروسیز کا خواب دیکھا اور پھر مسلسل یوپی ایس سی، یوپی- پی ایس سی اور بی پی ایس سی سمیت متعدد امتحانات دیے، لیکن کئی برس تک کامیابی نہیں ملی لیکن ہر ناکامی کے بعد عرشین نے اپنی کوشش جاری رکھی۔پونے میں انجینئرنگ کے دوران عرشین کو مالی تنگی کا سامنا تھا۔عرشین نے کہا کہ ’’انجینئرنگ اور سول سروسیز کی تیاری کے دوران تعلیمی اخراجات کے لئے مجھے میرٹ اسکالرشپ کا سہارا ملا، ٹیوشن پڑھائی، پارٹ ٹائم ملازمتیں کیں، کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں کاپی ایویلیویٹر اور کانٹینٹ کریئیٹر کے طور پر کام کیا اور ساتھ ہی سول سروسز کی تیاری بھی جاری رکھی۔‘‘ عرشین نے مزید کہا کہ’’مالی مشکلات ، رشتہ داروں کی جانب سے شادی کیلئے دباؤ، بار بار ناکامی اور مستقبل کی غیر یقینی کیفیت نے کئی مرتبہ مجھے آزمائش میں ڈالا، لیکن میں جانتی تھی کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اتنی ہی آزمائش دیتا ہے جتنی وہ برداشت کر سکتا ہے۔ جب میں نے بی پی ایس سی کی فائنل لسٹ میں اپنا نام دیکھا تو اس خوشی نے ہر زخم کو بھر دیا۔عرشین اپنی کامیابی کا سہرا  سماج کے خیر خواہ افراد، والدین، بھائی اور خصوصاً دادا دادی کی دعاؤں اور قربانیوں کو دیتی ہیں۔عرشین اشفاق باغوان اب  بہار میں اسسٹنٹ کمشنر (اسٹیٹ ٹیکسز) کے طور پر خدمات انجام دیں گی، جبکہ ان کا اگلا ہدف یونین پبلک سروس کمیشن کے ذریعے آئی اے ایس بننا ہے۔

youth bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK