Inquilab Logo Happiest Places to Work

دلت-مسلم انکاؤنٹر پر الگ رویہ کیوں؟: جیتن مانجھی

Updated: June 25, 2026, 1:28 PM IST | Patna

بھرت تیواری کے معاملے میں مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی کا حملہ۔

Bharat Tiwari. Photo: X
بھرت تیواری۔ تصویر: ایکس

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے بھرت تیواری کےانکاؤنٹر پر سیاست کرنے والوں پر سوال اٹھایا ہے کہ دلتوں اور مسلمانوں کے انکاؤنٹر پر یہ لوگ دوہرے معیار کو کیوں اپناتے ہیں۔ مانجھی نے ایکس ہینڈل پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’دلتوں کا انکاؤنٹر ہو تو ’’نکسلی تھا ماراگیا‘‘، مسلمانوں کا انکاؤنٹر ہو تو ’’آتنک وادی تھا مارا گیا‘‘، ایسے کہنے والے لوگ ہی بھرت تیواری کے انکاؤنٹر پر سوال اٹھارہے ہیں۔یہ ان کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی واقعے کو ذات اور مذہب کے چشمے سے دیکھنے کا رجحان خطرناک ہے۔ قانون و انتظام کے سوال پر دوہرے معیار نہیں اپنائے جا سکتے۔ جیتن رام مانجھی نے سوال اٹھایاکہ بھرت تیواری کے پاس غیر قانونی پستول کہاں سے آئی اور اسے ہتھیار فراہم کرنے والوں کے کردار پر بحث کیوں نہیں ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ایک مجرمانہ واقعے کو سیاسی رنگ دے کر غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی سب سے بالا ہے اور ملک آئین کے مطابق چلے گا، نہ کہ ہتھیاروں کے زور پر۔ مانجھی نے یہ بھی کہا کہ بھرت تیواری کو انقلابی بتا کر اس کی عظمت بیان کرنا مناسب نہیں ہے۔ان کے مطابق کسی بھی شخص کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد اس کی ذات نہیں بلکہ اسکے اعمال ہونے چاہئیں۔مانجھی نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھاہے کہ بھرت تیواری کوئی انقلابی نہیں تھا جس کی حمایت ذات پات کی ذہنیت رکھنے والے لوگ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی مجرمانہ معاملات میں اس کی گرفتاری ہو چکی تھی۔انہوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری بعض تبصروں کو بھی بالواسطہ نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حقائق کی جگہ جذبات اور تعصبات کو فروغ دینا معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ یاد رہے کہ جیتن رام مانجھی نے اتوار کو بھرت بھوشن تیو اری کے انکاؤنٹر کو جائز قرار دیا تھا۔ انہوں نےمیڈیا سے گفتگو میں کہاتھا کہ آئے دن پولیس کی پٹائی کی جا رہی ہے۔ پولیس مرجائے تو ٹھیک ہے، لیکن اگر ایسی صورت میں مجرم کا انکاؤنٹر کرے تو بہت برا ہے۔مانجھی نے کہاتھا کہ بھرت بھوشن کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی طور پر معذور تھا۔ اگر ایسا تھا تو اس کے ہاتھ میں ریوالور کیوں دی گئی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK