عمر رسیدہ افراد سے پوچھا جائے کہ آپ نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں، کبھی کسی امتحان کی ایسی درگت بھی دیکھی ہے تو اُن کا جواب نفی میں ہوگا۔ اب تک کوئی داخلہ امتحان اتنے بڑے تنازع میں نہیں گھرا جتنا کہ نیٹ ۲۰۲۶ء کا امتحان۔
EPAPER
Updated: June 21, 2026, 2:38 PM IST | Mumbai
عمر رسیدہ افراد سے پوچھا جائے کہ آپ نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں، کبھی کسی امتحان کی ایسی درگت بھی دیکھی ہے تو اُن کا جواب نفی میں ہوگا۔ اب تک کوئی داخلہ امتحان اتنے بڑے تنازع میں نہیں گھرا جتنا کہ نیٹ ۲۰۲۶ء کا امتحان۔
آج ’’نیٹ‘‘ کا وہ امتحان ہے جو ملک کے ۲۲؍ لاکھ طلبہ پر ’’ری اکزام‘‘ کے بطور تھوپا گیا ہے۔ اس میں شریک طلبہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی نہ کرنا بخل اور ناانصافی ہوگی۔ اِن پر کئی واقعات شاق گزرے ہیں۔ اس کا ثبوت وہ طلبہ ہیں جو اس درجہ مایوس ہوئے کہ انتہائی قدم اُٹھا لیا۔ اُن کے اہل خانہ پر جو بیتی وہ وہی جانتے ہیں۔ باقی ماندہ طلبہ خوش قسمت رہے کہ خود کو سنبھالے رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ اس میں اُن کے والدین اور دیگر اہل خانہ کی کوششوں کا دخل رہا ہوگا۔ انہوں نے ان کی ہمت بندھائی ہوگی، انہیں سمجھایا ہوگا کہ خدا نے اُن کیلئے کوئی بڑا انعام رکھا ہے اس لئے ہمت سے کام لیں۔ ایسے موقعوں پر والدین اور اہل خانہ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ ہم اُن طلبہ کے حوصلے ہی کی داد نہیں دیتے، اُن کے اہل خانہ کی بھی ستائش کرتے ہیں جنہوں نے اتنے سخت حالات میں اُن کی جذباتی اور نفسیاتی مدد کی اور انہیں اس قابل بنایا کہ وہ ناکردہ گناہی کے باوجود دوبارہ امتحان کی سزا بھگتیں۔ ہم، آج شریک ِ امتحان ہونے والے تمام طلبہ کیلئے نیک خواہشات پیش کرتے ہیں۔
عمر رسیدہ افراد سے پوچھا جائے کہ آپ نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں، کبھی کسی امتحان کی ایسی درگت بھی دیکھی ہے تو اُن کا جواب نفی میں ہوگا۔ اب تک کوئی داخلہ امتحان اتنے بڑے تنازع میں نہیں گھرا جتنا کہ نیٹ ۲۰۲۶ء کا امتحان۔ ۳؍ مئی کے بعد سے اخبارات، نیوز چینلوں اور یو ٹیوب چینلوں کی سرخیوں نیز سوشل میڈیا کے پیغامات پر چھائے رہنے والے اس امتحان پر جتنی تنقید ہوئی، آج تک کسی امتحان پر نہیں ہوئی ہوگی۔ پورے ملک میں وزیر تعلیم کے استعفے کی مانگ گونجتی رہی، امتحان کا انعقاد کرنے والے ادارہ ’’این ٹی اے‘‘ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اسی کی وجہ سے کاکروچ جنتا پارٹی معرض وجود میں آگئی، کانگریس پارٹی نے طلبہ کے مسائل کو اُجاگر کرنے کیلئے غیر معمولی مہم شروع کی، اس کی یوتھ وِنگ نے کئی شہروں میں پُرزور احتجاجی مظاہرے کئے، راہل گاندھی کی رَیلی بعنوان ’’چھاتروں کی گونج‘‘ (کوٹا، راجستھان) کو طلبہ کا بے مثال سپورٹ ملا، راہل نے پریزنٹیشن کے ذریعہ ہزاروں طلبہ سے خطاب کیا، حکومت ِ وقت سے نہایت تلخ سوالات کئے، ایجوکیشن سسٹم کو کٹہرے میں کھڑا کیا، اسے طلبہ سے خواب چھیننے، اُن کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے اور والدین سے روپے اینٹھنے والا نظام قرار دیا اور پیپر لیک معاملات، داخلہ امتحانات میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں اور بے روزگاری کو موضوع بنا کر ’’چھاتروں کی گونج‘‘ ہی کے نام سے ایک آن لائن دستخطی مہم بھی شروع کی۔ اس کے باوجود اب تک نہ تو وزیر تعلیم کا استعفےٰ ہوا ہے نہ ہی این ٹی اے کو تحلیل کرنے کی ہامی بھری گئی ہے۔ ہر تخریب میں تعمیر کی صورت مضمر ہوتی ہے لہٰذا اس کی وجہ سے اچھی خاصی تحریک شروع ہوگئی اور استحصالی نظام ِ تعلیم آئینے میں آگیا ہے۔
نظام ِ تعلیم کو انقلابی اصلاحات درکار ہیں مگر چونکہ اس سے بڑے بڑوں کے مفادات جڑے ہوئے ہیں، پروفیشنل کالج تجارتی مراکز بن چکے ہیں، کوچنگ سینٹروں کا طوطی بولتا ہے اور حصول تعلیم کے نام پر بھیڑ چال کا جادو سر چڑھ چکا ہے اس لئے انقلابی تو دور کسی قابل ذکر اصلاح کی توقع بھی نہیں ہے البتہ اگر طلبہ میں بیداری باقی رہی تو کئی گل کھلا سکتی ہے۔ اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرسکتی ہے۔ ڈھیٹ سیاست کے آگے نیٹ سے کچھ کام بن جائے تو غنیمت ہوگا۔