جنتر منتر پرکاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج شدید،پولیس نے شام ۵؍بجے تک احتجاج کی اجازت دی لیکن ابھیجیت دپکے کا مقررہ وقت کے بعدبھی احتجاج جاری رکھنے کا اعلان ،تھالیاں بجا کر ’گوپردھان گو‘ کے نعرے لگائے،کارکنان سےجیل بھروآندولن کی بھی اپیل
EPAPER
Updated: June 20, 2026, 11:11 PM IST | New Delhi
جنتر منتر پرکاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج شدید،پولیس نے شام ۵؍بجے تک احتجاج کی اجازت دی لیکن ابھیجیت دپکے کا مقررہ وقت کے بعدبھی احتجاج جاری رکھنے کا اعلان ،تھالیاں بجا کر ’گوپردھان گو‘ کے نعرے لگائے،کارکنان سےجیل بھروآندولن کی بھی اپیل
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نےسنیچر کو جنتر منتر پراحتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کا احتجاج اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔ سی جے پی لیڈر ابھیجیت دپکے نے کہا کہ(سنیچر کی) صبح شروع ہونے والا احتجاج اگلی صبح تک جاری رہے گا۔ رات بھر احتجاج کی اجازت دینے کے لیے پولیس کو خط بھیجا گیا لیکن پولیس نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ سی جے پی نےسنیچر کی شام۶؍بجے سے کل تک دن رات احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابھیجیت دپکے نے دہلی کے ڈی سی پی کو ایک خط لکھ کر رات تک احتجاج جاری رکھنے کی اجازت کی درخواست کی تھی۔ پولیس کی جانب سے شام۵؍ بجے تک ہی احتجاج کی اجازت تھی لیکن سنیچر کی رات تک سی جے پی کے اراکین جنتر منتر پررُکے رہے۔
پولیس نے سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ مظاہرین اجازت کا وقت ختم ہوتے ہی جگہ خالی کردیں۔ تاہم پولیس کی اس پابندی کو نظر انداز کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے اپنے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں احتجاج کے مقام ہٹیں۔ مظاہرین اس بات پر بضد رہے کہ پولیس اجازت دے یا نہ دے، وہ رات کو بھی جنتر منتر پر احتجاج جاری رکھیں گے ۔ اس دوران حکومت کے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کیلئے آمادگی ظاہر کرنے کی بھی اطلاع ہےمگر سی جے پی نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ دپکے نے واضح کیا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت تبھی ہوگی جب وزیر تعلیم استعفیٰ دیں گے۔ انہوں نے اپنے کارکنان سے بھی اپیل کی کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن رہے۔ سی جے پی کو صرف شام۵؍بجے تک احتجاج کرنے کی اجازت تھی لیکن خبر لکھے جانے تک پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے سمیت مظاہرین جنتر منتر پر موجود تھے ۔مظاہرین نےتھالیاں بجا کر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف ’گو پردھان گو ‘ کے نعرے لگائے۔ ڈیڈ لائن کے بعد دہلی پولیس پہنچی اور مظاہرین کو وہاں سے جانے کو کہا اور ان سے تھالیاں لینے کی کوشش کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کو بڑھانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
مظاہرین نے اسٹیج پر نیٹ پیپر لیک ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے پوسٹر بھی لگائے۔ دہلی کے جنتر منتر پر یہ دوسرا احتجاج ہے۔دپکے نے کہا’’اگرتھالی پیٹنے سے کورونا ختم ہوسکتا ہے تو پھر وزیر تعلیم کو ہٹانے کیلئے تھالی بجانی چاہئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ لاٹھی چارج ہو یا گرفتاری، وہ اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک دھرمیندرپردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔ انہوں نے اس موقع پر انہوں نے جیل بھرنے کی بھی اپیل کی۔