Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹیلی گرام پر پابندی: سی ای او کا سخت ردعمل، کہا اصل مجرموں کی بجائے ۱۵ کروڑ صارفین کو سزا مل رہی ہے

Updated: June 17, 2026, 6:02 PM IST | New Delhi

مرکزی حکومت کے ٹیلی گرام پر پابندی کے فیصلے کا خمیازہ فوری طور پر ان طلبہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو جائز مقاصد کیلئے ٹیلی گرام پر انحصار کرتے ہیں۔ ایکس پر اپوروا جین نے پوسٹ کرکے بتایا کہ اس پابندی کی وجہ سے ان کا بھائی نیٹ پی جی امتحان کے اسٹڈی نوٹس، ویڈیو لیکچرز اور اسٹڈی گروپس تک رسائی سے محروم ہوگیا۔

Telegram Founder and CEO Pavel Durov. Photo: X
ٹیلی گرام کے بانی اور سی ای او پاویل ڈوروف۔ تصویر: ایکس

ٹیلی گرام کے بانی اور سی ای او پاویل ڈوروف نے ۱۶ سے ۲۲ جون تک میسجنگ ایپ پر عارضی پابندی لگانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے غیر مؤثر اقدام قرار دیا ہے جو اصل مجرموں کو روکنے کے بجائے کروڑوں معصوم صارفین کو سزا دیتا ہے۔

ڈوروف نے ایکس پر لکھا، ”ہندوستان کی وزارتِ آئی ٹی نے ٹیلی گرام پر ایک ہفتے کیلئے پابندی لگا دی ہے کیونکہ کچھ صارفین نے ایپ کے ذریعے لیک شدہ امتحانی پرچے شیئر کئے تھے۔ یہ اقدام ہندوستان میں ٹیلی گرام کے ۱۵ کروڑ سے زائد عام صارفین کو سزا دیتا ہے، نہ کہ ان اندرونی لوگوں کو جنہوں نے امتحانی پرچہ لیک کیا تھا۔ اور اس پابندی سے کچھ رکا نہیں ہے کیونکہ یہ لیکس دوسری ایپس پر منتقل ہوگئے ہیں۔“

’بار اینڈ بینچ‘ کے مطابق، ٹیلی گرام نے مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ ایڈووکیٹ مادھو کھوسلا نے جسٹس تیجس کاریا کی تعطیلاتی بینچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا اور فوری سماعت کی استدعا کی۔ عدالت بدھ کو کیس کی سماعت کرنے کیلئے تیار ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رام مندر میں کروڑوں کاچندہ چوری مگر کوئی ایف آئی آر نہیں

ڈوروف کے ریلائنس اور واٹس ایپ پر الزامات

ایکس پر ایک علیحدہ پوسٹ میں ڈوروف نے الزام لگایا کہ ’ریلائنس کمیونیکیشنز‘ ’بی جی پی ہائی جیکنگ‘ (BGP hijacking) تکنیک کے ذریعے ہندوستان سے باہر کے صارفین کیلئے ٹیلی گرام کی کنیکٹیویٹی کو جان بوجھ کر سبوتاژ کر رہی تھی۔ انہوں نے قیاس آرائی کی کہ یہ معاملہ ریلائنس جیو (Jio) میں میٹا (Meta) کے حصص سے جڑا ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ٹیلی گرام اور میٹا کی معروف میسیجنگ ایپ واٹس ایپ کے درمیان ”رقابتی جنگ“ چلی آرہی ہے۔ 

تاہم، ٹیلی کام انڈسٹری کے ایک سینئر ذرائع نے اسے ”جھوٹی خبر“ قرار دے کر مسترد کر دیا اور نشان دہی کی کہ ڈوروف نے ریلائنس کمیونیکیشنز (جو زیرِ سمندر کیبل آپریشنز سنبھالتی ہے) کو ایک الگ کمپنی جیو (Jio) کے ساتھ خلط ملط کر دیا ہے، جس میں میٹا کے پاس صرف اقلیتی اور غیر آپریشنل حصص ہیں۔ ذرائع نے دوروف کے دعوے کو ٹیلی کام شعبے کی کم فہمی یا ”جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش“ قرار دیا، جس سے ڈوروف کے مجموعی بیانیے کی ساکھ پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف، عام صارفین پر پابندی کے غیرمتناسب اثرات کے بارے میں ان کی بنیادی تنقید کو عوامی سطح پر پذیراٰئی مل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کا ٹیلی گرام بندش پراعتراض ،حکومت کا اقدام عارضی حل قرار

ٹیلی گرام پر پابندی دراصل دھوکہ دہی کو نہیں روک سکتی: این ٹی اے کا اعتراف

اگرچہ حکام نیٹ یو جی کے دوبارہ امتحان سے قبل ٹیلی گرام پر پابندی کا دفاع کر رہے ہیں، لیکن نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ابھیشیک سنگھ نے کھلے عام اعتراف کیا کہ یہ پابندی پیپر لیک سے جڑی دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کو مکمل طور پر نہیں روک سکتی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیلی گرام چینلز کے آپریٹرز اس پابندی سے بچنے کیلئے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این VPN) کا استعمال کرتے ہوئے محض ٹیلی گرام چینلز چلانا جاری رکھ سکتے ہیں۔ ان کا جواز یہ تھا کہ عام صارفین کیلئے رسائی بند کرنے سے کم از کم دھوکہ بازوں کے ”گاہکوں“ میں کمی آئے گی۔ 

این ٹی اے نے پورے پلیٹ فارم پر پابندی کو ”آخری حربے کے اقدام“ کے طور پر بیان کیا اور تسلیم کیا کہ مخصوص چینلز کو ہٹانے کی کوششیں پہلے ہی ناکام ہو چکی تھیں۔ ایجنسی نے اس بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی کہ ایک ہفتے طویل بلیک آؤٹ ہی واحد آپشن کیوں بچا تھا۔

ٹیلی گرام پر پابندی سے طلبہ پریشان، پابندی کو ’سزا‘ قرار دیا

مرکزی حکومت کے ٹیلی گرام پر پابندی کے فیصلے کا خمیازہ فوری طور پر ان طلبہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو جائز مقاصد کیلئے ٹیلی گرام پر انحصار کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک صارف اپوروا جین نے پوسٹ کرکے بتایا کہ اس پابندی کی وجہ سے ان کا بھائی نیٹ پی جی (NEET PG) امتحان کے اسٹڈی نوٹس، ویڈیو لیکچرز اور اسٹڈی گروپس تک رسائی سے محروم ہوگیا۔ انہوں نے لکھا کہ ”نیٹ یو جی (NEET UG) کو لیک ہونے سے روکنے کیلئے، حکومت نے ہزاروں ایماندار امیدواروں کی ٹیلی گرام تک رسائی چھین لی۔“ انہوں نے مزید کہا: ”لیک کرنے والا اصل مجرم آزاد گھوم رہا ہے۔ لیکن ذریعے (ٹیلی گرام ایپ) پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اور اس کی سزا طلبہ کو مل رہی ہے۔“ جین کی یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی اسے ری پوسٹ کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ 

دیگر صارفین نے بھی اسی طرح کی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے نوٹ کیا کہ ملک میں ٹیلی گرام کو سنجیدہ تعلیمی مواد، قانونی دستاویزات، پیڈ لیکچرز، کوڈ فائلز اور پروفیشنل پورٹ فولیو کیلئے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے جنہیں چند عناصر کے کرتوتوں کی وجہ سے سات دنوں کیلئے ناقابلِ رسائی بنا دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK