مشہور مصرعہ ہے: ’’کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری‘‘۔ ٹماٹر کی مہنگائی سے کچھ لوگوں کی بن آئی ہے۔
EPAPER
Updated: July 19, 2023, 12:08 PM IST | Mumbai
مشہور مصرعہ ہے: ’’کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری‘‘۔ ٹماٹر کی مہنگائی سے کچھ لوگوں کی بن آئی ہے۔
مشہور مصرعہ ہے: ’’کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری‘‘۔ ٹماٹر کی مہنگائی سے کچھ لوگوں کی بن آئی ہے۔ وارانسی میں ایک ٹیٹو والا، ہر گاہک کو ٹیٹو بنوانے پر ایک کلو ٹماٹر مفت دے رہا ہے۔ پونے کے ایک کسان نے ٹماٹر کی اپنی فصل سے ایک ماہ میں ۲ء۸؍ کروڑ روپے کمالئے۔ گرداسپور (پنجاب) کے ایک جوتے کے دکاندار نے ایک جوڑی جوتے پر ۲؍ کلو ٹماٹر مفت دینے کا اعلان کیا اور اس کی دُکان پر بھیڑ لگ گئی۔ اشوک نگر(ایم پی) میں ایک موبائل شاپ والے نے ہر اسمارٹ فون کی خریداری پر ۲؍ کلو ٹماٹر مفت دینے کا اعلان کیا اور اس کی دکان چل نکلی۔
یہ وہ خبریں ہیں جو مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر موجود ہیں۔ ہم ان کی صداقت سے واقف نہیں ہیں کہ آیا ان کا مقصد ٹماٹر کی قلت اور مہنگائی پر عوام کی توجہ مرکوز رکھنا ہے یا واقعی عوام اس حد تک پریشان ہیں کہ اخبارات اور ویب سائٹس کو اس سے متعلق خبریں شائع کرنی پڑرہی ہیں؟ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ جن دکانداروں نے مفت ٹماٹر کا آفر دیا ہے اُن کی دُکان پر واقعی بھیڑ ہے یا صرف خبریں ہی بن رہی ہیں، مگر، ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ٹماٹر جتنا موضوع بحث رہا، اُتنا منی پور نہیں رہا۔ اسی لئے یہ شبہ بھی ہوتا ہے کہ ممکن ہے ٹماٹر کی قلت اور اس کے نتیجے میں ٹماٹر کی مہنگائی کے سبب سبزی ترکاری کے بازار سے زیادہ خبروں کا بازار گرم ہونے کی سیاسی وجہ بھی ہو۔ بہرکیف، گزشتہ ایک ماہ سے ٹماٹر خاصا موضوع بحث ہے۔ اتنی تو بے چاری پیاز بھی نہیں تھی جس کی قلت سے سیاسی درجۂ حرارت اس قدر بڑھ جاتا تھا اور اتنا شوروغوغا ہوتا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ پیاز کی مہنگائی ہی کے سبب دہلی میں شیلا دکشت حکومت کو زوال کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔
ٹماٹر کی قلت اور مہنگائی کی مختلف وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بہت سادا ’’ڈیمانڈ اینڈ سپلائی‘‘ کا معاملہ ہے مگر ہمارے خیال میں یہ وجہ نہیں ہوسکتی کیونکہ ٹماٹر جلدی خراب ہونے والی شے (پیریشیبل کموڈیٹی) ہے جسے زیادہ عرصہ تک ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے خیال میں یہ ٹماٹر کی کاشت کے نقصان کے سبب ہے مگر یہ غیر یقینیت ہر سال ہوتی ہے اس کے باوجود ملک میں ۲۲؍ ملین ٹن ٹماٹر ہر سال پیدا کیا جاتا ہے جبکہ اس کی کھپت ۲۰؍ ملین ٹٹن ہے۔ چونکہ بہت زیادہ مقدار برآمد نہیں ہوتی اس لئے یہ کام حکومت کا ہے کہ وہ جانے کہ مسئلہ کہاں ہے؟
قلت کا ایک سبب زرعی مسائل سے حکومت کا تغافل ہے۔ ہندوستان میں زراعت کوئی صنعت نہیں ہے جس میں کام مشین کے ذریعہ ہوتا ہے۔ زراعت کا مکمل انحصار موسمی تغیرات پر ہے۔ دور حاضر میں موسمی تغیرات غیر معمولی اور غیر متوقع ہوگئے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ کب شدید بارش کے سبب سیلاب آجائیگا اور کب بارش بالکل نہیں ہوگی۔ موسم اعتدال میں رہیں تو زرعی پیداوار بھی اعتدال میں رہتی ہے۔ اس بے اعتدالی یا عدم توازن کو آپ اس طرح بھی دیکھ سکتے ہیں کہ اگر گزشتہ دنوں ٹماٹر ۱۵۰؍ تا ۲۰۰؍ روپے کلو فروخت ہورہا تھا تو اس سے چند ماہ قبل ناراض کسان سڑک پر ٹماٹر پھینک رہے تھے کیونکہ اس کی قیمت ایک روپے یا دو روپے فی کلو ہی مل رہی تھی۔ چند ماہ میں ایسا کیا ہوگیا کہ معمولی قیمت پر فروخت ہونے والا ٹماٹر غیر معمولی قیمت میں بکنے لگا؟ حکومت کو یہ لازماً معلوم کرنا چاہئے تاکہ عوام یہ شبہ نہ کریں کہ یہ قلت منی پور سے توجہ ہٹانے کیلئے ہے ۔