• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

’’کل، ان شاء اللہ، تم تبوک کے چشمے پر سورج نکلنے کے بعد پہنچوگے‘‘

Updated: November 24, 2023, 1:20 PM IST | Molana Nadimul Wajidi | Mumbai

سیرت النبیؐ کی اِس خصوصی سیریز میں غزوۂ تبوک کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سفر میں بھی منافقین کی شرارتیں جاری تھیں جو نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخی بھی کرتے تھے۔ اللہ رب العزت آپؐ کو اس کی اطلاع فرما دیتے تھے۔ آج کی قسط میں منافقین کی ایسی ہی ایک شرارت کا واقعہ اور لشکر اسلام کے تبوک پہنچنے کی پیشین گوئی ملاحظہ فرمائیے۔ آپؐ کی خدمت میں ایلہ کے بادشاہ کی حاضری اور آپؐ کا فرمان بھی آج ہی کی قسط میں پڑھئے۔

Dumat al-Jandal is an ancient city located in the northwestern part of Saudi Arabia in Al-Jawf province. Photo: INN
دومۃ الجندل قدیم شہر ہے جو سعودی عرب کے شمال مغربی حصے صوبہ الجوف میں میں واقع ہے۔ تصویر : آئی این این

منافقین کی شرارتیں 
مسلسل معجزات دیکھ کر بھی منافقین اپنی حرکتوں سے باز نہ آتے تھے اور کوئی نہ کوئی بات ایسی کہہ دیتے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہوتی تھی، کچھ نہیں تو بے ہودہ اعتراضات ہی کرتے رہتے تھے۔ صحابہؓکو ورغلانا بھی ان لوگوں کا معمول تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشیں کرنا بھی ان کا طریق تھا۔ جب ان کی کوئی سازش پکڑی جاتی تو صاف مُکر جاتے اور جھوٹی قسمیں کھا کھا کر کہنے لگتے کہ ہم نے تو کچھ بھی نہیں کہا، یا یہ کہتے کہ ہم تو مذاق کررہے تھے۔ تبوک کے موقع پر متعدد مجلسوں میں منافقین کی یہ شرارتیں سامنے آئیں ، ایک مجلس میں کسی منافق نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو بس کان ہیں ، کسی سے کوئی بات سن لیتے ہیں اس کا یقین کرلیتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی، قرآن نازل ہوا، جس میں ان کے لئے سخت تنبیہ تھی تو کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم تو مذاق میں ایسا کہہ رہے تھے۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: کیا تم اللہ کا، اس کے احکام کا اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے ہو؟ حضرت قتادہؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم غزوۂ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر تھے، کچھ منافقین بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے کہ اس شخص کا خیال ہے کہ شام کے محلات اور اس کے قلعے اس کے قبضے میں آنے والے ہیں ۔ یہ کہہ کر وہ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام باتوں سے اپنے نبی کو مطلع کردیا، آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا: ان لوگوں کو پکڑ کر رکھو، آپؐ ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے پوچھا:’’ کیا تم نے ایسا ایسا کہا تھا؟‘‘ وہ کہنے لگے ’’یارسولؐ اللہ! ہم نے کہا ضرور مگر ہم تو مذاق میں کہہ رہے تھے۔‘‘ ان منافقین کی مذمت میں سورۂ توبہ کی چند آیات نازل ہوئیں جن میں ان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’’تمہاری باتیں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مکارم اخلاق کی بنا پر خاموش رہتے ہیں ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے، اور تمہاری معذرت قبول کرکے تمہاری سچائی کے قائل ہوجاتے ہیں ، وہ اپنی شرافت نفس اور بلندیٔ اخلاق کی بنا پر تمہیں کچھ نہیں کہتے اور نہ تمہارے منہ پر تمہاری تردید کرتے ہیں ، ورنہ انہیں سب معلوم ہوجاتا ہے۔ ‘‘ (تفسیر الدر المنثور للسیوطی: ۴/۲۳۰)
لشکر اسلام تبوک میں 
تبوک پہنچنے سے ایک دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرامؓ سے ارشاد فرمایا کہ کل تم ان شاء اللہ تبوک کے چشمے پر سورج نکلنے کے بعد پہنچوگے، خبر دار کوئی بھی شخص اس وقت تک چشمۂ آب سے پانی نہ پئے اور نہ اس میں ہاتھ ڈالے جب تک میں وہاں نہ پہنچ جاؤں ۔ سوء اتفاق سے دو اشخاص پہلے وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے پانی بھی استعمال کرلیا۔ جس وقت آپؐ چشمے پر تشریف لائے تو وہاں پانی کی ایک پتلی سی دھار بہہ رہی تھی، آپؐ نے پوچھا کیا کوئی شخص یہاں پہلے پہنچا ہے، اور کیا کسی شخص نے اس چشمے سے پانی لے کر پیا ہے؟ ان دونوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ہم سے یہ حرکت سرزد ہوئی ہے۔ آپؐ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا، اس کے بعد آپؐ نے چشمے سے کچھ پانی لیا، اس سے چہرۂ مبارک دھویا اور اس پانی کو چشمے کے اندر ڈال دیا، دیکھتے ہی دیکھتے چشمہ ابل پڑا، سب نے پانی پیا اور ضرورت کیلئے برتنوں میں بھی لیا، آپ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے جو آپؐ کے قریب میں تھے فرمایا: اے معاذ! اگر تمہاری عمر زیادہ ہوئی تو تم دیکھوگے کہ اس پانی سے یہاں کے تمام باغات سیراب ہوں گے۔
 (زاد المعاد: ۳/۳۹۰)
ایلہ کے بادشاہ کی حاضری
تبوک میں قیام کے دوران ایک اہم واقعہ یہ پیش آیا کہ ایلہ نامی بستی کا حاکم حاضر خدمت ہوا، اس نے مصالحت کی درخواست پیش کی، آپؐ نے اس کی درخواست منظور فرمالی، اسی طرح جربا اور اُذَرُح والے بھی مصالحت کیلئے حاضر ہوئے، انہیں اسلام کی دعوت دی گئی، انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بجائے جزیہ دینا منظور کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان بھی لکھ کر دیا، اس کا مضمون یہ تھا: ’’اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یُحَنَّۃُ بن رُؤیَۃ کے لئے اور ایلہ والوں کیلئے امان نامہ ہے، ان کی کشتیاں ، ان کے مسافر، جو خشکی میں سفر کررہے ہوں یا سمندر میں ، وہ خدا اور اس کے رسولؐ کی ذمہ داری میں ہیں ، اسی طرح وہ لوگ بھی اللہ اور اس کے رسولؐ کی ذمہ داری میں ہیں جو اہل شام، اہل یمن یا اہل بحر میں سے ان کے ساتھ ہیں ، اگر کوئی ان کے ساتھ خلافِ معاہدہ پیش آئے گا تو وہ اپنے آپ کو اور اپنے مال کو نہیں بچا پائے گا اور وہ اسی کا ہوجائے گا جو اس کو لے گا، جو راستہ بھی خشکی کا یا پانی کا ان کی طرف جاتا ہو اس کو روکنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ‘‘(زاد المعاد: ۳/۳۹۱) 
حضرت خالد بن ولیدؓ دومۃ الجندل میں 
تبوک میں قیام کے دوران رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو چار سو بیس سواروں کے ساتھ دومۃ الجندل روانہ فرمایا، ان دنوں وہاں ایک عیسائی شخص اُکَیْدَرْ بن عبدالملک کی حکومت تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالدؓ سے فرمایا کہ اُکَیْدَرْ تمہیں گائے کا شکار کرتے ہوئے ملے گا۔ خالد بن ولید وہاں پہنچے، رات کا وقت تھا، ہر طرف چاندنی بکھری ہوئی تھی، اُکَیْدَرْ اور اس کی بیوی دونوں محل کے بالا خانے پر بیٹھے ہوئے تھے، اتفاقاً اُدھر ایک گائے نکل آئی اور محل کے دروازے سے سر ٹکرانے لگی، اکیدر کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ کیا تونے کبھی یہ منظر دیکھا ہے، آسمان پر چاند روشن ہے، رات پرسکون ہے، اور شکار تیرے دروازے پر ہے، اکیدر نے کہا واقعی یہ بڑا خوب صورت منظر ہے، بیوی نے کہا کہ پھر ایسا بہترین موقع کون چھوڑ سکتا ہے۔ بیوی کے اُکسانے پر اکیدر بالا خانے سے اتر کر نیچے آیا، گھوڑے پر زین کسی، کچھ لوگوں کو جن میں اس کا سگا بھائی حسّان بھی تھا اپنے ساتھ لیا اور باہر نکل گیا، ابھی یہ لوگ کچھ ہی دور گئے ہوں گے کہ حضرت خالد بن ولیدؓ اپنے شہ سواروں کے ساتھ مل گئے، انہوں نے اُکَیْدَرْ کو گرفتار کرلیا، حسّان کو قتل کردیا، اس نے سونے کے تاروں سے بنا ہوا جو کرتا پہن رکھا تھا وہ اتار کر اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کردیا، بعد میں اکیدر کو لے کر مدینہ منورہ اس وقت پہنچے جب آپ تبوک سے واپس تشریف لا چکے تھے۔
 سرکار دوعالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُکیدر کو جزیہ دینے کی شرط پر چھوڑ دیا، وہ واپس چلا گیا۔ (زاد المعاد: ۳/۳۹۲)
علامہ ابن القیمؒ نے ابن سعد کے حوالے سے یہ واقعہ اس طرح بھی لکھا ہے کہ حضرت خالد بن ولیدؓ چار سو بیس سواروں کے ساتھ دومۃ الجندل پہنچے، اور اکیدر سے کہلوایا کہ اگر وہ شہر کے دروازے کھول دے تو وہ اُسے رسولؐ اللہ کی خدمت میں پیش کرنے سے پہلے قتل نہیں کرینگے، اس نے دروازہ کھول دیا، اور بہ طور مصالحت جزیہ دینا قبول کرلیا، اکیدر نے دو ہزار اونٹ، آٹھ سو جانور، چار سو زرہیں ، اور چار سو تیر کمان حضرت خالد بن ولیدؓ کے حوالے کئے، حضرت خالدؓ نے پہلے تو آپؐ کا حصہ الگ کیا، پھر تمام مال غنیمت ساتھیوں میں تقسیم کردیا۔ خالد بن ولیدؓ اکیدر کو لے کر مدینہ منورہ پہنچے، آپ نے اس کی مصالحت قبول فرمالی، اور دومۃ الجندل کی حکمرانی کی تحریر لکھ کر اسے دے دی۔ (زاد المعاد: ۳/۳۹۲)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK