Inquilab Logo Happiest Places to Work

تربیت بار بار توجہ کا متقاضی عمل ِ مسلسل ہے

Updated: December 10, 2021, 2:34 PM IST | Dr. Naeem Anwar Nomani

توجہ کا تسلسل ہی انسان کو کسی اعلیٰ عادت پر ثابت قدم رکھتا ہے اور یہی استقامت انسانی شخصیت کی شناخت بن جاتی ہے۔ تربیت پانے والا آہستہ آہستہ اپنی صفات کے کمال کی طرف بڑھتا ہے

Whether he is a father or a teacher, he is the leader of the nation or the ruler of the nation..Picture:INN
وہ باپ ہو یا استاد ہو، قوم کا سردار ہو یا قوم کا حاکم ہو، اس کی ذمہ داری کلمہ خیر اور کلمہ نصیحت کرتے رہنا ہے۔ تصویر: آئی این این

تربیت کے عمل سے انسانی زندگی کی رفعت اور عظمت وابستہ ہے۔ ایک عمدہ اور اعلیٰ ترین تربیت کے اثرات انسان کی شخصیت میں اس طرح ظاہر ہوتے ہیں جیسے زمین میں کاشت کئے گئے بیج کے اثرات ایک بہترین پودے، درخت اور میٹھے پھل کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بیج اور زمین جس قدر اعلیٰ ہوگی، اسی قدر اس کی پیداوار بھی اعلیٰ و ارفع ہوگی۔ اسی طرح انسان کی اعلیٰ شخصیت اس کی ارفع تربیت کی آئینہ دار ہوتی ہے۔اگر انسان کی عمدہ تربیت کی جائے تو معاشرہ  میں اس کی قدرو قیمت اور فضیلت و اہمیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ تربیت کا آغاز بہترین پرورش اور عمدہ آدابِ حیات سکھانے سے شروع ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ تربیت اپنے ارتقائی مراحل طے کرتی رہتی ہے۔ جوں جوں انسان کی ذات میں تربیت کا غلبہ نمایاں ہوتا چلا جاتا ہے، انسانی شخصیت اسی قدر نکھرتی چلی جاتی ہے۔تربیت ایک عملِ مسلسل ہے اور یہ بار بار توجہ کا متقاضی ہے۔ توجہ کا تسلسل ہی انسان کو کسی اعلیٰ عادت پر ثابت قدم رکھتا ہے اور یہی استقامت انسانی شخصیت کی شناخت بن جاتی ہے۔ تربیت پانے والا آہستہ آہستہ اپنی صفات کے کمال کی طرف بڑھتا ہے اور انسان کے اندر موجود خوبی رفتہ رفتہ ترقی و ارتقاء کا مرحلہ طے کرتی ہے۔
تربیت کے لئے تعلیم  ناگزیر
تربیت کا لازمی تقاضا تعلیم ہے۔ تعلیم ہی تربیت کے نقوش متعین کرتی اور اس کی جہات مختص کرتی ہے۔ عمدہ تعلیم اچھی تربیت کا ایک لازمی وظیفہ ہے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے امت کو کتاب کی تعلیم بھی دی اور تعلیم ِ حکمت سے بھی سرفراز کیا ۔ تربیت ِ افراد کے ضمن میں قرآن مجید نے رسول اللہ ﷺ کے اس عملِ تعلیم کا ذکر یوں کیا ہے۔ ارشاد فرمایا: ’’آپ ﷺ انہیں کتاب و حکمت کی باتیں سکھاتے ہیں۔‘‘(البقرہ)تعلیم و تربیت کے امتزاج سے ہی ایک انسان کی شخصیت بہترین بنتی ہے۔ تعلیم و تربیت جس قدر عمدہ ہوگی، اسی قدر اعلیٰ و ارفع شخصیت کا ظہور ہوگا۔ ایک اچھے معاشرہ کا قیام مثالی تعلیم و تربیت کے بغیر ممکن نہیں۔ معاشرہ افراد سے تشکیل پاتا ہے اور اعلیٰ فرد عمدہ تعلیم و تربیت سے بنتا ہے۔ ایمان انسان کے لئے بمنزلہ تعلیم کے ہے اور تربیت اس ایمان پر عمل کا نام ہے۔ تربیت انسان کے لئے نجات کا باعث بنتی ہے جبکہ تربیت کا فقدان انسان کے لئے ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔
تربیت کی عمومیت اور مربیّ کی ذمہ داری
ہر بڑے منصب والا خواہ وہ باپ ہو، استاد ہو، قوم کا سردار ہو یا قوم کا حاکم ہو، اس کی ذمہ داری کلمہ خیر اور کلمہ نصیحت کرتے رہنا ہے۔ یعنی وہ اپنی قوم کو ضرور کلمہ حق کہے اور ہر اچھے عمل کے لئے ان کی تربیت کا اہتمام کرے۔ اسلام نے تربیت کے عمل کو محدود نہیں کیا بلکہ تربیت کے عمل میں وسعت کو اختیار کیا ہے۔ تربیت کا لفظ اسلامی تعلیمات کی رُو سے اپنے اندر معنی کی وسعت اور جامعیت رکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر نگہبان سے اس کے زیرِ تربیت افراد کی حفاظت و نگہبانی کے بارے میں سوال کرے گاکہ آیا اس نے اس حقِ تربیت کی حفاظت کی ہے یا اسے ضائع کردیا ہے۔‘‘  (ابن حبان، الصحیح، کتاب السیر)
راع صحیح معنوں میں وہی ہے جو اپنے زیرِ تربیت افراد کی جملہ پہلوؤں سے عمدہ اور بہتر تربیت کرے اور ان کے کسی بھی حقِ تربیت کو ضائع نہ کرے۔ ہر  بچے کے والد پر، ہر قوم کے حاکم پر اور ہر شاگرد کے استاد پر اس کے زیرِ عاطفت کا حقِ تربیت ہے اور اگر ہر سطح کا مربیّ اپنا فرضِ تربیت ادا کردے تو ہر سطح کے زیرِ تربیت افراد کا حقِ تربیت ادا ہوجائے گا۔
ایمان اور عملِ صالح کی تربیت
تعمیر شخصیت کا صحیح زمانہ بچپن ہے۔ بچپن میں اگر افراد کی اعلیٰ انداز میں تربیت کا اہتمام کردیا جائے تو یہی تربیت انسان کی اعلیٰ اور ارفع شخصیت کی بنیاد اور اساس بن جاتی ہے۔ سرکار دو عالم  رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اپنی اولاد کی عزت افزائی کرو اور ان کو آداب سکھاؤ۔‘‘ (ابن ماجه، السنن، کتاب الادب باب برالوالدین)
اس حدیثِ مبارک نے تربیتِ افراد کا ایک بہترین اصول ہمارے لئے عیاں کیا ہے کہ اصولِ تکریم سے حصولِ تادیب کی منزل حاصل کرو۔ تربیت کانکتہ آغاز تکریم ہے اور اس کا نتیجہ تادیب ہے اور تربیت، تہذیبِ عادات اور اصلاحِ ذات کا نام ہے۔ جب تربیت اپنے حقیقی تصور کے ساتھ دی جائے تو یہ عملِ تربیت، نتیجہ خیز ہوجاتا ہے۔ تربیت ِ افراد کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ نے ایمان اور عملِ صالح کی تربیت کا بھی خصوصی التزام کیا ہے۔ ایک شخص اگر ایمان میں مضبوط اور عمل میں پختہ ہوجائے تو یہ اس کے تربیت یافتہ ہونے کی ایک واضح شناخت اور علامت ہے۔
ایمان اور عمل ِ صالح انسان کو اعلیٰ تربیت کی طرف گامزن کرتا ہے اور ہر طرح کے نقصان اور خسارے سے محفوظ کرتا ہے۔ کسی بھی تربیت کا کمال یہ ہے کہ انسان کی سوچ کو مفید بنادیا جائے اور عمل کو نافع بنادیا جائے۔ یہ مقصد ہمیں ایمان اور عملِ صالح سے حاصل ہوتا ہے۔ ایمان سوچ کو کار آمد اور مفید بناتا ہے جبکہ عملِ صالح انسانی عمل کو نفع بخش بناتا ہے۔ ان دونوں چیزوں پر عمل کرنے والا ہی تربیت یافتہ انسان قرار پاتا ہے۔
تربیت کا حسن؛ صفتِ اطاعت کا نمو
اطاعتِ الہٰی اور اطاعتِ رسول ﷺ کا عمل جب ایک تربیتی عمل بن کر انسان کی شخصیت کا حصہ بنتا ہے تو انسان کی شخصیت پُر وجاہت اور رعب دار بن جاتی ہے۔ انسان اطاعت کے عمل کے باعث دوسروں کے لئے قابلِ تقلید ٹھہرتا ہے۔ انسانی تربیت کا کمال یہ ہے کہ انسان اپنے عمل میں اطاعت ِ رسول ﷺ سے مطابقت اور سیرتِ رسولؐ سے موافقت اختیار کرلے۔
 عمل ِ اطاعت، عمدہ تربیت سے نمو پاتا ہے۔  اگر تربیت میں کسی قسم کی کجی رہ جائے تو اطاعت کا عمل ثمر آور نہیں ہوتا۔ عمدہ تربیت کا پہلا اصول ہی اطاعت و پیروی ہے۔ اسی لئے قرآن مجید نے متعدد مقامات پر ایک مومن سے بار بار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا مطالبہ کیا ہے، اس اطاعت سے روگردانی کو ناکامی قرار دیا ہے اور اس اطاعت پر عملی پابندی کو کامیابی قرار دیا ہے۔ اس پس منظر میں سمجھا جاسکتا ہے کہ انسانی ارتقاء میں صالح تربیت کتنی اہم ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK