• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اللہ پر حقیقی ایمان محبت الٰہی کا ایسا سرچشمہ ہے جو عزم انسانی کو مہمیز کرتا ہے

Updated: October 04, 2025, 2:53 PM IST | Dr. Abu Saad Azmi | Mumbai

اسلام کے نزدیک افراد میں اونچ نیچ اور تفاوت کا معیار تقویٰ اور عمل صالح ہے اور تفاوت کا یہ اصول اسلام سے تعلق رکھنے والے تمام ہی افراد کے درمیان عدل و انصاف کو بروئے کار لاتا ہے۔

A person who is aware of the reality of faith in Allah is convinced that self-purification and righteous deeds are the only means of prosperity, success, and salvation. Photo: INN
ایمان باللہ کی حقیقت سے واقف شخص کو یقین ہوتا ہے کہ تزکیہ نفس اور عمل صالح ہی فلاح وکامرانی اور نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ تصویر: آئی این این

اللہ تعالیٰ پر حقیقی ایمان کے بغیر انسان ہوا کے دوش پر اڑنے والے پر کی طرح ہے جسے کسی صورت قرار میسر نہیں ہوتا۔ دین اسلام کے بغیر انسان کی حیثیت ایک حریص جانور یا وحشی درندے کی ہے جسے کوئی ثقافت اور قانون اس کی طمع وحرص اور درندگی سے باز نہیں رکھ سکتا۔ ایسا معاشرہ جس میں دین کا صحیح تصور اور مضبوط ایمان نہ ہو وہ وحشی اورظالم معاشرہ ہے، اگرچہ اس میں جدید ثقافت کی بجلیاں کوندتی ہوں اور مادی اسباب اور عیش وعشرت کے وافر سازوسامان فراہم ہوں۔ اس معاشرہ میں طاقتور ہی کو تحفظ حاصل ہے۔ نیک اور متقی کیلئے جائے قرار نہیں۔ وہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں لوگوں کے چہرہ پر بدبختی اور ہلاکت پڑھی جاسکتی ہے، اگرچہ وہ اس پر تہذیب و ثقافت کا غازہ ہی کیوں نہ مل لیں، انہیں مادی آسائش و سہولیات حاصل ہوں، جہاز پر سوار ہوں، عمارتیں تعمیر کریں اور دولت کی ریل پیل ہو اس کے باوجود وہ حقیر، کمزور اور بے وقعت معاشر ہ ہے، اس لئے کہ اس میں لوگوں کے اہداف معمولی اور مقاصد سطحی ہیں۔ پیٹ اور شرم گاہ سے آگے انہیں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے: جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی وہ جانوروں کی طرح کھاپی رہے ہیں اور لطف اندوز ہورہے ہیں اور آگ ان کا ٹھکانہ ہے۔ 
اس کے برعکس ایمان واسلام کی اساس پر تعمیر کردہ معاشرہ میں محبت الٰہی کی فراوانی ہے، حکم الٰہی کی تعمیل کا جذبہ ہے۔ وہی زندگی کا خالق اور حسن خلق سے آراستہ کرنے والا ہے۔ امر ونہی کا مطلق اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور انسان کی اپنے خالق ومالک اور پروردگار سے محبت فطری ہے۔ اس لئے کہ نفس فطرتاً محسن کے احسان شناس ہوتے ہیں ۔ تخلیق انسانی سے بڑھ کر احسان اور کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی بہترین ساخت بنائی اور مطیع و فرماں بردار بندہ کیلئے ایسی جنت کا وعدہ کیا جو انسان کے تصور سے بھی خارج ہے۔ اسی وجہ سے بندۂ مومن کو اپنے رب سے ایسی اٹوٹ محبت ہوتی ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ وہ اپنا اور اپنے اہل وعیال کا جان و مال اللہ کی راہ میں بغیر کسی تردد اور ادنیٰ شائبہ کے قربان کردیتا ہے، بلکہ اسے وہ اللہ تعالیٰ کا، جو اُس کا رب ہے، فضل عظیم سمجھتا ہے۔ 
اللہ پر حقیقی ایمان محبت الٰہی کا ایسا سرچشمہ ہے جو عزم انسانی کو مہمیز کرتا ہے اور اسے فرائض کی ادائیگی اور منہیات سے اجتناب پر آمادہ کرتا ہے۔ اللہ پر ایمان جس درجہ قوی ہو اور محبت الٰہی کی جس قدر فراوانی ہو، اسی کے بقدر طاقت و قوت اور استقامت نصیب ہوتی ہے۔ تلخی شیرینی میں اور تکدر انشراح قلب میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ درد شفاء اور آزمائش راحت کے روپ میں ڈھل جاتی ہے اور اہل حق کی نصرت و اعانت میں کوتاہی خیانت اور اسلام سے پھر جانے سے تعبیر ہوتی ہے۔ 
اللہ کے باب میں محبت رضائے الٰہی سے بھی خاص اور اثر انگیز ہے اس طور پر کہ معاشرہ میں ہم آہنگی اور حقوق انسانی کی ادائیگی کا وہی تنہا ضامن ہے۔ اسی وجہ سے حدیث میں ارشاد ہے: ’’جنت میں اُس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے کہ مومن ہوجاؤ، اور مومن اُس وقت تک نہیں ہوسکتے کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اس کا التزام کروگے تو آپس میں الفت ومحبت پید ا ہوگی، اپنے درمیان سلام کو عام کرو۔ ‘‘
اللہ کے لئے محبت کی حقیقت اسی وقت مکمل ہوسکتی ہے کہ اللہ کی پسند وناپسند کے باب میں رضائے الٰہی کا خیال رکھا جائے۔ اسی وجہ سے کامل ترین اخلاق اور اعلیٰ وافضل ایمان اس شخص کا ہے جو محبت الٰہی کے باب میں ان میں سب سے زیادہ اللہ سے قریب ہو اور اللہ کی اطاعت میں سب سے زیادہ مضبوط اور اس کی بندگی میں گویا مستغرق ہو، ڈوبا ہوا ہو۔ 
ان صفات کا لازمی نتیجہ محبت ِ رسولؐ اورآپؐ کے پیغام ومشن سے محبت ہوگی۔ جان ومال کو اہل ایمان پر قربان کرنے اور آپؐ کو اپنی ذات پر ترجیح دینے کا جذبہ پروان چڑھے گا، اس لئے کہ آپؐ کی حیثیت حزب اللہ کی ہے اور حزب اللہ کی معیت میں جو شامل ہوجائے وہ دنیا وآخرت دونوں جہاں میں کامیاب ہے۔ اللہ تعالیٰ پر حقیقی ایمان اور اللہ کے باب میں محبت اور ان کے اثرات ونتائج کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ اگر اللہ پر ایمان مضبوط ہو تو اللہ کے باب میں محبت میں اضافہ ہوگا اور اس کے نتائج و ثمرات میں بھی اضافہ ہوگا۔ امت مسلمہ کی حیثیت جسم میں خون کے ان خلیوں کے طرح ہوجائے گی جو ایک ہی مقصد اور ہدف کے تحت اور ایک ہی دائرہ ٔکار میں سرگرم عمل ہوتے ہیں۔ 
تب اُمت مسلمہ ایک زندہ، مضبوط اور سیسہ پلائی ہوئی دیوارمیں تبدیل ہوجائے گی جو اپنے اور ساری انسانیت کے باب میں اپنے مشن، پیغام اور اپنے عظیم کردار ادا کرنے پر قادر ہوگی۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دین وایمان کے رشتہ کو تمام دیگر جاہلی روابط مثلا خون، رنگ ونسل، زبان ووطن، پیشہ اور طبقہ وغیرہ پر مقدم رکھا ہےبلکہ ان تمام جاہلی رشتوں پر فوقیت دی ہے جو دوستی ودشمنی، بغض ونفرت اور محبت کے سلسلے میں اسلام کے اصول سے ہم آہنگ نہ ہوں اور اس سے مختلف ہوں۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں فرقوں اور قبائل میں تقسیم کیا تاکہ تمہارا تعارف ہوسکے۔ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مکرم وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو۔ بے شک اللہ جانتا ہے اور باخبر ہے۔ ‘‘
اسلام کے نزدیک افراد میں اونچ نیچ اور تفاوت کا معیار تقویٰ اور عمل صالح ہے اور تفاوت کا یہ اصول اسلام سے تعلق رکھنے والے تمام ہی افراد کے درمیان عدل وانصاف کو بروئے کار لاتا ہے اور تمام انسانوں میں تقویٰ اور عمل صالح کے علاوہ کسی مزید فرق کو روا نہیں رکھتا۔ حقیقی ایمان اپنے متبعین میں اخوت کا جذبہ پروان چڑھاتا ہے جو اپنے رب کی خوشنودی کے لئے عمل میں مشغول ہوتے ہیں۔ 
ایمان باللہ کا صحیح فہم اور کلمات توحید کے انسانی زندگی پر اثرات
(۱) اس عقیدہ کے استحکام سے نفس میں خودداری اور نخوت پیدا ہوتی ہے اس لئے کہ اس کے بالمقابل کسی دوسری چیز کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کیونکہ نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہی مارنے اور جلانے والی ہے۔ حکومت و اقتدار اور سیادت اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس عقیدہ کے استحکام سے اس کے سوا ہر چیز کا خوف دل سے نکل جاتا ہے۔ لہٰذا انسان کا سر اس کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں جھکتا۔ اسی سے وہ لو لگاتا ہے، اسی کے سامنے آہ وزاری کرتا ہے اور صرف اللہ قادر وعظیم کی عظمت کے ہی گن گاتا ہے۔ 
(۲) ایمان باللہ کے استحکام سے خودداری، عزت نفس کے ساتھ ہی تواضع وانکساری، کبر کے شائبہ کے بغیر سربلندی اور عظمت و رفعت کا احساس پیدا ہوتا ہے چنانچہ وہ شیطان کے فریب میں نہیں آتا اور اپنے قوت وطاقت کی بنا پر اس پر غلبہ پالیتا ہے۔ اس لئے کہ اسے بخوبی اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اللہ قادر عزیز جس نے اسے یہ سب کچھ عطا کیا ہے وہ اسے سلب بھی کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس ملحد کو اگر اس دنیا میں نعمت وفراوانی حاصل ہوتی ہے تو وہ کبر اور غرور میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ 
(۳) ایمان باللہ کی حقیقت سے واقف شخص کو یقین ہوتا ہے کہ تزکیہ نفس اور عمل صالح ہی فلاح وکامرانی اور نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ 
(۴) ایمان باللہ کا ایک لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان مایوسی اور ناامیدی سے دور ہوجاتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ بادشاہت اور تمام خزانے اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہیں۔ اس وجہ سے اطمینان، سکون اور امید کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے خواہ معاش کے راستے اس پر تنگ ہوجائیں یا اسے ذلیل ورسوا کرنے کی کوشش کی جائے۔ 
(۵) ایمان باللہ اور توحید کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر عزم و حوصلہ، پیش قدمی، استقامت اور صبر، توکل علی اللہ، بلند کارناموں کی خواہش وآرزو اور رضائے الہٰی کی طلب پیدا ہوتی ہے۔ یہ احساس اس کے اندر جاگزیں ہوتا ہے کہ اس کی پشت پر مالک ارض و سما ہے۔ چنانچہ اس تصور سے اس کا رسوخ، استقامت اور ثابت قدمی میں چٹان کی سی مضبوطی پیدا ہوجاتی ہے۔ کافر اور مشرک کو اس درجہ کی طاقت و قوت اور استحکام و ثبات کیسے حاصل ہوسکتا ہے؟
(۶) حقیقی ایمان باللہ سے انسان کے اندر عزم و حوصلہ پید اہوتا ہے اور اس کا دل جرأت وبے باکی سے بھرجاتا ہے۔ اس لئے کہ انسان کو بزدل بنانےاوراس کے عزم وحوصلہ کو کمزور کرنے والی دو ہی چیزیں ہیں : نفس، جان ومال اور اہل وعیال کی محبت، اور دوسرے، انسان کا یہ عقیدہ کہ زندگی اور موت کا اختیار اللہ کے سوا کسی اور کے اختیار میں ہے۔ البتہ حقیقی ایمان انسان کے دل سے ان دونوں اسباب کا ازالہ کردیتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ جان ومال کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ چنانچہ رضائے الہٰی کی طلب میں وہ اپنا سب کچھ نچھاور کردیتا ہے۔ یہ عقیدہ اسے یہ اطمینان بخشتا ہے کہ انسان، حیوان، بم اور میزائل، تلوار اور پتھر کوئی بھی اسے زندگی سے محروم نہیں کرسکتے جب تک اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو۔ اس لئے کہ موت و حیات اللہ ہی کے اختیا رمیں ہے۔ اسی وجہ سے دنیا میں مومن سے زیادہ باحوصلہ، جری وبے باک شخص کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ لشکر جرار، تلواروں کے سائے، بندوق کی گولیاں اور مسلسل بمباری بھی نہ تو اسے خوفزدہ کرسکتی ہے اور نہ اس کے پائے ثبات میں لغزشیں پیدا کرسکتی ہے۔ 
(۷)حقیقی ایمان باللہ کے نتیجہ میں انسان حسن اخلاق سے آراستہ ہوتا ہے اور رذائل اخلاق سے پاک وصاف ہوجاتا ہے۔ 
(۸) حقیقی ایمان باللہ کے نتیجہ میں بندہ شریعت الہٰی کا پابند اور اس کا محافظ بن جاتا ہے۔ 
(۹) حقیقی ایمان باللہ کے نتیجہ میں بندہ کی تربیت اس نہج پر ہوتی ہے کہ وہ دعوت دین کا سپاہی بن کر شریعت اسلامیہ کے غلبہ اور دین کے تفوق و تسلط کیلئے سرگرم ہوجاتا ہے۔ روئے زمین پر غلبہ ٔ اسلام کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اس ایمان کو بروئے کار لایا جائے جو اللہ کو مطلوب ہے، اللہ کے رسولؐ نے جس کی وضاحت کی ہے اور صحابہ کرام کی زندگی میں مجسم ہوکر جو نمودار ہوا ہے۔ ایمان مطلوب ہی ہمارے اندر تحریک، بلند ہمتی، اولوالعزمی، سرگرمی، جدوجہد، تربیت، سرفروشی او رسربلندی کی چاہت، عزت، ثبات قدمی اور یقین کی دولت پیدا کرتا ہے۔ 
 (مضمون نگار ادارہ علوم القرآن،  شبلی باغ، علی گڑھ سے وابستہ ہیں )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK