ڈونالڈ ٹرمپ نے برطانیہ، فرانس اورکنیڈا کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف مربوط پابندیوں پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 12:00 PM IST | Washington
ڈونالڈ ٹرمپ نے برطانیہ، فرانس اورکنیڈا کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف مربوط پابندیوں پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے برطانیہ، فرانس اورکنیڈا کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف مربوط پابندیوں پر ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے ان پابندیوں کی مکمل حمایت یا مذمت نہیں کی، لیکن اشارہ دیا کہ وہ تمام متعلقہ فریقوں سے بات چیت کریں گے تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ یہ اب کیوں نافذ کی جا رہی ہیں۔ٹرمپ نے کہا،’’میں نے ابھی یہ دیکھا ہے، اور میں اسرائیل سے بات کروں گا، اور میں ان سے بات کروں گا، اور میں معلوم کروں گا کہ ان کی سوچ کیا ہے۔ میں مکمل طور پر سمجھتا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے، لیکن میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ اچانک کیوں ہوا۔‘‘
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیاجب رپورٹس میں کہا گیا کہ پابندیوں کے اعلان کے بعد ان کی انتظامیہ نے برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم کے ساتھ فون کال کے دوران کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔بعد ازاں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے برطانیہ کے اس اقدام کی مذمت سے گریز کیا اور صرف یہ کہا کہ ”صدر نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔“جبکہ وائٹ ہاؤس نے اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کے ان تبصروں سے بھی خود کو دور کرنے کی کوشش کی، جنہوں نے پابندیوں کو ”یہودی عوام کے خلاف امتیازی سلوک“ اور ”غیر منطقی“ قرار دیا تھا، اور زور دیا کہ ان کا بیان ”وائٹ ہاؤس یا محکمۂ خارجہ“ کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نتن یاہو ایک منٹ بھی اسرائیلی وزیراعظم رہنے کا اہل نہیں، استعفے کا مطالبہ
دراصل برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اس سے قبل مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے تشدد کے حوالے سے بیان بازی تیز کرتے ہوئے ان آباد کاروں کو ”دہشت گرد“ کہا تھا اور ان پر فلسطینیوں کی ”نسلی صفائی“ کا الزام لگایا تھا۔ تاہم اسرائیل نے ان پابندیوں پر مشتعل ردعمل دیا اور جوابی کارروائی میں برطانوی سفارت کاروں کو نکال باہر کیا، مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کیا، اور جیریمی کوربن اور ڈیانا ایبٹ سمیت۱۱؍ بائیں بازو کے برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے داخلے پر پابندی لگا دی۔