بھاگوت جی امریکہ میں آر ایس ایس کے صد سالہ جشن کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے اور انہوں نے بظاہر جو بات کہی تھی وہ اصولی، دستوری اور انسانی معیار پر کھری اترتی ہے مگر دُنیا دیکھ رہی ہے کہ آر ایس ایس کے لیڈروں کے قول و فعل میں کتنا تضاد ہے اس لئے آر ایس ایس سربراہ کی بظاہر اس اچھی بات کا بتنگڑ بنتا گیا۔
موہن بھاگوت جی کا نیویارک میں یہ بیان کہ ’’اگر کوئی ہندو یہ سوچتا ہے کہ بھارت میں مسلمان نہیں ہونا چاہئے تو وہ ہندو نہیں ہے‘‘ جہاں استقبال کا متقاضی ہے وہیں وضاحت طلب بھی۔ استقبال کا متقاضی اس لئے کہ جمہوریت اور میجاریٹی ازم میں فرق یہ ہے کہ اکثریت میں ہونے کا یہ مطلب ہے ہی نہیں کہ دوسروں کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جائے۔ تعداد بڑھنے گھٹنے سے اختیارات میں بھی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ دستور سب کو برابر کا حق دیتا ہے۔ مذہب، زبان، ذات برادری یا روایات میں اختلاف ہونا ملک کی کمزوری نہیں طاقت ہے۔ وضاحت طلب اس لئے کہ دستور کی ضمانت اور ارباب اقتدار کی بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود کہ ملکی سرحدوں میں قانونی طور پر رہنے اور اس ملک کو اپنا ملک سمجھنے والوں کو ملک سے باہر نہیں نکالا جائیگا ایسے بیان دیئے جاتے رہتے ہیں کہ ملک مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا جا چکا ہے اب کسی دوسرے مذہب کو اپنا مذہب بتانے والوں کو اس ملک میں رہنے کی جگہ نہیں ہے یا یہ کہ مسلمان ہمیں ووٹ نہیں دیتے ہم ان کے کام نہیں کریں گے۔ دستور سب کیلئے ہے تو کم تعداد میں رہنے والے فرقہ کو ملک سے بھگایا یا ان کے کام کرنے سے انکار کیسے کیا جاسکتا ہے؟
یہ بھی پڑھئے: تھلاپتی وجے کی حکومت
بھاگوت جی نے اس پہلو پر بات کرنے سے شاید اس لئے گریز کیا ہے کہ وہ حکومت کے ذمہ دار یا نمائندہ نہیں ہیں مگر کیا ان کی مذہبی حیثیت کو تمام مذہبی فرقے قبول کرتے ہیں؟ اور اگر نہیں کرتے تو اکثریت کے لوگ مسلمانوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ بھاگوت جی امریکہ میں آر ایس ایس کے صد سالہ جشن کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے اور انہوں نے بظاہر جو بات کہی تھی وہ اصولی، دستوری اور انسانی معیار پر کھری اترتی ہے مگر دُنیا دیکھ رہی ہے کہ آر ایس ایس کے لیڈروں کے قول و فعل میں کتنا تضاد ہے اس لئے آر ایس ایس سربراہ کی بظاہر اس اچھی بات کا بتنگڑ بنتا گیا۔ پوری دُنیا میں پہچان اور ثقافتی تشخص کے بارے میں کافی تناؤ ہے اور پھر ہندوستان میں ’مسلم فری گاؤں‘ پر پہلے ہی سے اصرار کیا جاتا رہا ہے۔ بھاگوت جی حکومت میں نہیں ہیں مگر حکومت کے مارگ درشن کرنے والے (رہنما) ہیں وہ اگر بند بند لفظوں میں بھی کہہ دیتے تو اچھا تھا کہ ہر فرقہ کے جان، مال، مذہبی تشخص کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت پر ہے۔
ہندوستان میں بسنے والے تمام لوگوں کا ڈی این اے ایک ہونا سچ ہے مگر اس سے سب کے ساتھ یکساں سلوک کئے جانے کا اثبات نہیں ہوتا۔ بات اگر صرف مسلمانوں کی کی جائے تو وہ ہمیں عزیز ہیں اگرچہ وہ کنس، راون، یا ایسے ہی کسی ظالم کی اولاد ہوں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خلوص کے ساتھ کلمہ پڑھنے سے ماضی سے رشتہ کٹ جاتا ہے۔ خلوص کے ساتھ اللہ، رسول، آخرت کا اقرار کرکے ابوجہل کے بیٹے کو بھی صحابیت کی فضیلت حاصل ہوئی تھی مگر بھاگوت جی نے ڈی این اے کے ایک ہونے کا اثبات کرکے بھی ہندوستان میں مسلم فری گاؤں ہونے کی بات کرنے والوں کی مذمت نہیں کی۔ ممکن ہے آر ایس ایس اور بھاگوت جی کے نظریات و خیالات میں تبدیلی آرہی ہو۔ اگر ایسا ہے تو اس کی وضاحت ضروری ہے کہ کیا مسلمان اور عیسائیوں کے ہندوستانیت کے معیار پر پورا نہ اترنے یا ان دونوں کے ملک کیلئے اندرونی خطرہ ہونے کی جو بات ان کی کتابوں میں لکھی جاتی رہی ہے وہ غلط ہے؟
یہ بھی پڑھئے:جی ڈی پی کا تنازع
ہم تو برملا اعلان کرتے ہیں کہ ہم اس ملک کو اپنا ملک تسلیم کرتے ہیں۔ ہر قسم کی دہشت گردی کے مخالف ہیں، ہر قسم کی گھس پیٹھ کے مخالف ہیں۔ ہزاروں فسادات میں نقصان اٹھانے کے باوجود تسلیم کرتے ہیں کہ پڑوسی ملک پاکستان نے کئی بار ہندوستان پر حملہ کیا، شاید اس کو امید تھی کہ ہندوستانی مسلمان حملے کی صورت میں پاکستانی حملہ آوروں کا ساتھ دیں گے مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کچھ حملہ آور بدیسی طاقتوں نے البتہ ہندوستان پر حملہ کئے مگر انہیں حملے کی دعوت دینے والے یہیں کے لوگ تھے۔ پاکستان بنانے کا مطالبہ کرنے والوں میں کچھ مسلمان ضرور شریک ہوگئے تھے مگر ان کے ساتھ مل کر حکومت سازی کی تھی نہ ہی اکثریت سے تعلق رکھنے والی جماعتوں نے۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں عذر نہیں کہ ایک سازش کے تحت لو‘لا لنگڑا پاکستان دے کر مسلمانوں کو قومی زندگی میں الگ تھلگ کرنے یا دوسرے لفظوں میں ’ویلن‘ بنانے کی کامیاب کوشش کی گئی۔ اس اعتراف میں بھی کسی قسم کی قباحت نہیں کہ ۱۹۴۷ء کے بعد مسٹر جناح کی خوش فہمیوں اور دعوؤں سے زیادہ مولانا آزاد کے اندیشے صحیح ثابت ہو رہے ہیں۔ آج اکھنڈ بھارت کی بات ضرور کی جا رہی ہے مگر اس کا تصور انتہائی محدود ہے۔ اکھنڈ بھارت میں وہ تمام علاقے اور ممالک ہندوستان میں شامل کئے جانے چاہئیں جو کبھی اس کا حصہ تھے۔ نیویارک کے میڈیسن اسکوائر پر موہن بھاگوت جی نے ’تکثیریت‘ کے جس مفہوم کو واضح یا جس کو اپنائے جانے کی ضرورت کا اظہار کیا وہ سب کیلئے قابل قبول اور قابل قدر ہونا چاہئے مگر یہ سوال بہرحال اہم ہے کہ کیا موہن بھاگوت جی یا ان کی تنظیم کے لوگ اس تکثیریت پر یقین کرتے ہیں؟ اس دُنیا کی اکثریت تکثیریت کی حامی ہے مگر ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے اس کی خبریں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود اُردو زبان کو کٹھ ملاؤں کی زبان کہا گیا ہے۔
عالمی سطح پر اس کا جو ردعمل ہوسکتا تھا وہ ہوا ہے۔ امریکہ، کنیڈا کے بعد اب لندن میں بھی موہن بھاگوت جی کیخلاف آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ یہ تکثیریت کا سمّان ہے یا اپمان؟ ہم تکثیریت کو تسلیم کرنے والے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہندوستانی حکومت کوئی ایسا دعویٰ نہ کرے جسے پورا کرنا اس کے بس میں نہ ہو اسلئے بس یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ بیشک نئے ہندوستان کی تعمیر کی جائے مگر نئے ہندوستان کی تعمیر کرتے وقت اس کی تاریخ و تہذیب کی روح کو پامال نہ کیا جائے کیونکہ ہندوستان تکثیریت سے عبارت ہے۔ جس قسم کے بیانات دیئے جا رہے ہیں، حکومت جس راہ پر گامزن ہے اور سپریم کورٹ میں بھی غلط حقائق پیش کرکے جس قسم کے فیصلے کروائے گئے ہیں وہ تکثیریت کے احترام کا ثبوت نہیں فراہم کرتے۔ اسلئے ہم اُردو والے بھاگوت جی کی مخالفت سے جہاں دکھی ہیں وہیں یہ سوال کرنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ بھاگوت جی کی تنظیم تکثیریت کے سلسلے میں جس قسم کی روش پر گامزن ہے وہ تکثیریت کا سمّان ہے یا اپمان؟