• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپال: ماحولیاتی انصاف کی فریاد

Updated: September 11, 2026, 3:59 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

نیپال کے سیلاب سے جو تباہی آئی اس میں اب تک ۱۳؍ ہزار افراد جان گنوا چکے ہیں جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ لاپتہ ہیں۔ اس دوران پیر کو نیپال میں مہلوکین کا سوگ منایا گیا اور پورے دن تک قومی پرچم سرنگوں رہا۔ نیپال کی حکومت نے قومی سطح پر سوگ کا اہتمام تو کیا لیکن بڑے پیمانے پر تقریبات کا انعقاد نہیں کیا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

نیپال کے سیلاب سے جو تباہی آئی اس میں اب تک ۱۳؍ ہزار افراد جان گنوا چکے ہیں جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ لاپتہ ہیں۔ اس دوران پیر کو نیپال میں مہلوکین کا سوگ منایا گیا اور پورے دن تک قومی پرچم سرنگوں رہا۔ نیپال کی حکومت نے قومی سطح پر سوگ کا اہتمام تو کیا لیکن بڑے پیمانے پر تقریبات کا انعقاد نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ریسکیو ٹیمیں اب بھی لوگوں کو تلاش کر رہی ہیں اور ان کے پاس وسائل بات کم ہیں۔ قابل ذکر یہ ہے کہ نیپال کی حکومت بیرونی امداد تو قبول نہیں کر رہی ہے مگر اس نے ایک نئے انداز سے مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ ممالک جو زمین کی تپش بڑھانے کے خطاوار ہیں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اتنی بڑی تباہی کیلئے اپنی غلطی کو مانیں اور نیپال کو ۲۰؍ ملین ڈالر ادا کریں۔

یہ بھی پڑھئے:دہلی عمارت سانحہ اور مخدوش عمارتیں

یہ مطالبہ غیر منصفانہ نہیں ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ ممالک جو زمین کی تپش میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں اگر وہ اپنی غلطی کو مانتے ہوئے ۲۰؍ ملین ڈالر کا ہرجانہ ادا بھی کر دیں تو کیا اس سےآئندہ کے لئے پیش بندی ہوجائیگی؟ اور ہر وہ ملک، جو زمین کی حدت سے پریشان ہے، محفوظ ہوجائیگا اور اس کی پریشانی ختم ہو جائیگی؟ نیپال نے جن ملکوں سے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے وہ امریکہ، چین اور ہندوستان ہیں۔ نیپال کے وزیر خارجہ ششیر کنال نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ہم ایک ایسے عالمی بحران کا خمیازہ بھگت رہے ہیں جو ہمارا پیدا کردہ نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیپال کو دی جانے والی امداد کو خیراتی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ ماحولیاتی انصاف کے زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے۔ یاد رہے کہ اب سے پہلے متعدد ملکوں نے ماحولیاتی مسائل کا سامنا کیا ہے، جہاں سونامی آئی، سیلاب آئے، ان میں سے کسی نے ماحولیاتی مسائل پیدا کرنے والے ملکوں سے ہر جانہ نہیں مانگا۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی نے مختلف ملکوں کو للکارا اور اُن پر ایک طرح کا اخلاقی دباؤ ڈالنا ضروری جانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسکولوں سے ناقابل معافی غفلت

ہم نہیں جانتے کہ مذکورہ ممالک ہرجانے کی ادائیگی یعنی اقبال جرم میں دلچسپی لیں گے لیکن ایشیا کے اس مختصر سے ملک کا مطالبہ اپنی جگہ انوکھا ہے اور غیر منصفانہ نہیں ہے۔ گلوبل وارمنگ کے ذمہ دار ملکوں سے نمٹنا اقوام متحدہ جیسے اداروں کی ذمہ داری تھی۔ وہ اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام نہ ہوتے تو یہ صورت حال نہ پیدا ہوتی۔ نیپال نے املاک، مکانات اور انفراسٹرکچر کے نقصان کا جو اندازہ لگایا وہ ۲ء۵۶؍ بلین ڈالر کے مساوی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈھائی ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانے والا نیپال صرف ۲۰؍ ملین ڈالر کا تقاضا کیوں کررہا ہے۔ خبروں میں اس کی وجہ یہ سمجھ میں آئی کہ نیپال کو فی الوقت اتنی رقم کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنے نقصانات کی تلافی کی مہم شروع کرسکتا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ آگے چل کر یہ ملک زمین کی حدت بڑھانے کے ذمہ دار ملکوں سے مزید رقم بطور ہرجانہ کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ یہ وقت آنے پر معلوم ہوجائیگا کہ اس کی پلاننگ یہی ہے یا کچھ اور۔ اس سے پہلے سوال یہ ہے کہ کیا زمین کی تپش میں اضافے کیلئے مورد الزام ٹھہرائے جانے والوں ممالک نیپال کے اس مطالبے کو مانیں گے یا ایسا کوئی قانون نہ ہونے کا عذر پیش کرکے محض امداد بھیجنا چاہیں گے جو نیپال نہیں چاہتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK