مایاوتی نے کہاتھا کہ اشوک اگرسبکدوش ہوجائیں تب آکاش کوکوئی عہدہ مل سکتا ہے لیکن اشوک کےسبکدوشی کے اعلان کے بعدانہوں نے آکاش کو بھیپارٹی سے ’آزاد ‘ کردیا۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 11:20 AM IST | Agency | Lucknow
مایاوتی نے کہاتھا کہ اشوک اگرسبکدوش ہوجائیں تب آکاش کوکوئی عہدہ مل سکتا ہے لیکن اشوک کےسبکدوشی کے اعلان کے بعدانہوں نے آکاش کو بھیپارٹی سے ’آزاد ‘ کردیا۔
آئندہ سال ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے تناظر میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) میں زبردست گھمسان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ دنوں مایاوتی نے اپنے بھتیجے آکاش آنند کو یوپی انتخابات کیلئے کوئی بڑی ذمہ داری دینے سے انکارکیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے۹؍ ستمبر آکاش کے سسر اشوک سدھارتھ کو ایک آفر دیا تھا جس میں کہا تھا کہ وہ اگر سیاست سے کنارہ کش ہوجائیں تب آکاش آنند کو بی ایس پی میں کوئی عہدہ مل سکتا ہے۔ اس شرط کے کچھ ہی گھنٹوں بعد اشوک سدھارتھ نے سیاست کو خیر باد کہنے کااعلان کیا اور اپنے داماد کیلئے بڑی ’قربانی‘ دی ۔ اس کے باوجود مایاوتی نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا اور اب آکاش آنندکو بھی پارٹی سے نکال دیا ۔سابق راجیہ سبھا رکن اشوک سدھارتھ نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان مایاوتی کو لکھے گئے ایک خط میں کیا۔
یہ بھی پڑھئے:پرنس رحیم آغا خاں پنجم نےوزیر اعظم مودی سے ملاقات کی، باہمی تعاون پر زور
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک طویل پوسٹ بھی جاری کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’بہن جی کے لیے ریٹائرمنٹ تو بہت چھوٹی چیز ہے، اگر مجھے کبھی اپنی جان بھی دینی پڑے تو فخر محسوس کروں گا۔‘‘ سوشل میڈیا پوسٹ میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’سیاسی زندگی اور سماجی زندگی سے ریٹائرمنٹ لے رہا ہوں۔ آکاش آنند کی واپسی کو میرے ریٹائرمنٹ سے نہ جوڑا جائے۔ میں نے بی ایس پی کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔ بہن جی کا حکم میرے لیے دنیا کی ہر چیز سے بڑا ہے۔ ان کے حکم کے آگے میرے رشتے، فیملی سب کچھ چھوٹا ہے۔‘‘ بی ایس پی سپریمو مایاوتی نےاس خط پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اشوک سدھارتھ کا یہ درست قدم ہے، اگرچہ اسے بہت دیر سے اٹھایا گیا ہے۔ مایاوتی نے بھتیجے آکاش آنند کے بارے میں بھی بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’وہ اب آزاد ہیں۔‘‘ مایاوتی نے اپنی پوسٹ میںلکھا ہےکہ ’’اشوک سدھارتھ کا سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان درست قدم ہے، اگرچہ یہ بہت دیر سے اٹھایا گیا ہے۔ ویسے لوگ کہتے ہیں کہ اگر یہ فیصلہ پہلے کیا گیا ہوتا تو بی ایس پی، بہوجن سماج اور بہوجن تحریک کے ساتھ ساتھ ان کے داماد آکاش آنند کو مسلسل مشکل حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آکاش آنند کو بھی پارٹی سے پوری طرح آزاد کرنے کا ا علان کیا اورآکاش کے چھوٹے بھائی ایشان آنند کو پارٹی میں بڑی ذمہ داری سونپی ہے۔قیاس آرائیاں ہیںکہ آکاش آنند اب سماجوادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔