• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطین کو مٹایا یا نظرانداز نہیں کیا جاسکتا: اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر منصور

Updated: September 29, 2026, 3:03 PM IST | New York

اقوام متحدہ میں فلسطین کے سفیر ریاض منصور نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر فلسطین کو نظرانداز کرنے کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں اور فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ اسرائیلی قبضے، آبادکاری اور فلسطینی علاقوں کے الحاق کے خلاف بیانات کے بجائے عملی اقدامات اور مؤثر جواب دہی یقینی بنائی جائے۔

Palestinian Ambassador Riyad Mansour. Photo: INN.
فلسطینی سفیر ریاض منصور۔ تصویر: آئی این این۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس نے فیصلہ کن طور پر ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر فلسطین کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ فلسطین کے اقوام متحدہ میں سفیر ریاض منصور نے پیر کوسلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ منصور نے۱۵؍ رکنی سلامتی کونسل سے جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’فلسطین ہر جگہ موجود تھا۔ وہ اقوام متحدہ کی عمارت بلکہ شاید پورے نیویارک شہر میں سب سے نمایاں حقیقت تھا۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ۱۵۲؍ رکن ممالک کی بھاری اکثریت نے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے مداخلت کی کہ فلسطینی وفد کو دیگر خودمختار ممالک کے نمائندوں کے برابر شرکت کا حق حاصل ہو۔ اس طرح میزبان ملک کی جانب سے ویزوں سے انکار کی عائد کردہ پابندیوں کو براہِ راست ختم کیا گیا۔ ریاض منصور کے مطابق عالمی سطح پر ملنے والی اس حمایت نے ثابت کر دیا ہے کہ فلسطین کو ’’مٹایا‘‘ یا ’’نظرانداز‘‘ نہیں کیا جا سکتا اور فلسطینی عوام کو ’’غیر مرئی نہیں بنایا جا سکتا، نہ ہی نسل کشی، قبضے، آبادکاری یا الحاق کے ذریعے ان کے حقوق ختم کیے جا سکتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ سیٹیلائٹ تصاویر: اسرائیل کی نسل کش جنگ میں پورے رہائشی بلاکس نقشے سے مٹ گئے

الحاق اور E1 کوریڈور کی تعمیر پر انتباہ
منصور نے خبردار کیا کہ فلسطینی علاقوں کا الحاق مستقبل کا کوئی خطرہ نہیں بلکہ یہ پہلے ہی عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں زمینوں پر قبضے اور تعمیراتی سرگرمیوں میں توسیع ’’پہلے سے کہیں زیادہ تیزی‘‘ سے جاری ہے۔ انہوں نے یروشلم کے قریب اہم تزویراتی علاقے E1 کوریڈور میں تعمیراتی منصوبوں کیلئے جاری کئے گئے ٹینڈرز کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وسیع تر کوشش کا آخری مرحلہ ہے، جس کا مقصد ’’فلسطینی ریاست کو ختم کرنا اور اس کے ساتھ امن کے ہر امکان کو بھی ختم کرنا‘‘ ہے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکام فلسطینی اتھاریٹی کے خاتمے کی جانب بھی بڑھ رہے ہیں۔ ان کے بقول اس سے اسرائیل کو فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کیلئے ’’ایک منفرد موقع‘‘ میسر آ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یہودی آباد کاروں کی دہشت گردی جاری۔ مسجداقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بولا، تلمودی رسومات اداکیں

عالمی پابندیوں اور قابض قوتوں کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ
بین الاقوامی سطح پر اقدامات پر زور دیتے ہوئے منصور نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد۲۳۳۴؍ کو کبھی بھی محض ایک اختیاری اقدام کے طور پر نہیں بنایا گیا تھا۔ ان کے مطابق کئی دہائیوں سے صرف زبانی مذمتیں کی جاتی رہی ہیں، لیکن ان سے علاقے میں توسیع پسندی کو روکنے میں کوئی مؤثر کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ منصور نے کہا، ’’اب وقت آ گیا ہے کہ بیانات سے اقدامات کی طرف، مذمت سے جواب دہی کی طرف اور اظہارِ یکجہتی سے عملی نفاذ کی طرف بڑھا جائے۔ ‘‘انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد۹۰۴؍ کے تحت قابض قوتوں کو غیر مسلح کیا جائے اور ان حکام، مالیاتی اداروں اور تجارتی کمپنیوں کو جواب دہ بنایا جائے جو غیر قانونی توسیع پسندی کیلئے مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جانب سے جاری کردہ مشاورتی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے منصور نے کہا کہ تیسرے ممالک پر قانونی طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قبضے کو تسلیم کرنے اور اسے مادی معاونت فراہم کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے غیر ملکی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ مالی اور دفاعی روابط منقطع کریں۔ ان کے الفاظ میں ضرورت یہ ہے کہ ’’غیر قانونی قبضے کو طول دینے کیلئے نہ پیسہ ہو، نہ تجارت اور نہ ہتھیار۔ ‘‘انہوں نے اختتاماً کہا کہ اب عالمی طاقتوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کیا سفارتی بیانات آخرکار عملی نتائج اور ٹھوس اقدامات کی صورت اختیار کریں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK