Updated: May 14, 2026, 10:06 AM IST
| New York
غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں اور آبادکاروں کے تشدد کے نتیجے میں فلسطینیوں، خصوصاً بچوں، کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور یونیسیف کی تازہ رپورٹس نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، جبری بے دخلی اور بچوں کی بڑھتی گرفتاریوں پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR OPT) کے مطابق اپریل کے دوران غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج اور آبادکاروں کے ہاتھوں کم از کم ۱۲۲؍فلسطینی شہید ہوئے، جن میں ۲۲؍ بچے اور۸؍ خواتین شامل تھیں۔ رپورٹ میں فلسطینی گھروں، بے گھر افراد (IDPs) کی پناہ گاہوں، عبادت گاہوں، سڑکوں، گاڑیوں، انسانی امدادی مراکز اور اسکولوں پر اسرائیلی حملوں کا ذکر کیا گیا ہے، جنہیں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، میں جاری سنگین خلاف ورزیاں قرار دیا گیا ہے۔ شہداء میں کم از کم دو صحافی اور چھ پولیس اہلکار بھی شامل تھے، جبکہ مختلف عمر کے متعدد افراد زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اورنج لائن کا قیام، اسرائیلی کنٹرول مزید وسیع ہونے کا انکشاف
غزہ میں ۱۱۱؍فلسطینی شہید
رپورٹ کے مطابق اپریل میں غزہ بھر میں جاری فضائی حملوں، توپ خانے، بحری گولہ باری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم۱۱۱؍ فلسطینی شہید ہوئے، جن میں ۱۸؍ بچے اور۷؍ خواتین شامل تھیں۔
رپورٹ میں درج چند واقعات:
(۱)۸؍ اپریل کو الجزیرہ کے صحافی محمد الوشاح غزہ سٹی میں النبلسی چوک کے قریب ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں شہید ہوئے۔ OHCHR کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ءسے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد۲۹۵؍ ہو چکی ہے۔
(۲)۱۱؍ اپریل کو اسرائیلی فورسز نے جبالیہ کیمپ میں فائرنگ کی، جس میں ایک۱۰؍ سالہ بچہ شہید ہوا۔
(۳)۲۲؍اپریل کو بیت لاہیا میں القسام مسجد کے قریب ایک ڈرون حملے میں ۵؍ فلسطینی شہید ہوئے، جن میں ۹؍ سے۱۴؍ سال عمر کے۳؍ بچے شامل تھے۔
(۴)۲۴؍اپریل کو کمال عدوان اسپتال کے قریب گولہ باری میں ایک خاتون اور اس کے دو بچے شہید ہوئے۔
(۵)۲۵؍ اپریل کو غزہ سٹی میں فون چارجنگ اسٹیشن کے طور پر استعمال ہونے والے ایک خیمے پر ڈرون حملے میں دو افراد شہید ہوئے۔ اپریل کے اختتام تک فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں ۸۲۴؍ فلسطینی شہید ہو چکے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا انتباہ، دوبارہ حملہ ہوا تو۹۰؍ فیصد یورینیم افزودگی کی جائے گی
پولیس اور امدادی کارکنوں پر حملے
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے غزہ میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر بڑھتے حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ۲۴؍ اپریل کو خان یونس کے مغرب میں المواصی علاقے میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے نے بے گھر افراد کے کیمپ میں موجود پولیس اہلکاروں کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں ۸؍ افراد شہید ہوئے، جن میں ۴؍ پولیس اہلکار اور ۴؍بے گھر شہری شامل تھے۔
OHCHR کے مطابق ۲۰۲۶ءکے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں غزہ کے۲۶؍ پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ ادارے نے کہا کہ پولیس اہلکار اس وقت تک شہری تصور کئے جاتے ہیں جب تک وہ براہِ راست لڑائی میں حصہ نہ لیں، اور انہیں نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: ایپسٹین فائلز کی ۳۵؍ لاکھ صفحات پر مشتمل نمائش کا افتتاح
امدادی کارکن بھی نشانہ بنے
رپورٹ کے مطابق انسانی امدادی کارکنوں پر حملے بھی جاری رہے:
(۱)۶؍ اپریل کو عالمی ادارۂ صحت (WHO) کیلئےکام کرنے والا ایک ڈرائیور خان یونس میں طبی انخلا کے دوران شہید ہوا۔
(۲)۱۷؍ اپریل کو غزہ سٹی کے مشرق میں پانی کی تقسیم کے مقام پر ڈرون حملے میں یونیسیف کے دو ٹھیکیدار شہید ہوئے۔
(۳)۲۰؍ اپریل کو غزہ سٹی میں پانی کے کنویں پر این جی او کارکنوں پر حملے میں ایک شخص شہید اور چار زخمی ہوئے۔
اوچا (OCHA) کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ءسے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم۵۹۳؍ امدادی کارکن شہید ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: روس: پوتن نے یومِ فتح پریڈ کے بعد اپنی پہلی ٹیچر کے ساتھ عشائیہ کیا
مغربی کنارے میں ہلاکتیں اور آبادکاروں کا تشدد
مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اپریل کے دوران اسرائیلی سیکوریٹی فورسیز نے کم از کم۶؍ فلسطینیوں کو شہید کیا، جن میں ایک خاتون اور چار بچے شامل تھے۔ ان میں ۶۸؍ سالہ صبریہ امین شمانہ بھی شامل تھیں، جن کی۷؍ اپریل کو جیوُس میں اپنے گھر پر اسرائیلی چھاپے کے دوران مبینہ تشدد کے بعد موت ہوئی۔ ۱۶؍ اپریل کو بیت دقّو میں ایک چھاپے کے دوران اسرائیلی فورسیز نے۱۷؍ سالہ محمد مراد محمود ریان کو گولی مار کر شہید کر دیا جبکہ مبینہ طور پر ایمبولینس کو ان تک پہنچنے سے بھی روکا گیا۔ رپورٹ میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں اپریل کے دوران کم از کم۴؍ فلسطینی شہید ہوئے۔ ۲۱؍ اپریل کو المغیر میں ایک اسرائیلی آبادکار نے مبینہ طور پر ایک اسکول کے قریب۱۴؍ سالہ اوس النعسان اور۳۲؍ سالہ جہاد ابو نعیم کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ OHCHR کے مطابق ۲۰۲۶ءمیں اب تک کم از کم۹؍ فلسطینی ایسے آبادکاروں کے ہاتھوں مارے گئے جو بعد میں اسرائیلی فوج کے ریزرو اہلکار نکلے، جسے ادارے نے آبادکار تحریک کی بڑھتی عسکریت پسندی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کے سبب امریکیوں کو توانائی کی ۳۷؍ بلین ڈالر اضافی قیمت چکانی پڑی: تحقیق
جبری بے دخلی اور عبادت گزاروں پر پابندیاں
رپورٹ میں مشرقی یروشلم اور وادی اردن میں گھروں کی مسماری اور جبری بے دخلی کا بھی ذکر کیا گیا۔ سلوان کے علاقے البستان میں اسرائیلی حکام نے اپریل کے دوران کم از کم۱۱؍ فلسطینی گھروں اور عمارتوں کو مسمار کیا یا ان کی مسماری پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم ۳۶؍ فلسطینی بے گھر ہوئے تاکہ ’’کنگز گارڈن‘‘ نامی آبادکار پارک بنایا جا سکے۔ اوچا کے مطابق۲۰۲۶ء میں اب تک آبادکاروں کے تشدد کے باعث مغربی کنارے کی۴۳؍ کمیونٹیز سے تقریباً ۲؍ہزار فلسطینی بے دخل ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً۹۰۰؍ بچے شامل ہیں۔ OHCHR نے اپریل کے دوران مذہبی مقامات اور عبادت گزاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی درج کئے، جن میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں گرفتاریاں، ایسٹر کے موقع پر چرچ آف دی ہولی سیپلکر جانے والے مسیحی عبادت گزاروں پر پابندیاں اور۲۸؍ اپریل کو یروشلم کے قدیم شہر میں ایک فرانسیسی راہبہ پر اسرائیلی آبادکار کے مبینہ حملے کا واقعہ شامل ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق یہ تمام واقعات مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں تشدد، بے دخلی اور پابندیاں فلسطینی شہریوں کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی پر غور کررہے ہیں: رپورٹ؛ تہران بھی ’سبق سکھانے‘ کیلئے تیار
۲۰۲۵ء سے مغربی کنارے میں ہر ہفتے ایک فلسطینی بچہ شہید: یونیسیف
یونیسیف کے مطابق۲۰۲۵ء کے آغاز سے مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، میں کم از کم۷۰؍ فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں، یعنی اوسطاً ہر ہفتے ایک بچہ۔ جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا کہ۹۳؍فیصد بچوں کو اسرائیلی فورسیز نے قتل کیا، جبکہ مزید ۸۵۰؍بچے زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر کو زندہ گولیاں لگیں۔ انہوں نے کہا:’’بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیوں اور اسرائیلی حملوں کی قیمت بچے ناقابلِ برداشت حد تک چکا رہے ہیں۔ ‘‘انہوں نے خبردار کیا کہ تشدد صرف براہِ راست حملوں تک محدود نہیں بلکہ ان نظاموں کی ’’مسلسل تباہی‘‘ بھی شامل ہے جن پر بچوں کی زندگی اور نشوونما کا انحصار ہے، جیسے گھر، اسکول، پانی کا نظام اور صحت کی سہولیات۔ یونیسیف کے مطابق۲۰۲۶ء کے پہلے چار مہینوں میں ۲۵۰۰؍ سے زائد فلسطینی بے گھر ہوئے، جن میں ۱۱۰۰؍ بچے شامل ہیں، اور یہ تعداد پورے۲۰۲۵ء کے مقابلے سے بھی زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حراست میں فلسطینی قیدیوں کو جنسی تشدد کا سامنا: این وائے ٹی کالم نگار
بچوں کی گرفتاریوں میں اضافہ
جیمز ایلڈر نے بتایا کہ۲۰۲۶ء میں تعلیم سے متعلق ۹۹؍حملے ریکارڈ کئے گئے، جن میں قتل، زخمی کرنا، گرفتاریاں، اسکولوں کی مسماری اور تعلیمی اداروں تک رسائی میں رکاوٹیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا:’’اسکول، جو بچوں کیلئے محفوظ جگہ ہونے چاہئیں، اب خوف کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔ ‘‘انہوں نے پانی کے نظام کو پہنچنے والے نقصان اور بچوں کی بڑھتی گرفتاریوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ یونیسیف کے مطابق اس وقت مغربی کنارے کے ۳۴۷؍ فلسطینی بچے اسرائیلی فوجی حراست میں ہیں، جو گزشتہ آٹھ برسوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے، جبکہ ان میں سے نصف سے زیادہ انتظامی حراست میں رکھے گئے ہیں۔ ایلڈر نے کہا:’’ان بچوں کی تکلیف کو معمول نہیں سمجھا جا سکتا۔ ‘‘ انہوں نے اسرائیلی حکام اور بااثر ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینی بچوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں۔