آج کے انسان بظاہر ترقی یافتہ مگر اندر سے بے سکون ، ذہنی اضطراب، مایوسی اور تنہائی کا شکار انسان کو حضرت ابراہیم ؑکی سیرت مثبت نفسیات کی بنیاد فراہم کرتی ہے ۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 4:20 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai
آج کے انسان بظاہر ترقی یافتہ مگر اندر سے بے سکون ، ذہنی اضطراب، مایوسی اور تنہائی کا شکار انسان کو حضرت ابراہیم ؑکی سیرت مثبت نفسیات کی بنیاد فراہم کرتی ہے ۔
انسانی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے گزرنے کے ساتھ ذہنوں سے محو نہیں ہوتیں بلکہ ہر دور میں نئی معنویت کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔ ان کی زندگی صرف ماضی کا ایک باب نہیں ہوتی بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے فکری، اخلاقی اور روحانی رہنمائی کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایسی عظیم المرتبت شخصیات میں سے ہیں جنہیں قرآن مجید نے ’’خلیل اللہ‘‘ کے عظیم شرف سے نوازا۔ آپؑ کی زندگی ایمان، اخلاص، قربانی، صبر، شکر، حلم، حکمت، توکل اور مقصدی زندگی کی ایسی روشن مثال ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ میں کم ملتی ہے۔
آج کا انسان بظاہر ترقی یافتہ مگر اندر سے بے سکون ہے۔ مادّی آسائشوں میں اضافہ ہوا مگر ذہنی اضطراب، مایوسی، تنہائی اور خوف بھی بڑھ گیا۔ جدید نفسیات بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ انسان صرف جسمانی ضروریات سے مطمئن نہیں ہوتا بلکہ اسے روحانی استحکام، مقصدیت اور قلبی سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے دور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت انسان کو مثبت نفسیات کی وہ بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر مضبوط، متوازن اور باوقار شخصیت تعمیر ہوسکتی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’بیشک ابراہیمؑ (تنہا ذات میں) ایک اُمت تھے۔‘‘ (النحل:۱۲۰)
یہ آیت اس حقیقت کی ترجمانی کرتی ہے کہ حضرت ابراہیمؑ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکمل فکری، اخلاقی اور روحانی تحریک تھے۔ غور کیا جائے تو ان کی سیرت کا ہر گوشہ انسانی شخصیت کی تعمیر میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
توحید پر یکسوئی: شخصیت کی داخلی مرکزیت
حضرت ابراہیمؑ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو توحید پر کامل یکسوئی ہے۔ آپؑ کے گرد شرک، رسوم پرستی اور جاہلیت کا ماحول تھا۔ باپ بت تراش تھا، قوم بت پرست تھی اور بادشاہ خدائی کا دعویدار تھا، مگر ان سب کے باوجود آپؑ نے اپنے دل کو صرف اللہ کے ساتھ وابستہ رکھا۔ ستاروں، چاند اور سورج کے غروب ہونے کو دیکھ کر آپؑ نے اعلان کیا: ’’ میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (الانعام:۷۶)
یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ انسانی شعور کی آزادی کا اعلان ہے۔ جدید نفسیات کے مطابق وہ انسان زیادہ مضبوط ہوتا ہے جس کی زندگی کسی واضح مقصد اور اقدار کے گرد قائم ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی داخلی مرکزیت کی عظیم مثال ہیں۔
جب پوری قوم آپؑ کے خلاف ہوگئی تب بھی آپؑ نے حق سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ قرآن کہتا ہے: ’’انہوں نے کہا: اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔‘‘ (الانبياء:۶۸)
مگر شدید مخالفت کے باوجود آپؑ کے دل میں خوف پیدا نہ ہوا۔ آج کا انسان فکری انتشار اور سماجی دباؤ کا شکار ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی سکون اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان ایک رب، ایک مقصد اور ایک سچائی سے خود کو وابستہ کرلے۔
صبر اور جذباتی استحکام: آزمائشوں میں سکون
حضرت ابراہیم ؑکی زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی۔ کبھی قوم کی مخالفت، کبھی آگ میں ڈالے جانے کی آزمائش، کبھی ہجرت، کبھی اولاد کی دیر سے عطا اور کبھی اپنے بیٹے کی قربانی کا حکم۔ مگر ہر موقع پر آپؑ نے صبر اور جذباتی توازن کا مظاہرہ کیا۔ قرآن نے آپؑ کو ’’ حلیم‘‘ قرار دیا:’’بیشک ابراہیم بڑے نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘ (التوبہ:۱۱۴)
قربانی کا جذبہ، خواہشات پر مقصد کی فتح
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی قربانیوں کا روشن استعارہ ہے۔ آپؑ نے وطن چھوڑا، آرام چھوڑا، تعلقات چھوڑے اور حتیٰ کہ اپنے لختِ جگر کو بھی رضاء الٰہی کیلئے قربان کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:’’اور جب اللہ نے ابراہیم کو چند باتوں میں آزمایا تو انہوں نے انہیں پورا کردیا۔‘‘ (البقرہ: ۱۲۴)
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی انسانی نفسیات کا عظیم سبق ہے۔ بڑھاپے میں ملنے والی اولاد انسان کی محبت کا مرکز ہوتی ہے، مگر جب اللہ کا حکم آیا تو ابراہیم علیہ السلام نے اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا کے تابع کردیا۔ یہی قربانی انسان کو مادہ پرستی اور خود غرضی سے آزاد کرتی ہے۔ آج کا انسان خواہشات کی غلامی میں مبتلا ہے۔ وہ ہر چیز کو اپنی ذات کے پیمانے پر ناپتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ عظیم انسان وہ ہے جو اپنی خواہشات کو مقصد کے تابع کردے۔
اللہ پر بھروسہ ، خوف سے آزادی
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت کا ایک عظیم پہلو اللہ پر کامل اعتماد ہے۔ جب آپؑ کو آگ میں ڈالا گیا تو ظاہری اسباب مکمل طور پر مخالف تھے، اس کے باوجود آپؑ کے دل میں خوف نہ تھا۔ یہ یقین اور داخلی سکون کی علامت ہے۔
جدید نفسیات کے مطابق وہ انسان جو کسی اعلیٰ سہارے پر یقین رکھتا ہو شدید بحران میں بھی ذہنی طور پر نہیں ٹوٹتا۔ حضرت ابراہیمؑ کا توکل محض الفاظ نہیں بلکہ عملی زندگی میں نمایاں تھا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ اور بچے کو اللہ کے حکم پر مکہ کی وادی میں چھوڑ دیا مگر ان کے دل میں اضطراب نہیں تھا۔
آج کا انسان Anxiety اور عدمِ تحفظ کا شکار ہے کیونکہ اس کا سہارا صرف مادی اسباب ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ کی سیرت یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی سکون اللہ پر اعتماد سے حاصل ہوتا ہے۔
تنہائی میں حق پر قائم رہنا داخلی قوت کی معراج
حضرت ابراہیم ؑکی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ سچائی ہمیشہ اکثریت کی محتاج نہیں ہوتی۔ پوری قوم بتوں کے سامنے جھکی ہوئی تھی مگر ایک نوجوان حق کی آواز بلند کررہا تھا۔ قرآن کہتا ہے:’’میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ ‘‘(الزخرف:۲۶)
یہ اعلان صرف عقیدے کا اظہار نہیں بلکہ شخصیت کی آزادی کا اعلان تھا۔ جدید نفسیات میں اسے Moral Courage یعنی اخلاقی جرأت کہا جاتا ہے۔ آج کا نوجوان سوشل دباؤ اور مقبولیت کے چکرویوہ میں اپنی شناخت کھوتا جارہا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑکی سیرت اسے سکھاتی ہے کہ مضبوط شخصیت وہ ہے جو تنہائی میں بھی اپنے اصولوں پر قائم رہے اور ہرگز انحراف نہ کرے۔
آج کا انسان اگر حضرت ابراہیم ؑکی سیرت کے ان نفسیاتی اور روحانی پہلوؤں کو اپنی زندگی میں جگہ دے تو وہ نہ صرف ایک مضبوط شخصیت کا مالک بن سکتا ہے بلکہ داخلی سکون، اخلاقی وقار اور روحانی عظمت بھی حاصل کرسکتا ہے۔