• Mon, 01 September, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فراق گورکھپوری کی شاعری میں انسانی تہذیب کی صدیاں بولتی ہیں

Updated: August 31, 2025, 11:47 AM IST | Gopi Chand Narang | Mumbai

۲۸؍ اگست کو فراق صاحب کا یومِ پیدائش تھا اسی مناسبت سے یہ مضمون شائع کیا جارہا ہے جس سے گیان پیٹھ ایوارڈیافتہ فراق گورکھپوری کی شاعری کے محاسن اور ان کے فن کی باریکی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

Firaq also wrote poems and rubais, but he was primarily a ghazal poet. Photo: INN.
فراق نے نظمیں بھی کہیں اور رباعیاں بھی، لیکن وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ تصویر: آئی این این۔

فراق گورکھپوری ہمارے عہد کے ان شاعروں میں سے تھے جو کہیں صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری میں حیات وکائنات کے بھید بھرے سنگیت سے ہم آہنگ ہونے کی عجیب و غریب کیفیت تھی۔ اس میں ایک ایسا حسن، ایسا رس اور ایسی لطافت تھی جو ہر شاعر کو نصیب نہیں ہوتی۔ فراق نے نظمیں بھی کہیں اور رباعیاں بھی، لیکن وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ ہندوستانی لہجہ اردو شاعری میں پہلے بھی تھا، فراق کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے خدائے سخن میر تقی میرؔ کی شعری روایت کے حوالے سے اس کی بازیافت کی اور صدیوں کی آریائی روح سے ہم کلام ہوکر اسے تخلیقی اظہار کی نئی سطح دی اور آج کے انسان کے دل کی دھڑکنوں کو اس میں سمو دیا۔ 
رگھوپتی سہائے ۲۸؍اگست ۱۸۹۶ء کو گورکھپور میں پیدا ہوئے۔ تعلیم الہ آباد سے حاصل کی۔ بعد میں انڈیا سول سروس میں منتخب ہو گئے۔ چاہتے تو ڈپٹی کلکٹر بن جاتے لیکن انہوں نے تحریک آزادی میں حصہ لینے کو ترجیح دی اور کانگریس میں شامل ہو گئے۔ کچھ مدت تک انہوں نے جواہر لال نہرو کے ساتھ کام کیا، جیل بھی گئے۔ انگریزی میں ایم اے کرنے کے بعد الہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی پڑھانے لگے اور یہاں سے ۱۹۵۹ء میں ریٹائر ہوئے۔ ان کے کلام کے کئی مجموعے شائع ہوئے جن میں روح کائنات، رمزوکنایات، غزلستان، شبنمستان، گل نغمہ اور روپ بطور خاص لائق ذکر ہیں۔ 
ہندوستان کا کون سا ایوارڈ اور اعزاز ہے جو فراق کو حاصل نہیں ہوا۔ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ انہیں ۱۹۶۲ء میں دیا گیا تھا۔ حکومت ہند کی طرف سے پدم بھوشن کا اعزاز بھی عطا ہوا اور پھر ہندوستانی ادبیات کا سب سے بڑا اعزاز گیان پیٹھ ایوارڈ بھی ان کو پیش کیا گیا۔ انتقال سے چند مہینے پہلے غالبؔ ایوارڈ لینے کے لئے وہ دہلی تشریف لے گئے تھے، اس کے بعد علاج معالجے کے لئے دہلی ہی میں رک گئے اور وہیں ۳؍مارچ ۱۹۸۲ء کو انتقال کیا۔ 
فراق نے اردو کی عشقیہ شاعری کو ایک آفاقی گونج دی۔ ان کی شاعری میں انسانی تہذیب کی صدیاں بولتی ہیں۔ انگریزی کے رومانی شاعروں ورڈ زورتھ، شیلی، کیٹس سے متاثر تھے۔ دوسری طرف سنسکرت کاویہ کی روایت کا بھی ان کے احساس جمال پر گہرا اثر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاعر کے نغمے وہ ہاتھ ہیں جو رہ رہ کر آفاق کے مندر کی گھنٹیاں بجاتے ہیں۔ فراق کے بنیادی موضوعات حسن وعشق، انسانی تعلقات کی دھوپ چھاؤں، فطرت اور جمالیات ہیں۔ وہ جذبات کی تھرتھراہٹوں، جسم وجمال کی لطافتوں اور نشاط و درد کی ہلکی گہری کیفیتوں کے شاعر ہیں۔ ان کی آواز میں ایک ایسا لوچ، نرمی اور دھیما پن ہے جو پوری اردو شاعری میں کہیں اور نہیں ملتا۔ 
یہ چند اشعار ملاحظہ کیجئے:
کس لئے کم نہیں ہے درد فراق
ب تو وہ دھیان سے اتر بھی گئے
تم مخاطب بھی ہو، قریب بھی ہو
تم کو دیکھوں کہ تم سے بات کروں 
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں 
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں 
ہم سے کیا ہو سکا محبت میں 
خیر تم نے تو بے وفائی کی
غرض کہ کاٹ دیئے زندگی کے دن اے دوست
ۜوہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں 
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں

ہزار بار زمانہ ادھر سے گزرا ہے
نئی نئی سی ہے کچھ تری رہ گزر پھر بھی
فراق سیاسی شاعر نہیں تھے۔ انہیں ایک ایسا آزاد خیال، لبرل شاعر کہا جا سکتا ہے جو انسان دوستی کا گہرا احساس رکھتا ہے۔ ان کاکہنا تھا، ’’میری کوشش رہی ہے کہ ایک بلند ترین، پاکیزہ ترین اور خیروبرکت سے معمور کائنات کی تخلیق کروں اور اپنی شاعری کے ذریعے انسانیت کو گہرا اور بلند بناؤں۔ ‘‘ ان کا دل ایک چوٹ کھائے ہوئے انسان کا دل تھا۔ جمالیاتی کیفیتوں کے ساتھ دکھ کی ایک دھیمی لہر ان کی پوری شاعری میں رواں دواں ہے جو آج کی زندگی کی پیچیدگی اور آج کے انسان کے دردوکرب سے ہم آہنگ ہے۔ یہ ٹیس ان کے ہاں دب دب کر ابھرتی ہے۔ 
فراق دوڑ گئی روح سی زمانے میں 
کہاں کا درد بھرا تھا مرے فسانے میں 
یہ زندگی کے کڑے کوس، یاد آتا ہے
تری نگاہ کرم کا گھنا گھنا سایہ
جینے والو یہ بھی جینے میں ہے کوئی جینا
کچھ بھی کر دھر نہ سکیں مٹ نہ سکیں مر نہ سکیں 
زندگی کیا ہے، آج اسے اے دوست
سوچ لیں اور اداس ہو جائیں 
اس دور میں زندگی بشر کی
بیمار کی رات ہو گئی ہے
اے معنی کائنات مجھ میں آ جا
اے راز صفات وذات مجھ میں آ جا
کسی کی بزم طرب میں حیات بٹتی تھی
امیدواروں میں کل موت بھی نظر آئی
غزلوں اور نظموں کے علاوہ فراق نے رباعیوں میں بھی امتیاز حاصل کیا۔ ’’روپ‘‘ کے نام سے ان کی رباعیوں کا ایک مجموعہ الگ سے شائع ہوا تھا جو بے حد مقبول ہوا۔ ان رباعیوں میں سنسکرت کے شرنگار رس اور ہندی کے ریتی کال کی شاعری کا اثر ہے۔ گھریلو محبت کے ایسے مرقعے اس سے پہلے اردو شاعری میں نہ تھے۔ ان میں ہندوستانی عورت جسم وجمال کی تمام رعنائیوں کے ساتھ اور گھر پریوار تمام لطافتوں کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ عورت کا کنوار پن، بیاہتا بیوی کا سگھڑاپا، ماں کا پیار دلار ان رباعیوں میں طرح طرح سے بیان ہوا ہے۔ ان میں ممتا کی کسک بھی ہے اور جسم وجمال کی رنگینیوں سے آباد آنند اور رس بھری کیفیتیں بھی۔ چند رباعیاں :
دوشیزہ فضا میں لہلہایا ہوا روپ
آئینۂ صبح میں چھلکتا ہوا روپ
یہ نرم نکھار، یہ سجل دھج، یہ سگندھ
رس میں کنوارے پن کے ڈوبا ہوا روپ
ہر جلوے سے اک درس نمو لیتا ہوں 
چھلکے ہوئے صد جام و سبو لیتا ہوں 
اے جانِ بہار تجھ پہ پڑتی ہے جب آنکھ
سنگیت کی سرحدوں کو چھو لیتا ہوں 
آنسو بھرے بھرے وہ نینا رس کے
ساجن کب اے سکھی تھے اپنے بس کے
یہ چاندنی رات یہ برہ کی پیڑا
جس طرح الٹ گئی ہو ناگن ڈس کے
فراق نے تنقید میں بھی ایسے نقوش چھوڑے جو برابر ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔ ’’اندازے‘‘ کے مضامین میں انہوں نے کئی کلاسیکی شاعروں کی بازیافت کی اور اپنی تاثراتی تنقید کے ذریعے ان کی قدر سنجی میں اہم کردار ادا کیا۔ ’’اردو کی عشقیہ شاعری‘‘ پر فراق کی کتاب کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔ ان کے خطوط کا مجموعہ ’’من آنم‘‘ پاکستان سے شائع ہوا تھا۔ پاکستان میں ان کے شیدائیوں کا بہت بڑا حلقہ ہے۔ ناصر کاظمی کی زبردست مقبولیت سے جس نئی غزل کو فروغ حاصل ہوا، اس کا سیدھا سچا رشتہ میر تقی میر کی روایت کے واسطے فراق سے ہے۔ 
زبان کے بارے میں فراق کا ایک خاص نظریہ تھا۔ ان کی شاعری نے اپنا رس جَس (زور، طاقت، جوش و جذبہ) کھڑی بولی کے واسطے سے پراکرتوں کی صدیوں پرانی روایت سے لیا تھا۔ وہ فارسی جانتے تھے اور ان کے یہاں فارسی ترکیبوں کا خاصا استعمال ملتا ہے لیکن وہ کھڑی کے ٹھیٹھ ٹھاٹ اور اردو کے اس اردو پن پر جان دیتے تھے جو صدیوں کے تہذیبی لین دین اور لسانی اور تاریخی عمل سے وجود میں آیا ہے۔ وہ مصنوعی زبان کے اسلئے خلاف تھے تاکہ ہندی والے اردو کے لسانی تمول اور جمالیاتی حسن کو پہچانیں، ایک خوبصورت ہندوستانی زبان کے طور پر اس کی قدر کریں اور قومی زبان ہندی کی تشکیل میں اس سے مدد لیں۔ 
فراق صاحب کا کہنا تھا کہ اردو نے سات سو آٹھ سو برس کے سماجی، تاریخی عمل میں کھڑی کو نکھارا، بنایا اور سنوارا ہے اور اسے شائستہ وشستہ روپ دیا ہے۔ اس لئے اردو کے روز مرہ اور لسانی اصولوں کی خلاف ورزی خوش مذاقی کے خلاف ہے۔ فراق کی اردو ایسی ہندوستانی ہے جو آسانی سے ہندی بھی کہی جا سکتی ہے۔ ان کے لہجے میں ایک ایسی کھنک اور گھلاوٹ ہے کہ بات فوراً دل میں اتر جاتی ہے۔ فراق کے پایے کے شاعر کہیں صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK