عام طور سے انہیں تنقیدنگار یا خاکہ نگار یا طنز و مزاح نگار سمجھا جاتا ہے لیکن زیرنظر مضمون، جو ان کے یومِ وفات (۱۵؍جنوری)کی مناسبت سے پیش کیا جارہا ہے، میں ان کا ثقافتی منظرنامہ ملاحظہ کیجئے:
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 1:13 PM IST | Professor Abdul Haq | Mumbai
عام طور سے انہیں تنقیدنگار یا خاکہ نگار یا طنز و مزاح نگار سمجھا جاتا ہے لیکن زیرنظر مضمون، جو ان کے یومِ وفات (۱۵؍جنوری)کی مناسبت سے پیش کیا جارہا ہے، میں ان کا ثقافتی منظرنامہ ملاحظہ کیجئے:
عصر ِ حاضرمیں تہذیب سے جنونِ عشق کی حد تک وارفتگی کا نام رشید احمد صدیقی ہے۔ ان کی پرتو ِ فکر کا ہر پہلو اسی جذبے سے معمور و منور ہے۔ اردو سے عقیدت رکھنے والا یہ مجذوب صفت پیکر، تخلیقی تاریخ میں منفرد اور غیر متبادل ہے۔ درد و درماندگی سے دوچار اردو ثقافت کی پرسوز مسیحائی میں بھی کوئی ان کا حریف ِ قلم نہ بن سکا۔ وہ بے مثل طنز و مزاح کے مالک و مصدر، لافانی اسلوب نگارش کے ممتاز صاحب ِ طرز ادیب اور نئی ادبی تنقید کے مبشر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی تمام تحریروں میں ثقافتی سوز و ساز کی روح موجِ رواں بن کر جاری ہے۔ قصہ ٔ جدید و قدیم سے بے نیاز، اسلوب و انشاء کے ابدی اقدار پر ایسی عبقری نظر کہیں اور نہیں ملتی۔ ان کی گزرگاہِ خیال سے ہماری راتیں روشن اور دن کے اجالے نورفشاں ہوتے ہیں۔
رشید احمد صدیقی کو صرف طنز و مزاح نگار یا انشاپرداز سمجھ لینا اس تاثر کی بوالعجبی ہے جو اسی یافت پر مطمئن ہے اور اس اضطراب کو نہیں دیکھتی جو ان کے قلب و نظر میں تلاطم برپا کئے ہوئے ہے۔ اقبالؔ کے بعد رشید احمد صدیقی اکیلے ادیب ہیں جن کی تحریروں میں فکر و نظر کی تب و تاب ایک صدائے دردناک بن گئی ہے۔ دردمندی اور سوز و گداز کی شدت کے اسباب پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی ان کے اسلوب کو تخلیق کے لئے نمود بخشتا ہے اور اظہار کا سبب بھی بنتا ہے۔ اقبالؔ نے تو غم ِ ملت کا اظہار کرکے اپنے سوزِ دروں کے لئے جواز فراہم کیا تھا۔ رشید احمد صدیقی نے اپنے لئے کسی علامت کا انتخاب تو نہیں کیا لیکن مسائل اور مخاطب وہی ہیں۔ عمر بہ پایانی کے ساتھ ان کا درد و داغ قلب ِ حزیں کا نالہ ٔ دلدوز بنتا گیا۔ ان کے سوزِ دروں کی مختلف کیفیات کے ادراک کے لئے ان کے نہاں خانۂ دل میں اترنا پڑتا ہے۔ ان کی تحریریں بے کراں اثرات کی حامل ہیں جن میں درد و کرب کی ایک حکایت ِ خوں چکاں موجود ہے۔ ان کی فکر و اظہار کا یہ تخلیقی رمز مختلف اصناف میں بیان ہوتا رہا ہے خواہ وہ خاکہ نگاری ہو یا خطبات، انتقادیات ہو یا مزاح، ان کی پوری شخصیت کا تجزیہ اسی وسیلے سے ممکن ہے اور ان کی تحریروں کی ترسیل میں اس اساسی نکتے کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اقبال کے استفسار نے ادبی تخلیق کے رموز پر ایک سوال قائم کیا ہے جو فن کی ابدیت و اثر آفرینی کے ساتھ اس کے وجود اور اظہار کے سرچشموں کی تلاش یا سراغ پر مبنی ہے:
سخن میں سوز، الٰہی کہاں سے آتا ہے؟
کا جواب رشید صاحب کے نزدیک اقدار کے اعتراف میں بغایت ِ کمال موجود ہے۔ یہ سوزِ دروں آشفتہ بیانی کی صورت میں اظہار کی اولین صورت اختیار کرتا ہے۔ بعد کے حالات نے انہیں خوں نا ب فشانی کے لئے آمادہ کیا اور آخرکار وہ حکایت ِ غم دل بیان کرنے کے لئے مجبور ہوجاتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ ان کی خندہ لبی چند برسوں بعد گہری سنجیدگی، خلوت نشینی اور کم آمیزی میں بدل جاتی ہے، وہ حالات کے جبر کو دلِ پُرخوں میں تحلیل کرتے ہیں۔ پیرایۂ اظہار میں بھی تغیر رونما ہوتا ہے۔ وہ تہذیبی عروج و زوال اور معاشرتی نشیب و فراز کے اسباب و علل پر مفکرانہ رویہ اپنا لیتے ہیں۔ اگرچہ وہ زندگی کے کسی دور میں بھی ان مسائل سے دستبردار نہیں ہوئے مگر بعد میں یہ رنگ کچھ ایسا غالب ہوا کہ دوسرے عنوانات ثانوی بن گئے اور ان سے التفات کم سے کم ہوتا گیا۔ اس ذہنی تبدیلی کی داستان بڑی دلخراش ہے جس سے اردو سماج کا تقریباً ہر فرد دوچار تھا۔ بالخصوص وہ افراد جو زیادہ حساس اور دردمند دل کے مالک تھے۔ انہوں نے غم و اندوہ کو انگیز کیا۔ ان کے اعصاب بھی جواب دینے لگے مگر چاروناچار یہ سب کچھ سہنا پڑا۔ رشیداحمد صدیقی نے جس طرح محسوس کیا اس کی مثال ادب کے کسی تخلیق کار کے یہاں نہیں ملے گی۔ سماجی انتشار سے رشید صاحب کے اعصاب بھی متاثر ہوئے۔ ان کے اسباب کی نوعیت بھی جداگانہ تھی۔ ایک معاشرہ کے حساس، زندہ اور پرسوز طبیعت رکھنے والے نثرنگار کی حیثیت سے انہوں نے اس کے عوامل پر بھی غور و فکر کیا، وہ خود اقرار کرتے ہیں :
’’علی گڑھ اور علی گڑھ کے باہر چالیس بیالیس سال میں واقع ہونے والے واقعات سے بہت متاثر ہوا۔‘‘
’’پچھلے پچاس سال میں جتنے شدید اور عالمگیر تہلکے یکے بعد دیگرے برپا ہوئے اور جنہوں نے ہمارے ذہن اور زندگی کو جس سفاکی سے زیروزبر کیا اس کی نظیر تاریخ ِ انسانی میں نہیں ملتی۔ ‘‘
’’آشفتہ بیانی میری‘‘ کے یہ حوالے ان کی سوچ اور اضطراب کی جن کیفیات کا پتہ دیتے ہیں ان کی جستجو مشکل نہیں مگر ان کی بازآفرینی کے بغیر رشید صاحب کے اسلوب و انشا کی تفہیم بھی ممکن نہیں ہے۔ کرب کی انہیں کیفیات نے ان کے قلم کو جولانی بخشی ہے۔ وہ تہذیب ِ حجازی کے جلال وجبروت کی آغوش میں پروان چڑھے، شیرازِ شرق کی پرشکوہ عمارتوں کے سکوت میں ابتدائی ذہن نے پرورش پائی، ایوانِ شاہی کے آثار نے ان کے قلب و نظر کی دنیا میں ماضی کی عظمتوں سے عقیدت پیدا کی، مقابر اور مساجد نے سکون و ثبات کے راز سمجھائے اور سنسان بوسیدہ کھنڈرات نے ہستی و نیستی کے راز فاش کئے۔ انہیں کے درمیان علمی اور ثقافتی اداروں کے نشیب و فراز بھی دیکھے اور گومتی کے کنارے کشتی ٔ انسان کو منجدھار میں ڈوبتے اور نکلتے بھی دیکھا۔ شعراء کی بزم خوانی، علماء کی منزہ محفلوں، اور اہلِ دل کی خانقاہوں نے بھی ذہنی تربیت میں نمایاں حصہ لیا۔ یہ دیارِ شرق انہیں تہذیبی علامتوں سے اپنی شناخت کے لئے معروف ہے اور اس کے گرد و نواح کا قصباتی معاشرہ اور اس کی جملہ خصوصیات نے ان کے طرز فکر کو ایک نئی جہت دی۔ انہوں نے خودنوشت میں قلمبند کیا ہے کہ شعور کی تشکیل میں شاہی آثار باقیات ِ پارینہ کے کھنڈروں اور دریائے گومتی کے سکوت ِ شام کو بڑا دخل ہے۔ دیر تک ایک خاص محویت میں وہ اپنا وقت گزارتے۔ اقبال نے لکھا ہے کہ ایسے منظر میں چشم جہاں بین خلیل روشن تر ہوجاتی ہے:
وہ سکوت ِ شام صحرا میں غروبِ آفتاب
جس سے روشن تر ہوئی چشم جہاں بینِ خلیل
شاہانِ شرقی کی پرشکوہ عمارتوں کی خاموش فضا میں انہیں بڑی انسیت محسوس ہوتی۔ وہ ثقافتی ارتفاع اور انحطاط کا احتساب بھی کرتے۔ ایک زود حس اور ذی شعور انسان کے دل و دماغ میں درد و کرب کا پیدا ہونا فطری میلان بنتا گیا۔ ماضی کے گزشتہ روز و شب سے ان کی وابستگی بھی بڑھتی گئی۔ عنفوانِ شباب کی تنہا نشینی اور پایانِ عمر کی خلوت گزینی میں زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ اسی میں ان کی کم آمیزی کا بھی جواز ملتا ہے۔ اسلاف کے پیکار اور فتوحات کا وہ دورِ پرشکوہ اور بیسویں صدی کی یہ محکومی اور معذوری رشید صاحب کو اکثر احتساب کے لئے مجبور کرتی ہے۔ نتیجتاً ان کی تحریر میں سوز و ساز اور درد و داغ کا در آنا حیرت خیز نہیں۔
’’شکستہ تاریخی عمارات، آثارِ قدیمہ دیکھ کر میں بہت متاثر ہوتا ہوں جیسے ان کے آگے جھکنے اور گلے لگا لینے کو دل چاہتا ہے۔ ‘‘
’’جونپور میں جو آثارِ قدیمہ دیکھے تھے اور دیکھا کرتا تھا اور ان کی جیسی منزلت دلی میں تھی، آگرہ اور دہلی کے قلعے، مقبرے اور مسجدوں نے ان کی تصدیق کردی۔ ‘‘(علی گڑھ کی مسجد ِ قرطبہ)
پرشکوہ ماضی کا ایک اظہار وہ شعری محفلیں بھی ہیں جن میں مرثیہ کی رزم خوانی، حق و باطل کی معرکہ آرائی اور شہادت ِ حسینؓ کا واقعہ بھی ہے جس کے بطن سے انقلاب جنم لیتا ہے اور ان سے قوموں کی تقدیریں بدلتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں نعرۂ اللہ اکبر، مردانِ حق کی جاں سپاری، شر کی شکست، چمکتی ہوئی تلواروں میں سایہ نشینی، دعوت و عزیمت کی سربلند داستانوں کی تمام تلمیحات کا جواز اسی سبب ہے۔ ان کے نزدیک جہادِ زندگانی میں ٹوٹی ہوئی تلواریں، بجھی ہوئی آگ، نیم سوختہ لکڑیاں، اجڑے ہوئے خیمے، بکھرے ہوئے اسبابِ حرب و ضرب، شوقِ شہادت، مردان حُر کی اذانیں، مالِ غنیمت اور کشور کشائی سے زیادہ قدر و قیمت کی حامل ہوتی ہیں ۔ بلکہ ان تاریخی واقعات سے رشید صاحب نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کے اسلوب کا آب و تاب ان حادثات سے بڑی گہری معنویت حاصل کرتا ہے۔